ہندوستان
منریگا کے لیے جنگ لڑی تھی اور اب اس کے خاتمے کے خلاف لڑوں گی: سونیا گاندھی
نئی دہلی، کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ منریگا کی جگہ نیا قانون لا کر غریبوں کو روزگار کے حق سے محروم کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مودی حکومت 11 سالوں سے اس قانون کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اب اس نے غریبوں کے روزگار کے لیے بنائے گئے اس قانون کو ختم کر دیا ہے۔ اس نے کہا کہ انہوں نے غریبوں کے لیے روزگار کے حق کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے اور اب وہ منریگا کے خاتمے اور غریبوں کے حق سے انکار کے خلاف لڑیں گی۔
محترمہ سونیا گاندھی نے ہفتہ کے روز یہاں ایک ویڈیو پیغام میں کہا، “مجھے اب بھی یاد ہے کہ 20 سال پہلے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی میں منریگا قانون پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ یہ انقلابی قدم تھا جس سے لاکھوں دیہی خاندانوں کو فائدہ پہنچا۔ یہ لاکھوں غریبوں کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ بن گیا، جس سے خاص طور پر محروموں، استحصال زدہ، غریبوں، اور انتہائی غریبوں کے اپنے گھر، اپنے روزگار، اور اہل وعیال کو چھوڑ کر نقل مکانی کرنے کی روایت پر روک لگی۔ اس کے ذریعہ روزگار کا قانونی حق دیا گیا، اور گرام پنچایتوں کو منریگا کے ذریعے بااختیار بنایا گیا، مہاتما گاندھی کے گرام سوراج کے خواب کے ہندوستان کی طرف ٹھوس قدم بڑھایا گیا۔
انہوں نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ شروع سے ہی اس اسکیم کو نظر انداز کر رہی ہے اور گزشتہ 11 سالوں میں دیہی علاقوں کے بے روزگاروں، غریبوں اور محروموں کے مفادات کو نظر انداز کرکے منریگا کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اگرچہ یہ قانون کووڈ-19 کے بحران کے دوران غریبوں کے لیے لائف لائن ثابت ہوا، لیکن یہ افسوسناک بات ہے کہ حکومت نے حال ہی میں منریگا کو بلڈوز کردیا۔ اس اسکیم سے نہ صرف مہاتما گاندھی کا نام ہٹا دیا گیا بلکہ منریگا کی نوعیت کو بھی بغیر کسی بحث، مشاورت اور اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر من مانے طور پر تبدیل کر دیا گیا۔ اب زمینی حقائق سے ہٹ کر دہلی میں بیٹھی حکومت فیصلہ کرے گی کہ کس کو روزگار ملے گا، کتنا، کہاں، کس قسم کا روزگار ملے گا۔ کانگریس نے منریگا کو متعارف کرانے اور اس کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا، لیکن یہ کبھی بھی پارٹی سے متعلق مسئلہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ قومی اور عوامی مفاد سے سروکار رکھنے والی اسکیم تھی۔ اس قانون کو کمزور کرکے مودی حکومت نے لاکھوں کسانوں، مزدوروں اور بے زمین دیہی غریبوں کے مفادات پر حملہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم سب اس حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بیس سال پہلے بھی، میں نے اپنے غریب بھائیوں اور بہنوں کے لیے روزگار کے حق کے لیے جدوجہد کی تھی۔ آج بھی، میں اس کالے قانون کے خلاف لڑنے کے لیے پرعزم ہوں۔ میرے جیسے تمام کانگریسی لیڈر اور لاکھوں کارکن آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
