جموں و کشمیر
سال 2014کی یادیں تازہ، جہلم کے قہر نے وادی کو لپیٹ میں لیا؛ عوام کا بڑے پیمانے پر انخلا
سری نگر، وادی کشمیر اس وقت ایک بار پھر تباہ کن سیلاب کے دہانے پر کھڑی ہے۔ دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں نے خطرے کے نشان کو عبور کرتے ہی جنوبی کشمیر اور سرینگر کے کئی علاقے زیر آب کر دیے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر انخلا کا حکم صادر کیا ہے جبکہ سیکڑوں راحت رساں اہلکار متاثرہ علاقوں میں دن رات سرگرم ہیں۔
آئی جی کشمیروی کے بردی اور چیف سکریٹری اتل ڈولو کی سربراہی میں ہنگامی جائزہ میٹنگ کے بعد وادی بھر میں احتیاطی انخلا اور ریلیف آپریشن تیز کر دیے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 300 سے زائد ریلیف مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں کھانے پینے کا سامان، پینے کا پانی، ادویات اور بجلی دستیاب کرائی جا رہی ہے۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ میں کئی دیہات مکمل طور پر زیر آب آچکے ہیں۔ سرینگر کے نواحی علاقوں شالینہ اور زین پورہ میں باندھ ٹوٹنے کے بعد لسجن، نوگام، مہجور نگر اور پادشاہی باغ میں پانی گھروں کے اندر داخل ہو گیا۔ فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے بون اینڈ جوائنٹ اسپتال کے نزدیک شگاف کو فوری طور پر ریت کی بوریاں ڈال کر بند کرنے کی کوشش کی، تاہم مزید خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔
این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، پولیس اور ریونیو محکمے کی ٹیمیں کشتیاں اور مشینری لے کر متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں۔ چھ مخصوص ریسکیو مراکز جیسے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول خندہ اور اسلامی پبلک اسکول کرالپورہ میں درجنوں متاثرین کو منتقل کیا گیا ہے۔
پلوامہ کے ایک متاثرہ شہری غلام نبی وانی نے لرزتی آواز میں بتایا:
’ہم نے اپنی زندگی میں ایسا خوف پہلی بار محسوس کیا ہے۔ راتوں کو جاگتے ہیں، بچوں کو محفوظ جگہ لے جانا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔‘
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایندھن، ایل پی جی، ادویات اور اشیائے خوردنی وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور کہیں سے بھی قلت کی اطلاع نہیں ملی۔ ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبرز جاری کر دیے گئے ہیں۔ تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کی بندش نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
ماہر ماحولیات کے مطابق 2014 کے بعد بھی ڈریجنگ اور فلڈ مینجمنٹ کے وعدے پورے نہ ہونے سے وادی آج پھر اسی المیہ کے دہانے پر ہے۔ قدرت کو الزام دینا آسان ہے مگر اصل ناکامی انتظامی منصوبہ بندی میں ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش میں کمی کے آثار ہیں اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو پانی کی سطح اگلے ایک دن میں نیچے آ سکتی ہے۔ تاہم حکام نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے نہایت نازک ہیں اور عوام کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ ستمبر 2014 میں وادی کشمیر ایک صدی کے سب سے بدترین سیلاب کا شکار ہوئی تھی۔ دریائے جہلم نے اُس وقت سرینگر کے بیشتر حصے ڈبو دیے، جس میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 300 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ تجارت، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کو ہزاروں کروڑ کا نقصان پہنچا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کی صورتحال 2014 سے قدرے مختلف ضرور ہے کیونکہ انتظامیہ نے ریسکیو ڈھانچے اور ابتدائی وارننگ سسٹم میں بہتری لائی ہے، تاہم ڈریجنگ، نالوں کی صفائی اور ویٹ لینڈز پر قبضے ختم نہ ہونے کی وجہ سے خطرہ ہر سال بڑھ رہا ہے۔
ایک بزرگ شہری محمد مقبول ڈار کا کہنا ہے کہ 2014 کی تباہی کو آج بھی لوگ بھول نہیں پائے ہیں۔ اگر حکومت نے سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں بھی بار بار اسی خوف میں جئیں گی۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
