ہندوستان
’خطبات مودی:لال قلعہ کی فصیل سے‘ قومی کونسل کی اشاعتی سیریز کی ایک اہم کڑی: دھرمیندر پردھان
نئی دہلی، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی قومی تعلیمی پالیسی 2020اور وکست بھارت 2047 کے تناظر میں جاری اسکیمیوں اور سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”حالیہ دنوں میں کونسل نے اردو بولنے والی آبادی کو وکست بھارت کے وزن سے واقف کرانے اور پورے ملک میں وزیراعظم نریندر مودی جی کی ترقی سے متعلق اسکیموں کو عام کرنے کے لیے دلی میں عالمی اردو کانفرنس اور پٹنہ میں قومی سیمینار کا انعقاد کیا ہے۔یہ بات انہوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے شائع ہونے والی اہم کتاب ’خطبات مودی:لال قلعہ کی فصیل سے‘ کا اجرا کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہاکہ کونسل نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے الگ الگ پہلوؤں پر مختلف سمپوزیم اور پینل ڈسکشن کا بھی اہتمام کیا ہے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کتاب کلچر کو مقبول عام بنانے میں بھی نہایت فعال کردار ادا کر رہی ہے، اسی ضمن میں اس نے اگست 2025 میں سرینگر اور نومبر 2025 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نہایت کامیاب کتاب میلوں کا انعقاد کیا ہے۔“ انھوں نے ’خطبات مودی‘ کی اشاعت کو قومی کونسل کی اشاعتی سریز کی ایک اہم کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”عزت مآب وزیراعظم نے ”سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس“ کے جس منتر کے ساتھ حکومتی فرائض کو انجام دیا ہے، اس کا ڈاکیومنٹیشن ہمیں ان کے خطبات میں ملتا ہے۔ میک ان انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، اجولا اسکیم، جن اوسدھی یوجنا، آیوس مان بھارت یوحنا، سوچھ بھارت مشن اور سکنیہ یوجنا سے لے کر آتم نربھر اور وکست بھارت تک کی سبھی اسکیموں کا خاکہ اگر ہم سمجھنا چاہیں تو عزت مآب وزیراعظم کے ان خطبات سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ عزت مآب وزیراعظم شری نریندر مودی جی کے یہ خطبات ہمیں ہندوستانی شہری کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں اور ملک کی تعمیر میں اپنے فرائض کو انجام دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔“
انھوں نے ان خطبات کی اہمیت و افادیت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”یہ خطبات پچھلے 12 سالوں میں عالمی سطح پر نمایاں ہونے والے نئے اور طاقتور ہندوستان کو ظاہر کرتے ہیں۔ ملک کی حفاظت کے لیے اندرونی اور بیرونی سطح پر اٹھائے گئے مضبوط اقدامات کی جھلک بھی ان میں نمایاں نظر آتی ہے۔ آج ہندوستان ہر شعبے میں آگے بڑھ رہا ہے اور ہر دن ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اس کی اصل وجہ عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی جی کا وہ وژن ہے، جس کی بنیاد ہے ”نیشن فرسٹ“۔
وزیر تعلیم نے قومی اردو کونسل کے اس اہم کارنامے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے بے حد خوشی ہے کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے ان خطبات کو اردو میں شائع کیا ہے۔ میں کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال کو اس اہم کتاب کی اشاعت کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس کتاب کی اشاعت سے ہندوستان کی تعمیر و ترقی کے لیے وزیر اعظم شری نریندر مودی جی کا وزن زیادہ سے زیادہ اردو قارئین تک پہنچے گا اور وہ مودی جی کے 12 سال کی مدت کار میں کیے گئے شاندار ترقی کے کام کاج، ملک کی فلاح کے لیے شروع کی گئیں اسکیموں اور قوم کے تحفظ و خودمختاری کے لیے اٹھائے گئے اہم اقدامات سے واقف ہوں گے۔“
قبل ازیں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے شائع ہونے والی اہم کتاب ”خطبات مودی:لال قلعہ کی فصیل سے“کا وزیر تعلیم شری دھرمیندر پردھان جی کے ہاتھوں شاشتری بھون، دہلی میں اجرا عمل میں آیا۔ یہ کتاب دراصل 2014 سے 2025 تک یوم آزادی کے موقع پر لال قلعے کی فصیل سے عزت مآب وزیر اعظم شری نریندر مودی جی کے ذریعے دیے گئے خطبات کا مجموعہ ہے۔ اس موقع پر قومی کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ رسم رونمائی کی اس موقع پرعزت مآب وزیرتعلیم کا دل سے استقبال کرتاہوں اور شکرگزارہوں کہ انھوں نے اس اہم کتاب کی رسم رونمائی کے لیے اپنا بیش قیمتی وقت دے کرہماری حوصلہ افزائی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم عزت مآب وزیراعظم نریندر مودی جی کے بھی شکرگزارہیں جن کی قیادت اور وژن نے اردوزبان کو قومی ترقی کے بیانیے سے جوڑنے کا موقع فراہم کیا۔ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کی یہ کاوش اردوکے مستقبل کو روشن بنانے اور وکست بھارت کے خواب کو پوراکرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔“ اس موقع پرڈائرکٹرنے کونسل کے آن لائن کورسز،کتابوں کے ڈیجیٹلائزیشن اور کمپیوٹر و ٹیکنالوجی سے متعلق دیگر سرگرمیوں کابھی ذکرکیا۔
رسم رونمائی کی اس تقریب میں ڈاکٹر ونیت جوشی(سکریٹری،شعبہ اعلیٰ تعلیم،وزارت تعلیم)،محترمہ منمون کور(جوائنٹ سکریٹری، وزارت تعلیم)، شری چامو کرشن شاستری(چئیرمین بھارتیہ بھاشا سمتی)، پروفیسر نعیمہ خاتون(وائس چانسلر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ)، پروفیسر شاہد اختر(سابق وائس چئیرمین، این سی پی یو ایل)کے علاوہ بڑی تعداد میں وزارت تعلیم کے اعلیٰ افسران موجود رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
