فن و ادب
بے مثال حسن کی ملکہ نلنی جیونت
(بیس دسمبر برسی کے موقع پر)
ممبئی، بالی وڈ کی گزرے زمانے کی بے حد خوبصورت اداکارہ نلنی جینت کی پیدائش 18 فروری 1926 کو ممبئی کے ایک مراٹھی خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد کسٹم آفیسر جبکہ والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ ان کے دو بھائی بھی تھے۔ نلنی کو بچپن سے ہی رقص کا بے حد شوق تھا، جس میں ان کے والد نے ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے ہیرا بائی جویری سے کلاسیکی موسیقی کی تربیت بھی حاصل کی۔ وہ کاجول کی نانی شوبھنا سمرتھ کی خالہ زاد بہن تھیں۔
نلنی کو فلموں سے بے حد محبت تھی۔ ان کے گھر کے پاس ’سواستک‘ نامی سنیما ہال تھا، جہاں وہ اکثر فلمیں دیکھنے جایا کرتی تھیں۔ وہ فلموں میں کام کرنا چاہتی تھیں۔ اس کی دو وجوہات تھیں، ایک تو ان کی بہن شوبھنا پہلے ہی سے فلموں میں تھیں اور دوسرا انہیں خود فلموں سے گہری دلچسپی تھی۔ اس لئے وہ اس فیلڈ میں کیرئر بنانا چاہتی تھیں۔
اگرچہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کبھی یہ خواہش ظاہر نہیں کی کیونکہ ان کے والد فلموں میں کام کرنے کے سخت خلاف تھے۔ وہ اپنی بھانجی شوبھنا سمرتھ کو بھی فلمی دنیا میں کام کرنے کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے، یہاں تک کہ کئی بار انہیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ اسی وجہ سے شوبھنا کی والدہ نے ان سے تمام رشتے منقطع کرلیے تھے اور الگ رہنے لگی تھیں۔
ایک روز واقعہ ہے نلنی اپنی خالہ کے گھر شوبھنا کی سالگرہ پر گئی تھیں۔ پارٹی کے دوران فلم پروڈیوسر چمن لال دیسائی کی نظر 14 سالہ نلنی پر پڑی۔ وہ اپنی آنے والی فلم رادھیکا کے لیے ہیروئن کی تلاش میں تھے۔ نلنی کو دیکھتے ہی انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہی ان کی فلم کی ہیروئن ہوں گی۔
جب یہ بات نلنی کے والد کو معلوم ہوئی تو انہوں نے واضح طور پر انکار کر دیا، لیکن چمن لال نے کافی سمجھایا کہ وقت بدل چکا ہے اور اب فلموں میں کام کرنا برا نہیں سمجھا جاتا۔ آخرکار ان کے الد کو راضی ہونا پڑا اور 1941 میں فلم رادھیکا سے نلنی نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔
فلم رادھیکا میں نلنی نے اداکاری کے ساتھ کچھ گانے بھی گائے۔ انہوں نے تین سولو گانے اور چار گانے ہریش، نورجہاں اور ماروتی راؤ کے ساتھ گائے۔ دوسری فلم ‘بہن‘ میں بھی انہوں نے چار گانے گائے۔ بعد میں بھی کئی فلموں میں وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کرتی رہیں۔
نلنی کی پہلی فلم کے ڈائریکٹر چمن لال کے بیٹے ویریندر دیسائی تھے۔ شوٹنگ کے دوران دونوں میں دوستی ہوئی اور پھر دوستی محبت میں بدل گئی۔ ویریندر پہلے سے شادی شدہ تھے اور ایک بچے کے باپ بھی تھے اور عمر میں نلنی سے کافی بڑے تھے۔ اس کے باوجود دونوں نے 1945 میں شادی کر لی۔ دونوں خاندان اس شادی کے خلاف تھے، حتیٰ کہ ویریندر کو ان کے والد نے گھر سے بے دخل کردیا تھا۔
گھر سے نکالے جانے کے بعد نلنی اور ویریندر فلمستان اسٹوڈیو میں دو ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے لگے اور وہیں قریب ہی ملاڈ میں ایک بنگلہ کرائے پر لے لیا۔ کافی عرصے تک دونوں کو فلموں میں کام نہیں ملا، تاہم اسٹوڈیو کے مالک ششدھر مکھرجی انہیں تنخواہ دیتے رہے۔
