ہندوستان
بنگلہ دیش شدید عدم استحکام کے سائے میں انتخابات کی جانب گامزن
نئی دہلی، بنگلہ دیش چار اہم شعبوں سیاست، معیشت، امن و امان اور بین الاقوامی تعلقات میں غیر معمولی عدم استحکام کے دور میں انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے اسی دوران ملک کی سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیا کو ان کے شوہر، سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الرحمٰن کے پہلو میں سپردِ خاک کردیا گیا ہے یہ منظر بذاتِ خود اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش اپنی 54 سالہ قومی تاریخ میں بار بار جمہوریت اور فوجی اقتدار، عدم استحکام اور ترقی کے درمیان گردش کرتا رہا ہے۔ انتخابی ماحول، قانون کی حکمرانی اور سیاسی اعتماد سے متعلق سوالات ایک بار پھر پوری شدت سے ابھر آئے ہیں۔
اسی کے ساتھ یہ خدشات بھی برقرار ہیں کہ اگر ماضی کی طرح کسی بڑی سیاسی قوت کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا تو کیا واقعی استحکام واپس آسکے گا؟ دریں اثنا، انتخاب میں شامل جماعتیں اپنے اپنے ووٹ بینک کو مستحکم کرکے اپنے حق میں سیاسی ماحول سازگار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
بنگلہ دیش کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کے پیش نظر عالمی توجہ اب اس کے سیاسی مستقبل پر مرکوز ہیں۔
اگست 2024 سے بنگلہ دیش مسلسل بدامنی کا شکار ہے۔ عبوری حکومت مجموعی حالات کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے، بلکہ تب سے بنگلہ دیش ملکی اور غیر ملکی انتشار میں مبتلا رہا ہے۔
انتخابی ماحول پر شکوک و شبہات بدستور موجود ہیں۔ اگر حکومتی غلطیاں ووٹنگ کے حالات کو مزید نقصان پہنچاتی ہیں اور نتیجتاً غیر شمولیتی انتخابات ہوتے ہیں تو ملکی و علاقائی جغرافیائی سیاست دونوں متاثر ہوں گی اور مثبت عالمی روابط مزید کمزور پڑ سکتے ہیں۔
اختیارات رکھنے والوں کی لغزشوں نے پہلے ہی سپلائی چین اور اقتصادی تعاون پر طویل المدتی عدم استحکام کے اثرات ڈالنا شروع کر دیے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ہجوم کو متحرک کرکے کنٹرول برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی نے قانون کی حکمرانی، میڈیا کی آزادی اور اختلافِ رائے کے احترام کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔
اس تلخ حقیقت کے دوران اختلافِ رائے رکھنے اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم حملوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مزید برآں ہجومی تشدد، میڈیا دفاتر کو نذرِ آتش کرنے، صحافیوں کی گرفتاری اور سیاسی تشدد کے واقعات نے صورتحال کو نہایت تشویشناک بنا دیا ہے۔
اسی دوران سیاسی جماعتوں کے اندر پائے جانے والے باہمی شکوک و شبہات نے سیاسی استحکام کے امکانات کو کمزور اور غیر جانبدار، شمولیتی انتخابات کے امکان پر نئے سوالات اٹھادیے ہیں۔
بیگم خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور سیاسی وارث طارق رحمان کی جانب سے بنگلہ دیش کی سرزمین پر 17 برس بعد اپنی پہلی تقریر میں بار بار “امن” کے ذکر کو نوٹ کرتے ہوئے یہی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اور دیگر رہنما حملوں اور ہجومیت (Mobocracy) پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے۔
اگرچہ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کو زیادہ سے زیادہ غیر جانبدارانہ انداز میں کرانے کی کوشش کرے گا، تاہم اس نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ آئندہ انتخابات مکمل طور پر شمولیتی نہیں ہوں گے۔ عملی طور پر انتخابی مقابلہ بڑی حد تک بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے درمیان محدود رہنے کی توقع ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں گزشتہ 16 برسوں میں شیخ حسینہ کی مخالف تحریک کے دوران ایک ہی سیاسی بلاک کا حصہ رہی ہیں، مگر آج اقتدار کی جدوجہد میں ایک دوسرے کی حریف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والا دور بنگلہ دیش کے جمہوری اور ادارہ جاتی مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوگا، جبکہ معیشت کو مستحکم کرنے کے حوالے سے سنگین چیلنجز بھی درپیش ہوں گے۔
