جموں و کشمیر
2دن بعددریائے جہلم میں پانی کی سطح خطرے کے نشانات سے نیچے وولر جھیل پھول گئی،حفاظتی اقدامات شروع
نشیبی گاو ں کلہامہ سے رات دیر گئے ایک درجنکنبوں کی محفوظ مقام پر منتقلی
ہاکبارہ، وانگی پورہ، سادنارہ ا ور حاجن کے رہائشیوںکوالرٹ رہنے کامشورہ
سوپور،بانڈی پورہ : جے کے این ایس : موسمی صورتحال میں بہتری اور مزید بارشیں نہ ہونے کے بعد جہاں دریائے جہلم میں سنگم ،پانپور اوررام منشی باغ سری نگرکے مقام پر پانی کی سطح کافی کم ہوکر خطرے کے نشانات سے نیچے آگئی ہے ،وہیں سوپور اور بانڈی پورہ کے درمیان واقع ایشیا ءکی سب سے وسیع العریض قدرتی آبگاہ ’جھیل وولر‘میں پانی کی سطح خطرے کے نشان قریب پہنچ جانے کے بعد نواحی علاقوںکے زیر آب آنے کااندیشہ بڑھ گیا ہے ۔حکام نے متاثرہ علاقوںمیں جانی نقصان سے بچنے کیلئے فوری اقدام کے بطور لوگوں کاانخلاءشروع کردیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جیسے جیسے جہلم اور دیگر اہم معاون ندیوں میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوئی ہے، شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں ولر جھیل میں سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ’بتدریج‘ رہے گا۔
جھیل وولر کے آس پاس کے نشیبی دیہات،جہاں بنیادی طور پر ماہی گیر برادریوں کے گھرہیں، اب تک بڑے پیمانے پر متاثر نہیں ہوئے ہیں، حالانکہ پانی کے گرنے کے خدشات برقرار ہیں۔جمعرات کی رات، انتظامیہ نے جہلم اور ولر کے کنارے واقع کلہامہ گاو ں کے قریب کچھ خاندانوں کو محفوظ جگہ پر منتقل ہونے پر آمادہ کیا۔تحصیلدار بانڈی پورہ فردوس احمد قادری نے بتایاکہ ہم نے سیلاب کی صورتحال کے لیے نوڈل افسران کو مقرر کیا ہے۔
حالات قابو میں نظر آتے ہیں، حالانکہ کلہامہ گاو ¿ں میں خدشات تھے اور چند خاندانوں سے نقل مکانی کی درخواست کی گئی تھی ۔محکمہ اری گیشن وفلڈ کنٹرول کشمیرکی جانب سے جمعہ کی صبح چھ بجے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے جہلم میں سنگم کے مقام پر پانی کی سطح خطرے کے نشان سے نیچے آکر20.54فٹ ریکارڈکی گئی جبکہ پانپورکے مقام پر جہلم میں پانی کی سطح 5.80میٹر اور رام منشی باغ کے مقام پر یہ سطح 20.59فٹ رہ گئی ہے ،جوکہ خطرے کی سطح سے نیچے ہے ۔تاہم محکمہ آبپاشی وسیلاب کنٹرول کشمیرکے مطابق جمعہ کی صبح عشم سونہ واری کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی سطح14.00فٹ تک پہنچ گئی تھی اور یہا ں پانی کی سطح مزید بڑھ جانے کااندیشہ ہے ۔
متعلقہ محکمے کے مطابق جھیل وولر پھول گیاہے ،اور اس جھیل میں صبح چھ بجے تک پانی کی سطح خطرے کے نشان 1578.00کے بالکل نزدیک1576.98میٹر ریکارڈ کی گئی ۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ جھیل وولرمیں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے، اوربطور احتیاط چند خاندانوں کو منتقل کیا گیا ہے، لیکن صورت حال معمول کے مطابق دکھائی دیتی ہے کیونکہ کمیونٹی میں ایسی کوئی گھبراہٹ نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملحقہ گاو ¿ں والے بھی چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں، لیکن روزمرہ کے کام کے معمولات متاثر نہیں ہوئے ہیں۔
ایگزیکٹیو انجینئر اریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول بانڈی پورہ، مطیب بشیر شاہ نے گریٹر کشمیر کو بتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ جھیل وولر میں پانی کی سطح بتدریج بڑھے گی۔ محکمہ آبپاشی وسیلاب کنٹرول کشمیر نے، ضلعی انتظامیہ کے مسلسل تعاون کے ساتھ، کل آدھی رات تک تمام پیشگی اقدامات کیے تاکہ جہلم اور دیگر آبی ذخائر کی موجودہ سیلابی حالت کی وجہ سے کسی بھی صورت حال سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید کہاکہ لیکن ہم توقع کرتے ہیں کہ وولر جھیل اور اس کے اطراف کے علاقوں میں پانی کی سطح بڑھے گی۔ اضافہ بہت بتدریج ہوگا۔ مقامی لوگوںنے بھی کہا کہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ اس طرح کے حالات سے بخوبی واقف ہیں، کیونکہ یہ بستیاں ولر جھیل کے اندر ہیں جب اسے سیلابی طاس دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاچونکہ اضافہ بتدریج ہوتا ہے، اس لیے لوگ بھی وقت پر اپنے سامان کو سنبھال کر اس کے مطابق کام کرتے ہیں۔اس کے باوجود انتظامیہ نے پہلے ہی کسی بھی مدد کے لیے مقامی نوڈل افسران کو نامزد کر دیا ہے۔
دریں اثناءمعلوم ہواکہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں حکام نے جمعرات کی شام دیر گئے کلہاما گاو ¿ں سے کم از کم 11 کنبوں کو نکالا کیونکہ وولر جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے ان کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ایک اہلکار نے بتایا کہ وولر میں گیج جمعرات کورات کے11 بجے کے قریب1578.00 میٹر کے خطرے کے نشان کے مقابلے میں 1576.00 میٹر کو چھو گیا، جس سے حکام کو کمزور گھرانوں کو منتقل کرنے پر مجبور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خاندانوں کو احتیاطی اقدام کے طور پر گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول نادہ ہل منتقل کیا گیا ہے۔عشم کے مقام پر جہلم میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد حاجن کے علاقے میں بھی خوف پھیل گیا، جہاں دریا 14 فٹ سے زیادہ کو چھو چکا تھا۔قبل ازیں ہاکبارہ، وانگی پورہ، سادونارا اور حاجن کے رہائشیوں نے کمزور پشتوں کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجائی تھی، لیکن حکام نے یقین دلایا کہ صورتحال پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جا رہی ہے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان6 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
