جموں و کشمیر
لیہہ میں تیسرے دن کرفیوجاری،کارگل سمیت7حساس علاقوںمیں پابندیاں برقرار
بحالی امن کیلئے وزارت داخلہ کی فوری مذاکراتی پہل
27 یا 28 ستمبر کو نئی دہلی میں LABاورKDAنمائندوںکیساتھ اہم تیاری میٹنگ
سری نگر :جے کے این ایس : مرکزی زیرانتظام علاقے لداخ کی راجدھانی لیہہ شہر میں بغیرکسی نرمی کے جمعہ کو مسلسل تیسرے دن کرفیو نافذجاری اورکارگل، نوبرا، زنسکار، پدم، چانگ تھانگ، دراس اور لامایورو میں پابندیاں برقرار رہنے کے بیچ وزارت داخلہ کی ایک ٹیم نے سیکورٹی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے یہاں کئی میٹنگیں کیں۔
حکام نے بتایا کہ کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔بدھ کی شام کولیہہ قصبے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا ،جب LABکی کال پر’ ریاستی درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کی لداخ میں توسیع کے مطالبے‘کولیکر ہوئے احتجاج کے دوران وسیع پیمانے پر تشدد کے نتیجے میں4 افراد کی موت اور کئی سیکورٹی اہلکاروں سمیت90 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے جمعہ کوبتایا کہ لداخ میں سیکورٹی کی مجموعی صورتحال پرامن رہی۔ لوگوں کو ضروری اشیاءخریدنے کی اجازت دینے کیلئے دن کے آخر میں پابندیوں میں نرمی کا امکان ہے۔وسیع پیمانے پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد 50 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جب کہ کرگل سمیت دیگر7 بڑے قصبوں میں بی این ایس کی دفعہ163کے تحت5 یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی کے احکامات کے تحت سخت پابندیاں بھی نافذ رہیں۔پولیس اور نیم فوجی دستے انسدادفسادات کی وردیوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے سنسان گلیوں میں گشت کرتے نظر آئے۔بہت سے علاقوں میں لوگوں نے شکایت کی کہ ان کے پاس راشن، دودھ اور سبزیوں سمیت ضروری سامان کی کمی ہے۔لیہہ کے ضلع مجسٹریٹ رومیل سنگھ ڈونک نے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو جمعہ سے2دن کےلئے بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ اس کے علاوہ آنگن واڑی مراکز بھی بند رہیں گے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کے عہدیداروں کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے جمعرات کو لیہہ پہنچی۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر اور سول اور پولیس افسران کے علاوہ ایل اے بی کے نمائندوں کےساتھ سلسلہ وار ملاقاتیں کیں۔میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارت داخلہ کےساتھ ایک تیاری میٹنگ27 یا 28 ستمبر کو نئی دہلی میں ہوگی، جو کہ مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے تاریخ کی تصدیق سے مشروط ہے۔
میٹنگ میں لیہہ ایپیکس باڈیLAB اور کارگل ڈیموکریٹک الائنسKDA کے تین تین نمائندوں کے علاوہ لداخ کے ایم پی (محمد حنیفہ جان) بھی شرکت کریں گے۔ لیہہ ایپیکس باڈیLAB کے چیئرمین تھوپستان چھیوانگ اور شریک چیئرمین چیرنگ دورجے کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تیاری اجلاس کے بعد وزارت داخلہ کی ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کےساتھ ایک فوری سرکاری میٹنگ ہو گی جس میں LAB اور KDA کے7 اراکین4 نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات ہوں گے۔ایل اے بی اور کے ڈی اے اپنے مطالبات’ لداخ کوریاست کا درجہ، آئین کے چھٹے شیڈول میں توسیع، لیہہ اور کارگل کے لیے الگ لوک سبھا کی نشستوں اور پبلک سروس کمیشن کی حمایت میں گزشتہ4 سالوں سے مشترکہ طور پر ایک ایجی ٹیشن کی قیادت کر رہے ہیں۔انہوں نے ماضی میں حکومت کے ساتھ بات چیت کے کئی دورکئے ہیں، ملازمتوں کی ضمانتوں اور لوک سبھا کی اضافی نشست کے بارے میں ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں جس کا فیصلہ حد بندی کمیشن کرے گا، جس سے ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول کے مطالبے پر توجہ دی جائے گی۔ مرکز کے ساتھ بات چیت کا اگلا دور 6 اکتوبر کو طے ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
