تازہ ترین
قطر مذاکرات میں افغان طالبان مطالبات منوانے پر ڈٹ گئے
خبراردو:
افغان طالبان اور امریکا کے درمیان قطر میں مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں طالبان اپنے مطالبات منوانے پر ڈٹ گئے ہیں۔ طالبان کی جانب سے امارات کے ایجنڈے کے علاوہ دیگر امور پر بات چیت کرنے سے انکار کردیا گیا ہے۔ ادھر امریکی فوج نے افغانستان سے انخلاء کیلئے پاکستان سے مدد مانگ لی ہے۔ واضح رہے کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے اور افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد پیر کی صبح ایک خصوصی طیارے کے ذریعے قطر پہنچے، جہاں انہوں نے طالبان نمائندوں سے مذاکرات کئے۔
انتہائی مختصر مذاکرات میں امریکی حکام اور قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے اراکین نے شرکت کی۔ اس موقع پر خلیل زاد نے افغان طالبان کے ساتھ اپنے چین، پاکستان، بھارت اور افغانستان کے دورے کے حوالے سے بات چیت کی اور انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ تاہم طالبان نے خلیل زاد پر واضح کیا کہ امریکا اگر محفوظ انخلاء چاہتا ہے اور افغانستان میں خانہ جنگی کو رکوانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے افغان طالبان کی بات ماننا پڑے گی اور افغان طالبان اب صرف دو نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کریں گے جس میں امریکی فوج کے انخلاء اور افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ افغان طالبان امریکا کے ساتھ افغانستان کے اندرونی معاملات پر کوئی بات نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے امریکی نمائندے کے ذریعے ڈالے جانے والے دبائو کو رد کر دیا اور کہا کہ امریکا مذاکرات کی آڑ میں اسلامی ممالک کے ساتھ طالبان کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتا ہے کیونکہ طالبان قطر اور سعودی عرب کی لڑائی میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے ہیں۔ نہ ہی ایران کے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ چلنے والے تنازعہ کا حصہ دار ہونا چاہتے ہیں۔ طالبان کی اول روز سے یہ خواہش ہے کہ ایران اور سعودی عرب، امارات، قطر اور سعودی عرب کے درمیان ان کے اندرونی معاملات اور اختلافات ختم ہو جائیں کیونکہ ان کے اختلافات سے اسلامی دنیا کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم طالبان اپنے برسوں کے تعلق اور ان ممالک قطر، سعودی عرب اور ترکی کے ذریعے دبائو ڈالے جانے کو بھی تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ افغانستان کے اندرونی معاملات سے ان ممالک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
پاکستان اور ایران افغانستان کے نہ صرف ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ پاکستان کا اسلامی دنیا میں اپنا ایک مقام ہے اور طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری کے بعد امریکا پاکستان کے ذریعے طالبان پر دبائو ڈالنا چاہتا ہے، جو اچھی بات نہیں ہے۔ خلیل زاد نے اس موقع پر طالبان وفد کو بتایا کہ پاکستان کی سہولت کاری سے پوری دنیا مطمئن ہے اور پاکستان نے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کیلئے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ تاہم طالبان نے قطر میں ان کے لیڈروں کی گرفتاریوں، دھمکائے جانے اور مختلف ممالک کے ذریعے ان پر دبائو ڈالے جانے کو امریکا کی بھونڈی کوشش قرار دیا ہے۔ افغان طالبان نے خلیل زاد سے کہا ہے کہ وہ امریکی حکومت سے صاف اور واضح طور پر کہہ دیں کہ اس دو نکاتی ایجنڈے پر اگر امریکی حکومت معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو افغان طالبان معاہدے کیلئے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کے اندرونی معاملات اور مسائل پر بات چیت صرف افغانوں کے درمیان ہوگی اور موجودہ حکومت کو افغان طالبان تسلیم نہیں کریں گے۔ افغان طالبان نے خلیل زاد پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو قطر ہی میں مذاکرات ہوں گے اور آئندہ اگر کسی اسلامی ملک یا طالبان کے دوستوں کے ذریعے بے جا دبائو ڈالنے کی کوشش کی گئی تو طالبان مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیں گے۔
