جموں و کشمیر
رواں سال آٹھ درانداز ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد، سرحدی دفاع مضبوط: بی ایس ایف کی سالانہ رپورٹ
سری نگر ، بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کشمیر فرنٹیئر نے رواں سال کے دوران نہ صرف لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی موثر نگرانی اور آپریشنل کامیابیوں میں ایک نئی تاریخ رقم کی بلکہ قومی سلامتی، دہشت گردی کے انسداد، شہری بہبود اور جدید جنگی صلاحیتوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق بی ایس ایف نےفوج کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں وادی کشمیر کے 343 کلومیٹر طویل ایل او سی کی بھرپور ڈومینیشن کو یقینی بنایا، ساتھ ہی اہم تنصیبات کی سیکیورٹی اور مقامی آبادی کے تحفظ میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
بی ایس ایف کی یونٹیں سخت ترین موسمی حالات، دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور دشمن کی جانب سے بی اے ٹی کاروائیوں اور فدائین حملوں جیسے مستقل خطرات کے باوجود مکمل پیشہ ورانہ ذمہ داری سے لائن آف کنٹرول کا دفاع کرتی رہی ہیں۔ بارہ مولہ اور ہنڈواڑہ کے حساس سیکٹروں میں تعینات بی ایس ایف کی اینٹی انفلیٹریشن ٹیموں نے نہ صرف اپنے علاقوں میں مکمل کنٹرول برقرار رکھا بلکہ فوجی قافلوں اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔
سال بھر میں بی ایس ایف اور فوج کی مشترکہ کارروائیوں نے دشمن کے ہر دراندازی منصوبے کو ناکام بنایا، جس کے نتیجے میں وادی کشمیر سے کسی بھی دراندازی کی کوشش کو کامیاب ہونے نہیں دیا گیا۔ سینٹرل فورسز اور جے کے پولیس کے ساتھ مضبوط ہم آہنگی نے اندرونی علاقوں میں بھی سیکیورٹی گرِڈ کو مستحکم رکھا، خاص طور پر سالانہ امرناتھ یاترا کے دوران، جسے مکمل پرامن ماحول میں جاری رکھا گیا۔
سالانہ جائزہ میں بی ایس ایف کا سب سے نمایاں کارنامہ مئی 2025 میں شروع ہونے والا آپریشن ’سندور‘ قرار دیا گیا، جس کا پہلا مرحلہ 6 سے 10 مئی کے دوران انجام دیا گیا۔ اس آپریشن میں بی ایس ایف اور فوج نے مشترکہ طور پر پاکستان کے متعدد لانچنگ پیڈز، دشمن کی سرحدی چوکیوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر براہ راست اور انتہائی مؤثر فائر حملے کیے۔
بی ایس ایف کی آرٹلری ریجمنٹ نے شدید اور درست گولہ باری کرتے ہوئے دشمن کے کئی بنکر تباہ کر دیے، جبکہ متعدد پاکستانی اہلکاروں کو بھاری جانی نقصان پہنچا۔ کچھ دہشت گرد لانچنگ پیڈ مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
اس تاریخی کارروائی پر ہندوستان کے وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے سربراہان نے بی ایس ایف کشمیر فرنٹیئر کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’اعلیٰ سطح کی جنگی پیشہ واریت‘ کا مظہر قرار دیا۔ مشکل جغرافیائی حالات، خطرناک دشمن فائر اور برفیلے مقامات کے باوجود جس طرح بی ایس ایف نے درست، تیز اور منصوبہ بند کارروائی انجام دی۔
رواں سال کے دوران بی ایس ایف نے فوج، آر آر، جموں وکشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ 22 مشترکہ آپریشن انجام دیے جن میں متعدد دہشت گرد مارے گئے اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا، جن میں اے کے 47، ایم پی 5 رائفل، پستول، چینی ساختہ دستی بم، یو بی جی ایل اور مختلف کیلیبر کے کارتوس شامل تھے۔