سیاسی عدم استحکام نے معیشت کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور کاروباری طبقہ مسلسل ہراسانی کا شکار ہے۔ عدم استحکام کبھی بھی کاروبار دوست نہیں ہوتا؛ یہ اقتصادی رفتار کی بحالی کو روکتا ہے۔ اسی لیے معتبر اور شمولیتی انتخابات کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انتخابی عمل سے اخراج سے متعلق ماضی کی غلطیوں کو دہرانا بحران کو کم کرنے کے بجائے مزید شدت دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پرتشدد سیاست دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے اور اقتدار سنبھالنے والوں کے لیے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش گزشتہ چودہ ماہ سے پرتشدد سیاست میں پھنسا ہوا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے بعض حلقے اب کھلے عام طرزِ حکمرانی، احتساب اور ادارہ جاتی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
تشدد، تباہ کن سیاسی پروگراموں اور ہجومی سیاست نے عوام میں منصفانہ ووٹنگ کے امکان کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کردی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران محض جماعتی رقابت کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل سیاسی پولرائزیشن اور جمہوری اداروں کے بتدریج کمزور ہونے کا ماحصل ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد خطرناک حد تک گر چکا ہے۔ سیاسی مکالمہ الزام تراشی اور خطیبانہ نعروں تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ مخالفین کو غیر مؤثر بنانے کے سوا کوئی ٹھوس تبدیلی نظر نہیں آتی۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اس بحران کا حل صرف سیاسی ہے، اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
اس غیر یقینی صورتحال میں طارق رحمان کی واپسی نے کسی حد تک امید رمق دکھائی ہے۔ ایک بڑے سیاسی رہنما کی حیثیت سے ان کی واپسی ایک نازک موڑ پر ہوئی ہے۔ ان کی والدہ بیگم خالدہ ضیا وزیرِاعظم رہ چکی ہیں اور ان کے والد ضیاء الرحمٰن صدر اور مجاہد آزادی تھے۔
ان کی واپسی کے دن ڈھاکہ میں عوام کا سمندر امڈ آیا اور بی این پی نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ طارق رحمان نے 17 منٹ کی منظم تقریر کی جس میں انہوں نے مخالفین پر حملہ کرنے سے گریز کیا۔
ایسے وقت میں جب بنگلہ دیشی سیاست میں ہندوستان مخالف بیانیہ مقبول ہوچکا ہے، انہوں نے اس راستے کو اختیار نہیں کیا۔ نہ انہوں نے اختلاف کرنے والوں کو نشانہ بنایا، نہ عوامی لیگ کا ذکر کیا، نہ شیخ حسینہ کا نام لیا اور نہ ہی “فاشسٹ” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس کے بجائے انہوں نے مستقبل کے لیے اپنے وژن اور منصوبوں پر بات کی اور مثبت سیاسی کلچر کی بحالی پر زور دیا۔
بہت سے لوگ ان کی تقریر اور واپسی دونوں کو مجموعی سیاسی ماحول کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھتے ہیں، جسے “جھلستی ریت پر ہلکی بارش” سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ یہ راحت کتنی دیر قائم رہتی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔
طارق رحمان کے سامنے فوری چیلنج یہ ہے کہ آنے والے انتخابات یقینی بنائے جائیں۔ اس کے بعد کہیں بڑے چیلنجز ہیں: سیاست کو تشدد سے دور لے جانا، مخالفین کے خلاف ہجوم کے تشدد کا خاتمہ، قانون کی حکمرانی کی بحالی، معیشت کا استحکام، میڈیا پر حملوں کا خاتمہ اور صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات واپس لینا۔
فکر مند کاروباری رہنما صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور استحکام کی راہ کی امید کر رہے ہیں۔ لندن میں 17 سالہ جلاوطنی ،جہاں انہیں اور ان کی جماعت کو قانونی ہراسانی کا سامنا رہا، کے بعد طارق رحمان کے لیے آگے کا راستہ نہایت کٹھن ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ آیا وہ ماضی کی دشمنیوں سے آگے بڑھ کر ایک پُرامن مستقبل تعمیر کرسکتے ہیں یا نہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ بدل چکے ہیں اور اب ملک کی بہتری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، تاہم عوامی لیگ اور دیگر حلقے اس پر شدید شکوک رکھتے ہیں۔
دریں اثنا، طارق رحمان کی واپسی نے جماعتِ اسلامی کو بے چین کر دیا ہے۔ جماعت یہ سمجھ رہی تھی کہ شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے اور خالدہ ضیا کی علالت کے بعد انتخابی میدان اب ان کے لیےآسان ہوگا مگر یہ مفروضہ اب غلط ثابت ہورہا ہے۔
