فن و ادب
چاند سا چہرہ اور ر وشن آنکھوں والی دیپیکا پاڈکون
یوم پیدائش 5 جنوری پر خصوصی مضمون
ممبئی، بالی وڈ میں دیپیکا پاڈوکون ایک ایسی اداکارہ کے طور پر شمار کی جاتی ہیں جنہوں نے فلم انڈسٹری میں اپنی زبردست اداکاری سے ناظرین کے دلوں میں خصوصی شناخت بنائی ہے پاڈوکون، بیڈمنٹن کے مشہور کھلاڑی پرکاش پاڈوکون کی بیٹی ہیں۔ ان کی پیدائش 5 جنوری 1986 میں کوپن ہیگن میں ہوئی اور پرورش بنگلورو میں ہوئی۔ پاڈوکون کے ایک سال کی عمر میں ہی ان کا خاندان بھارت منتقل ہو کر بنگلورو میں آباد ہو گیا۔ انہوں نے بنگلورو کے صوفیہ ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی اور ماؤنٹ کارمل کالج سے پری یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں سماجیات میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری کے لیے داخلہ لیا، تاہم ماڈلنگ کے کیریئر کی مصروفیات کے باعث وہ تعلیم مکمل نہ کر سکیں۔نوعمری میں انہوں نے قومی سطح کی بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں حصہ لیا، تاہم بعد میں کھیل کے کیریئر کو چھوڑ کر فیشن ماڈلنگ اختیار کر لی۔ جلد ہی انہیں فلمی کرداروں کی پیش کش ملنے لگیں اور انہوں نے 2006 میں کنڑ فلم ایشوریہ میں مرکزی کردار کے ذریعے اداکاری کا آغاز کیا۔
اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں پڈوکون نے صابن لیریل کے ایک ٹیلی وژن اشتہار کے ذریعے پہچان حاصل کی اور بعد ازاں مختلف برانڈز اور مصنوعات کے لیے ماڈلنگ کی۔
2005 میں انہوں نے ڈیزائنر سُنیت ورما کے لیے لکمی فیشن ویک میں ریمپ واک کے ذریعے ڈیبیو کیا اور کنگ فشر فیشن ایوارڈز میں ماڈل آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا۔2006 کے کنگ فشر کیلنڈر کی مقبول پرنٹ مہم میں نظر آنے کے بعد ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ ڈیزائنر وینڈل روڈرکس نے اس موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ ایشوریا رائے کے بعد ہمیں اتنی خوبصورت لڑکی نہیں ملی۔” سال2006 میں انہیں ہیمیش ریشمیا کے البم آپ کا سرور کے گانے “نام ہے تیرا” کی میوزک ویڈیو میں شرکت کے بعد مزید پہچان حاصل ہوئی۔
چاند سا چہرہ اور ر وشن آنکھیں اور کونکنی زبان بولنے والی دیپیکا 2006 میں ریلیز کنڑ زبان میں بنی فلم ایشوریا سے اداکاری کے میدان میں آئیں لیکن انہیں پہچان سپرہٹ فلم اوم شانتی اوم سے ملی جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
فرح خان کی ہدایت میں بنی اس فلم میں دیپیکا نے دوہرا کردار نبھاکر شائقین کو محظوظ کردیا ۔ فلم میں ان کے اپوزٹ شاہ رخ خان تھے ۔ ا ن کی فلمی جوڑی کو سامعین نے بے حد پسند کیا اور یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم کے لیے انہیں فلم فیئر کا بہترین ڈیبو اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔
دیپیکا مختصر عرصے میں کئی فلمی ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں۔ اُن کی کامیابیوں کا یہ سفر ابھی جاری ہے۔
سال 2008 میں دیپیکاکی ’بچنا اے حسینو‘ ریلیز ہوئی ۔ رنبیر کپور کے ساتھ یہ فلم باکس آفس پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ اس کے بعد چاندنی چوک ٹو چائنا اور کارتک کالنگ کارتک جیسی فلمیں آئیں لیکن کوئی بھی فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔
سال 2010 میں پاڈوکون کے کیریئر کی ایک اور سپرہٹ فلم ’ہاؤس فل‘جلوہ گر ہوئی۔ ساجد خان کی ہدایت والی اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہی حالانکہ اسی برس ریلیز فلمیں ’کھیلیں ہم جی جان سے، لفنگے پرندے اور بریک کے بعد باکس آفس پر کوئی کمال نہیں دکھاسکی۔
سال 2011 میں آئی فلم دم مارو دم میں دیپکا پاڈوکون نے آئٹم نمبر ’دم مارو دم مٹ جائے غم‘ كے ذریعے ناظرین کو مسحور کر دیا۔ 2012 میں فلم کاک ٹیل ان کے کیریئر کی اہم فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔اس فلم میں دیپکا کی جوڑی سیف علی خان کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ اس فلم میں بااثر اداکاری کیلئے انہیں بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔
دیپکا کے کیریئر کے لئے 2013 بہترین سال ثابت ہوا۔ اس برس ان کی ریس۔ 2، یہ جوانی ہے ديوانی، چنئی ایکسپریس اور رام لیلا جیسی فلمیں منظر عام پر آئیں اور سبھی فلموں نے باکس آفس پر 100 کروڑ روپے سے زائد کی کمائی کی۔
سال 2014 میں ’ہیپی نیو ایئر اورفائڈنگ فینی ریلیز ہوئیں۔ ہیپی نیو ایئر نے 200 کروڑ روپے سے زیادہ کمائے ۔2015 میں پيكو، تماشا اور باجی راؤ مستانی آئی جس نے باکس آفس پر 184 کروڑ روپے کمائے ۔
دیپکا نے 2017 میں ہالی وڈ فلم ’ٹرپل ایکس: ریٹرن آف جینڈر کیج ‘ میں بھی کام کیا ہے۔
دیپیکا نے سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت میں بنی فلم ’پدماوت‘میں میواڑ کی رانی پدماوت کا کردار ادا کیا جو سپر ہٹ ثابت ہوئی ۔ رانی پدماوت اپنی خوبصورتی، عقل اور جرات کے لئے مشہور تھیں۔ ان کے علاوہ دیپیکا کی دیگر فلموں میں زیرو، چھپاک،83، گہرائیاں، برہمستر، سرکس اور 2023 میں ریلیز ہوئی فلم پٹھان اور جوان شامل ہیں۔
انہیں تین فلم فیئر ایوارڈز مل چکے ہیں۔ ٹائم میگزین نے 2018 میں انہیں دنیا کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل کیا، جبکہ 2022 میں انہیں ٹائم 100 امپیکٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
یو این آئی۔ ایم جے۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
نئی دہلی، معروف اداکار، فلم ساز اور تھیٹر فنکار نانا پاٹیکر، جن کی پُرجوش اداکاری، منفرد آواز اور انسانی جذبات سے بھرپور کرداروں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار کردار دیے، جمعرات کی صبح 75 سال کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ 5 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ایک شاندار فلمی سفر کا اختتام ہو گیا۔
نانا پاٹیکر، جن کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا، کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر منی پال اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن صبح 5:20 بجے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
ان کے اچانک انتقال کی خبر سے ہندوستانی فلمی صنعت میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے صرف ایک معروف اداکار کے انتقال پر افسوس نہیں کیا بلکہ ایسے فنکار کے کھو جانے کا دکھ منایا جس کی محض ایک نظر، ایک لمحے کی خاموشی یا مکالمے کی ایک سطر بھی پردے کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ نانا پاٹیکر کبھی روایتی معنوں میں فلمی ستارہ نہیں رہے۔ وہ ایسے اداکار تھے جو عام لوگوں کی جذباتی دنیا میں اتر جاتے تھے، ان کے غصے، زخموں، بے بسی، مزاحمت، کمزوری اور کبھی کبھی بے باک مزاح کو اپنے کرداروں میں پوری سچائی سے پیش کرتے تھے۔
ان کی اداکاری میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو مرکزی دھارے کی فلموں کے بناوٹی انداز کو قبول نہیں کرتی تھی۔ ان کی منفرد آواز اور مکالمے ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت عام سے عام جملے کو بھی جذبات اور اثر سے بھر دیتی تھی۔ وہ اپنی آواز بلند کیے بغیر بھی پورے منظر پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور خاموشی کے ذریعے بھی کسی کردار کی پوری جذباتی داستان بیان کر دیتے تھے۔
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے مشکلات سے بھرے بچپن کے بعد اپنی نسل کے سب سے قابل احترام اداکاروں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے 1978 میں ‘گمن’ کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا اور ہندی و مراٹھی فلموں میں مشکل اور چیلنجنگ کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لیے ایک منفرد مقام بنایا۔
ان کی اصل شناخت ایسے کرداروں سے بنی جن میں ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اداکاری کی طاقت اور شخصیت کا اثر درکار تھا۔ 1989 کی فلم ‘پرندہ’ میں بے رحم انا کا خوفناک کردار ادا کرنے پر انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘پراہار: دی فائنل اٹیک’ میں شاندار اداکاری کی، جس کی ہدایت کاری بھی انہوں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ ‘انگار’، ‘ترنگا’، ‘اگنی ساکشی’ اور ‘خاموشی: دی میوزیکل’ جیسی فلموں میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ۔ایم جے
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