طالبان امریکا کے ساتھ خلوص نیت سے مذاکرات کر رہے ہیں لیکن امریکا درمیان میں کبھی چین کو گھسیٹ کر لا رہا ہے اور کبھی بھارت کو گھسیٹ کر لا رہا ہے۔ حالانکہ دونوں ممالک اس وقت افغانستان کے موجودہ جھگڑے کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی افغان طالبان کا ان کے ساتھ تعلق ہے۔ لہذا بھارت کو گھسیٹ کر لانے، اس کو افغانستان میں کردار دینے اور امریکا کی جانب سے مذاکرات میں دیگر ممالک کو شامل کرنے کی درخواست افغانستان کے اندرونی معاملات میں ایک طرح کی امریکی مداخلت ہے جو قابل قبول نہیں۔ ’’امت‘‘ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر میں ہونے والے مذاکرات میں حقانی نیٹ ورک کے نمائندے ڈاکٹر فقیر محمد اور ان کے دیگر ساتھیوں نے شرکت نہیں کی بلکہ قطر دفتر کے سیاسی نمائندوں کو ہی اپنا نمائندہ قرار دیا۔ یوں مذکرات میں حقانی نیٹ ورک کے عملاً شریک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں تاہم طالبان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں افغان طالبان نے ابتدائی طور پر خلیل زاد کو اپنی تجاویز سے آگاہ کیا ہے۔ اگر اس پر عملدرآمد ہو جاتا ہے تو پھر مذاکرات میں حقانی نیٹ ورک کے نمائندے بھی حصہ لیں گے اور مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ خلیل زاد تین دن تک اسلام آباد میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کا انتظار کرتے رہے۔ تاہم ایجنڈا واضح نہ ہونے اور امریکی چال کے تحت غنی حکومت کے نمائندوں کو ان مذاکرا ت میں شامل کرنے کی کوششوں کے بعد طالبان نے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔ امریکا کا یہ منصوبہ تھا کہ اسلام آباد کے مذاکرات میں اگر افغان طالبان غنی حکومت کے نمائندوں کو بھیجنے کی اجازت نہیں دیں گے تو پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے کا موقع مل جائے گا۔ تاہم افغان طالبان نہ صرف اس منصوبے سے آگاہ تھے بلکہ انہوں نے اسلام آباد میں خلیل زاد کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا۔
’’امت‘‘ کے ذرائع کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے سبب اگر طالبان پاکستان کی بات نہ مانتے تو اسلام آباد کو مشکلات کا سامنا ہوتا اور اگر بات مان لیتے تو افغان طالبان کو نقصان ہوتا۔ اس لئے افغان طالبان نے پاکستان کو امتحان سے بچانے اور اپنے موقف میں ڈٹے رہنے کی وجہ سے اسلام آباد میں مذاکرات نہیں کئے جس کے بعد خلیل زاد کو مجبوراً قطر جانا پڑا۔ گزشتہ اٹھارہ برس میں پہلی بار یہ ہوا ہے کہ طالبان کی جانب سے دعوت نہ ملنے کے باوجود امریکی حکام طالبان کے سیاسی دفتر قطر پہنچ گئے۔ پہلی بار امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے وہ فارمولہ پیش کیا ہے جس کا امریکا اٹھارہ برس سے انتظار کر رہا ہے تاہم اس کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
بشکریہ امت نیوز
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
تہران، صدرِایران مسعود پزیشکیان نے اپنے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات کا سرکاری ٹیلی ویژن پر جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں کی گئی بات چیت میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ‘معاہدہ شدہ نقشے کی بنیاد پر’ دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا، ‘موجودہ مذاکراتی عمل میں ہرمز کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس روڈ میپ کو ایران کے رہنما آیت اللہ مُجتَبٰی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قوتیں اور مذاکراتی ٹیم میں شامل ہمارے بھائیوں نے بھی اسے منظور کیا۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘اگر یہ راہداری اسی دائرہ کار کے تحت کھولا جائے تو امریکہ کو بھی اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو بحری محاصرے اور پابندیوں کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا اور اسرائیل پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان میں اپنے اقدامات روک دے۔
پزیشکیان نے کہا، ‘آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل اسلام آباد مفاہمت نامہ میں بیان کردہ اور مخالف فریقین کے قبول کردہ دائرہ کار کے مطابق ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔’
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا، ‘ہمیں اپنے محبوب اور شہید سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات کی بنیاد پر سفارتکاری کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہیے، اگرچہ ان تعلقات میں ہم آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘ایران کے زیادہ تر ہمسائے اسلامی ممالک ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ایک مشترکہ زبان تلاش کرنی چاہیے، اور خطے کی سلامتی کو مل کر یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بات چیت اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔ ہم پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے زمین تیار ہے، ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