اسی دوران طلبہ کی قیادت میں بننے والی جماعت این سی پی، جس نے عوامی لیگ مخالف تحریک میں کردار ادا کیا تھا، جماعتِ اسلامی کے ساتھ جا ملی ہے، جس سے اس کے اسلام پسند جھکاؤ کے الزامات کی تصدیق ہوتی ہے۔ این سی پی کی بعض خواتین رہنماؤں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔
ریاست کی سرپرستی میں بننے والی چھوٹی “کنگز پارٹیاں” اور تنظیمیں بھی بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ انہیں اس ہجوم کی سیاست کے خاتمے کا خدشہ ہے جسے پہلے سرکاری پشت پناہی حاصل تھی۔
‘پروتھم آلو’ اور ‘ڈیلی اسٹار’ نامی اخباروں پر حملوں کے بعد ریاست کو شاید یہ احساس ہوا ہے کہ ہجوم کا ‘خیالی دیو’ کسی کو نہیں بخشتا—حتیٰ کہ اپنے خالق کو بھی نہیں۔
ہجوم کے تشدد پر قابو پانے کی تاخیر سے کی گئی کوشش نے گزشتہ چودہ ماہ میں تباہ کن قیمت وصول کی ہے۔ اگر بروقت اقدام کیا جاتا تو وسیع پیمانے پر اموات، آتش زنی اور افراتفری سے بچا جا سکتا تھا۔
میمَن سنگھ میں اقلیتی نوجوان دیپو داس کا بہیمانہ قتل—جسے مذہبی اشتعال کے جھوٹے الزام میں پولیس نے ہجوم کے حوالے کر دیا—کوئی الگ واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک خونچکاں سلسلے کی کڑی تھی جس کا آغاز پولیس اہلکاروں کی لنچنگ اور نذرِ آتش کیے جانے سے ہوا اور جو ہزاروں جرائم تک پھیل گیا۔
عام شہری اب ایسا بنگلہ دیش نہیں دیکھنا چاہتے جو ہجوم کے تشدد میں ڈوبا ہو۔ ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہے: یا تو سیاسی مفاہمت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف بڑھے، یا طویل عدم استحکام کئ دلدل میں پھنستا چلا جائے۔ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ سیاسی قوتیں اس عبوری مرحلے کو کس طرح سنبھالتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے صرف اقتصادی استحکام کافی نہیں، بلکہ شمولیتی اور ضابطہ جاتی سیاسی عمل کی سمت واضح پیش رفت بھی ضروری ہے۔ شفاف اور شمولیتی انتخابات جمہوری تجدید کی راہ ہموار کر سکتے ہیں؛ بصورتِ دیگر تنازع برقرار رہے گا اور پیچیدگیاں بڑھتی جائیں گی۔
مہنگائی، زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور سست روزگار نمو پہلے ہی حالاتِ زندگی کو خراب کر رہے ہیں، خاص طور پر شہری نوجوانوں کے لیے۔
ماہرینِ معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ طویل سیاسی عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرے گا اور برآمدات کو نقصان پہنچائے گا۔ نمایاں کاروباری شخصیات غیر معمولی مایوسی کا اظہار کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ سیاسی معمول پر واپسی اور بحال شدہ قانونی حیثیت ہی بحالی کی کنجی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر شہری حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ محدود ہوتی شہری آزادی اور فرقہ وارانہ کشیدگی بنگلہ دیش کی تکثیری شناخت کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہے جب معاشرے کے تمام طبقات خود کو ریاست کا حصہ محسوس کریں۔
آنے والے قومی انتخابات حتمی امتحان ہوں گے۔ معتبر، شفاف اور شمولیتی ووٹنگ عوامی اعتماد بحال کر سکتی ہے؛ متنازع انتخابات ملک کو مزید تقسیم کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
اگرچہ کسی ایک جماعت کو باہر رکھنا وقتی طور پر سہل لگ سکتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عوامی لیگ—جو عوامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹی—اب بھی تقریباً 35 فیصد عوامی حمایت رکھتی ہے۔ اتنی بڑی نمائندگی کو نظر انداز کر کے پائیدار استحکام ممکن نہیں۔
بدعنوانی اور بداعمالیوں پر کنٹرول ہونا چاہیے، مگر عام حامیوں کو اپنے قائدین کے جرائم کی سزا کے طور پر ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ حل طلب سوالات بنگلہ دیش کے انتخابات کی طرف بڑھنے کے ساتھ مزید اہم ہوتے جا رہے ہیں۔
اکثر بنگلہ دیشی چاہتے ہیں کہ انتخابات ہوں اور ایسے ہوں جو شمولیتی ہوں اور دیرپا امن کی ضمانت دیں، تو فیصلہ کرنے کا حق عوام کو دیا جانا چاہیے۔
شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور جوابدہ ریاست کا کوئی متبادل نہیں۔ اگر بنگلہ دیش کو بدلنا ہے تو سیاست دانوں کو پہلے خود بدلنا ہو گا۔
(مصنف بنگلہ دیش کے اخبار ‘پرتِی دن’ کے سابق مدیر ہیں۔ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں)
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
