تازہ ترین
اننت ناگ میں 2گرنیڈ دھماکے، کانسٹیبل زخمی،پولیس کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار : ڈی جی پی
خبراردو:
26جنوری کی تقریب سے ایک روز قبل جنگجوؤں نے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں پولیس اہلکاروں پر پے در پے 2ہتھ گولے داغے جو زور داردھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے جس کے نتیجے میں پولیس کا ایک کانسٹیبل زخمی ہوا جسے علاج و معالجے کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ادھر جنگجوؤں کی طرف سے حملوں کے فوراً بعد فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے اننت ضلع کے مختلف علاقوں میں حملہ آوروں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کرتے ہوئے کئی علاقوں کا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یہاں راہ گیروں کی باریک بینی سے تلاشی لینے کے علاوہ اُن کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے۔ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے 26جنوری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26جنوری کے موقعے پر پاکستان اور جنگجوؤں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ سرکاری تقریبات میں عوامی شرکت کو ناممکن بنانے کے لیے گڑ بڑھ پھیلائے۔
وادی کشمیر میں 26جنوری کی تقریب سے ایک روز قبل جمعہ کی سہ پہر کو نامعلوم جنگجوؤں نے اننت ناگ بس اسٹینڈ میں قائم پولیس پوسٹ ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پولیس کا ایک کانسٹیبل سجاد احمد شدید زخمی ہوگیا جسے یہاں موجود اہلکاروں نے علاج و معالجے کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا۔ معلوم ہوا کہ جمعہ کی سہ پہر اننت ناگ کے بس اڈے میں قائم پولیس پوسٹ پر نامعلوم سمت سے جنگجوؤں نے ایک ہتھ گولہ داغا جو زاور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں یہاں موجود پولیس اہلکار سجاد احمد زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی بس اڈہ میں زور دار دھماکے کی آواز ہوئی تو اس اثنا میں یہاں موجود لوگ افرا تفری کے عالم میں محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ یہاں موجود تجارتی اداروں اور دوکانات نے اپنی دوکانات کے شٹر گراکر محفوظ راہ لی۔ذرائع نے بتایا کہ بس اڈہ میں ہوئے گرنیڈ دھماکے سے چند منٹ قبل ہی جنگجوؤں نے ضلع کے سریگفوارہ میں قائم پولیس چوکی پر ہتھ گولہ داغا جو سماعت شکن آواز کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔معلوم ہوا ہے کہ سریگفوارہ میں قائم پولیس چوکی پر جمعہ کی سہ پہر کو نامعلوم جنگجوؤں نے ایک ہتھ گولہ داغا جو سماعت شکن آواز کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں یہاں بھاگم باگ کی کیفت رونما ہوئی۔
معلوم ہوا کہ دھماکے کے ساتھ ہی یہاں موجود لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی کچھ وقفے کے لیے متاثر ہوئی تاہم دھماکے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ادھر دونوں حملوں کے ساتھ ہی فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے جائے واردات کادورہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا۔ اس دوران فوج اور پولیس کی بھاری جمعیت نے حملہ آوروں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر ملحقہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیوں کا آغازکیا جس دوران یہاں گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ راہ گیروں کی جامہ تلاشی لی گئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد فورسز اہلکاروں نے یہاں مزید کمک طلب کرتے ہوئے آس پڑوس کے علاقوں میں بھاری تعداد میں اپنی نفری کو تعینات کرتے ہوئے یہاں سے گزر رہے لوگوں سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ شروع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے کاس دوران راہ گیروں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اُن کے شناختی کارڈ چیک کئے تاہم کسی بھی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ خیال رہے 26جنوری سے ایک ہفتہ قبل شہر سرینگر کے راجباغ، پلیڈیم گلی اور گھنٹہ گھر کے نزدیک فورسز اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے جنگجوؤں نے 3ہتھ گولے داغے جس دوران 3پولیس اہلکار گرنیڈ کے آہنی ریزے لگنے سے زخمی ہوگئے تاہم گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے کشمیرنیوز سروس کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے شہر سرینگر میں ہوئے گرنیڈ حملوں میں ملوث6نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے پوچھ تاچھ کے دوران اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا کہ انہیں مختلف مقامات پر افرا تفری پھیلانے کے لیے مزید حملے کرنے کے لیے متعین کیا گیا تھا۔ادھر وادی میں جنگجوؤں کی طرف سے گرنیڈ حملوں کے پیش نظر عوام میں خوف و ڈر کا ماحول پایا جارہا ہے جبکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے بھی شہر سرینگر سمیت دیگر قصبہ جات میں لوگوں سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ فورسز اہلکاروں نے 26جنوری کی تقریب کو پرامن طور پر منعقد کرنے کے لیے شہر سرینگر سمیت وادی کے سبھی اضلاع میں فورسز اہلکاروں کو الرٹ کردیا ہے جبکہ کسی بھی ممکنہ حمکے سے نپٹنے کے لیے فورسز نے کڑے انتظامات کئے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے کشمیرنیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ 26جنوری کی تقریبات کو پرامن طور پر منعقد کرانے کے لیے پولیس پوری طرح سے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو ناممکن بنانے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز ایجنسیوں نے کڑے انتظامات عمل میں لائے ہیں۔ ڈی جی پی کا کہنا تھا کہ 26جنوری کی تقریبات کے موقعے پر پاکستان اور جنگجوؤں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ سرکاری تقریبات میں عوامی شرکت کو ناممکن بنانے کے لیے افراتفری کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ پاکستان اور جنگجوؤں نے ہمیشہ سے کشمیر میں 26جنوری کی تقریبات میں عوام کی شرکت کو روکنے کے لیے مذموم حربے استعمال کئے ہیں تاکہ خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرکے عوام کو دور رکھا جائے۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسزنے 26جنوری کی تقریبات کو احسن طور پر منعقد کرانے کے لیے کڑے انتظامات اُٹھائے ہیں اور فورسز کسی بھی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