فلموں میں کام نہ ملنے کی ایک وجہ یہ رہی کہ نلنی نے فلموں کے لئے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ صرف اسی فلم میں کام کریں گی جس کی ہدایتکاری ان کے شوہر کریں گے۔ اس بات پر ششدھر مکھرجی ان سے ناراض ہو گئے۔ فلموں میں نظر نہ آنے کی وجہ سے ناظرین انہیں فراموش کرنے لگے، جس کا اثر ان کی ازدواجی زندگی پر بھی پڑا۔ روز کے جھگڑوں کے بعد تین برس میں ہی ان دونوں میں طلاق ہو گئی۔ اس دوران ان کی صرف ایک فلم ’پھر بھی اپنا ہے‘ ریلیز ہوئی۔
طلاق کے بعد نلنی کا کیریئر دوبارہ چل پڑا۔ 1948 میں ان کی دو فلمیں انوکھا پیار اور گنجن ریلیز ہوئیں۔ انوکھا پیار میں وہ دلیپ کمار کے ساتھ نظر آئیں اور دونوں کی جوڑی کافی پسند کی گئی۔
نلنی نے اشوک کمار کے ساتھ بھی کئی فلمیں کیں۔ فلم بینوں کو بھی ان کی جوڑی کافی پسند تھی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کے درمیان افیئر بھی رہا۔ سال 1953 کی فلم سمادھی کی شوٹنگ کے دوران دونوں قریب آگئے، لیکن سات سال بعد دونوں الگ ہو گئے۔ فلم سمادھی کا گانا ’گورے گورے او بانکے چھورے‘ اور فلم ’نوجوان‘ کا ’ٹھنڈی ہوائیں لہراکے آئیں‘ آج بھی سامعین کو مسحور کردیتے ہیں۔
نلنی 40 اور 50 کی دہائی میں خوبصورتی میں مدھوبالا کو ٹکر دیتی تھیں۔ سال 1952 میں فلم فیئر میگزین نے ایک پول کیا تھا جس میں وہ خوبصورتی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر رہی تھیں۔ سال 1951 میں انہوں نے ایک میگزین کے لیے بولڈ فوٹو شوٹ بھی کروایا جو کافی سرخیوں میں رہا۔ نلنی کی دیگر فلموں میں بہن، انوکھا پیار، پھر بھی اپنا، راہی، باپ بیٹی، نیلمنی اور کالا پانی اہم ہیں۔
فلم منیم جی میں نلنی اور اداکار پربھو دیال لیڈ رول میں نظر آئے۔ شوٹنگ کے دوران دونوں کو محبت ہو گئی اور فلم امر رہے کی شوٹنگ کے دوران ہی دنوں نے شادی کر لی۔ سال 1965 میں فلم بمبئی ریس کورس کے بعد انہیں لیڈ رول آفر نہ ملنے کے باعث انہوں نے فلموں سے کنارہ کر لیا۔
اگرچہ 18 سال بعد وہ فلم ناستک میں نظر آئیں، جس میں انہوں نے امیتابھ بچن کی ماں کا کردار ادا کیا، لیکن اس کے بعد انہوں نے مکمل طور پر فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا۔تقریباً دو دہائیوں پر محیط فلمی کیریئر میں نلنی جینت نے 60 فلموں میں چھوٹے بڑے کردار ادا کیے۔ان کی ذاتی زندگی بھی جدوجہد سے بھری رہی۔
نلنی شوہر پربھو دیال کے سال2001 میں انتقال کے بعد پوری طرح ٹوٹ کر رہ گئیں۔ انہوں نے باہر آنا جانا چھوڑ دیا اور چیمبور کے یونین پارک میں واقع اپنے گھر میں تنہائی کی زندگی گزارنے لگیں۔ رشتہ داروں سے بھی رابطہ منقطع ہو گیا۔
تنہائی میں ہی 20 دسمبر 2010 چیمبور میں کاجول کی نانی شوبھنا سمرتھ کی بہن اور اداکارہ نلنی جینت کا انتقال ہوا۔ ان کے گھر میں لاش تین دن تک پڑی رہی۔ پڑوسیوں کو بھی اس کی کوئی خبر نہیں تھی۔ موت کے تین دن بعد ایک نوجوان ایمبولینس لے کر آیا، خود کو نلنی جینت کا رشتہ دار بتا کر ان کی لاش لے گیا۔
زندگی کے آخری وقت ان کے پاس کوئی نہیں تھا۔ ان کی حالت اتنی خراب تھی کہ گھر کا خرچ چلانے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ پڑوسیوں کے مطابق وہ بالکل تنہا رہتی تھیں۔ ان کے انتقال کے بعد نہ کوئی پولیس کارروائی ہوئی اور نہ ہی کوئی ان کے گھر گیا۔ موت کے بعد سے ہی گھر پر تالا لگا رہا۔
یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
نئی دہلی، معروف اداکار، فلم ساز اور تھیٹر فنکار نانا پاٹیکر، جن کی پُرجوش اداکاری، منفرد آواز اور انسانی جذبات سے بھرپور کرداروں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار کردار دیے، جمعرات کی صبح 75 سال کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ 5 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ایک شاندار فلمی سفر کا اختتام ہو گیا۔
نانا پاٹیکر، جن کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا، کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر منی پال اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن صبح 5:20 بجے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
ان کے اچانک انتقال کی خبر سے ہندوستانی فلمی صنعت میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے صرف ایک معروف اداکار کے انتقال پر افسوس نہیں کیا بلکہ ایسے فنکار کے کھو جانے کا دکھ منایا جس کی محض ایک نظر، ایک لمحے کی خاموشی یا مکالمے کی ایک سطر بھی پردے کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ نانا پاٹیکر کبھی روایتی معنوں میں فلمی ستارہ نہیں رہے۔ وہ ایسے اداکار تھے جو عام لوگوں کی جذباتی دنیا میں اتر جاتے تھے، ان کے غصے، زخموں، بے بسی، مزاحمت، کمزوری اور کبھی کبھی بے باک مزاح کو اپنے کرداروں میں پوری سچائی سے پیش کرتے تھے۔
ان کی اداکاری میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو مرکزی دھارے کی فلموں کے بناوٹی انداز کو قبول نہیں کرتی تھی۔ ان کی منفرد آواز اور مکالمے ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت عام سے عام جملے کو بھی جذبات اور اثر سے بھر دیتی تھی۔ وہ اپنی آواز بلند کیے بغیر بھی پورے منظر پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور خاموشی کے ذریعے بھی کسی کردار کی پوری جذباتی داستان بیان کر دیتے تھے۔
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے مشکلات سے بھرے بچپن کے بعد اپنی نسل کے سب سے قابل احترام اداکاروں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے 1978 میں ‘گمن’ کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا اور ہندی و مراٹھی فلموں میں مشکل اور چیلنجنگ کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لیے ایک منفرد مقام بنایا۔
ان کی اصل شناخت ایسے کرداروں سے بنی جن میں ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اداکاری کی طاقت اور شخصیت کا اثر درکار تھا۔ 1989 کی فلم ‘پرندہ’ میں بے رحم انا کا خوفناک کردار ادا کرنے پر انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘پراہار: دی فائنل اٹیک’ میں شاندار اداکاری کی، جس کی ہدایت کاری بھی انہوں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ ‘انگار’، ‘ترنگا’، ‘اگنی ساکشی’ اور ‘خاموشی: دی میوزیکل’ جیسی فلموں میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ۔ایم جے
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