انٹیلی جنس ونگ نے 69 فعال لانچنگ پیڈز کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے اہم معلومات فراہم کیں، جہاں 100 سے 120 تک دہشت گرد دراندازی کے انتظار میں موجود رہتے ہیں۔
پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے افسوسناک حملے کے بعد بی ایس ایف کی تربیت یافتہ اینٹی ٹیرر ٹیموں کو گلمرگ باؤل میں تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے جے کے پولیس کے ساتھ مل کر سیاحتی مقامات کی سیکیورٹی مضبوط بنائی اور مسلسل گشت و چوکسی کے ذریعے ماحول کو محفوظ بنانے کا کام انجام دیا۔
مہادیو رینج کے شمالی حصے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے بی ایس ایف نے آر آر، ایس او جی گاندربل اور سی آر پی ایف کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں انجام دیں۔
اونچی چوٹیوں پر عارضی آپریٹنگ بیس قائم کیے گئے اور بالآخر 28 جولائی 2025 کو دہشت گردوں کے ایک گروپ کو مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔
یاترا کے دوران ضلع اننت ناگ، کولگام، سرینگر اور گاندربل میں زائرین کی حفاظت کے لیے بی ایس ایف نے 128 کمپنیاں تعینات کیں۔ پہاڑی راستوں پر خصوصی ماؤنٹین ریسکیو ٹیمیں، ڈیزاسٹر رسپانس دستے، ہنگامی طبی ٹیمیں اور چار میڈیکل کیمپ و تین ویٹرنری مراکز قائم کیے گئے تاکہ ہر ضرورت کی فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
بی ایس ایف کشمیر فرنٹیئر نے خواتین کی شمولیت بڑھانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے مہلا جوانوں کو تعینات کیا، جہاں وہ خواتین اسمگلروں اور دہشت گردوں کی معاونین کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ اقدام سرحدی دیہات کی خواتین میں اعتماد بڑھانے کا باعث بھی بنا ہے۔
دنیا میں بدلتی جنگی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے بی ایس ایف نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا ہے۔ بی ایس ایف ڈرون وارفیئر اسکول گوالیار میں قائم کیا گیا ہے، جہاں اہلکاروں کو ڈرون ڈیزائننگ، اسلحہ سازی، جیمِنگ سسٹمز اور مصنوعی ذہانت پر تربیت دی جا رہی ہے۔
دہلی اور امرتسر میں ڈرون فرانزک لیبز بھی قائم کی گئیں، جبکہ بھومی پروگرام کے تحت بھارتی اسٹارٹ اپس کے ساتھ مل کر سرنگوں کی نشاندہی، ڈرون مخالف نظام اور نئی کمیونیکیشن تکنیکوں پر کام ہو رہا ہے۔
بی ایس ایف نے اس سال مہاراشٹر یاترا، اسکل ڈیولپمنٹ، فری میڈیکل و ویٹرنری کیمپس، بُھارت درشن ٹورز، اینٹی ڈرگ مہم، پری ریکروٹمنٹ کیمپس اور دیگر فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے سرحدی عوام کو قومی سلامتی کا شراکت دار بنایا۔
آزادی کی 79ویں سالگرہ پر 79 کلومیٹر کی میگا سائیکل ریلی اور اکتوبر میں وُلر ہاف میراتھن 2.0 کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی کڑی تھے۔
سال بھر میں بی ایس ایف نے آفات میں پھنسے کئی شہریوں کو بچایا۔ رازدان پاس، شمشاد بری رینج اور دیگر برفانی علاقوں میں پھنسے 15 سے زائد افراد کو بروقت نکالا گیا، جبکہ سرحدی علاقوں میں آگ اور حادثات کے دوران بھی بی ایس ایف ہمیشہ پہلی امداد فراہم کرنے والی فورس رہی ہے۔
انسپکٹر جنرل کشمیر فرنٹیئر، اشوک یادو، نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’بی ایس ایف ہمیشہ وادی کے عوام کی خدمت کے لیے موجود ہے، ان کی سلامتی اور بھلائی ہماری اولین ترجیح ہے۔‘
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
