تازہ ترین
کپوارہ میں مبینہ فورسز کی جانب سے ایمبولنس گاڑی کو90منٹ تک روکنے کا معاملہ ،سب ڈسٹرکٹ اسپتال کا احتجاج
خبراردو:
شمالی کشمیر کے سوگام کپوارہ علاقے میں قائم سب ڈسٹرکٹ اسپتال عملے نے اسپتال کی ایمولنس گاڑی کوڈھیڑ گھنٹے تک بند رکھنے کے خلاف ادارے کے طبی و نیم طبی عملے نے فورسز کاروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر کے نصف گھنٹے تک احتجاجی مظاہراہ کیا۔اس دوران بعد میں ایس ایچ نے اسپتال عملے کو گاڑی کو روکنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کے بعد عملے نے اپنا ہڑتال واپس لیا۔
شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے سوگام علاقے میں قائم سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے طبی و نیم طبی عملے نے جمعہ کے صبح فورسز کے ہاتھوں جمعرات کو اسپتال کی ایمولنس گاڑی کو95منٹ تک سراہ کھڑا کروانے کے واقعے کے خلاف اسپتال کے احاطے میں جمع ہو کر کام چھوڑ ہڑتال شروع کر کے فورسز کی اس کارروائی کے خلاف زوردار احتجاج کیا۔ اسپتال عملے نے بتایا جمعرات کو ادارے کی ایک ایمولنس گاڑی زیر نمبرJK09A.0812کو ایک مریض کو کھوڑی گوگل چھوڑدینے کے بعد واپس آرہا تھا اس دوران بڑی بیرا علاقے میں ایس او جی اہلکاروں کی ایک ناکہ پارٹی نے ایمنولنس کی گاڑی کے ڈارئیور کو گاڑی سے نیچے اتار کر95منٹ سڑک کے کنارے کھڑا رکھا۔
عملے نے بتایا اس دوران اگر چہ گاڑی کے ڈارئیور نے فورسز اہلکاروں کو منت کی کہ اس وقت اسپتال میں صرف ایک ہی گاڑی موجود ہے تاہم اہلکاروں نے ایک نہ سنی ۔بتایا جاتا ہے کہ بعد واقعے کی اطلاع کسی طرح بلاک میڈیکل افسر سوگام ڈاکٹر فردوس احمد تک پہنچی جنہوں موقعے پر پہنچ کر اہلکاروں کو سمجھایا کہ اس طرح کی کاروائیاں سپریم کوٹ اور ہائی کوٹ کے بتائے گئے اصولوں کے خلاف ہے ۔ تاہم اس کے باوجود بھی گاڑی کونہیں چھوڑا گیا۔جس کے بعد بی ایم نے گاڑی کو وہی پر چھورا اور واپس آگیا۔ اس دوران واقعے کی خبر اسپتال میں پہنچنے کے ساتھ عملے نے شدید غم و غصے کا اظہار کر کے جمعہ کے صبح کام چھوڑا ہڑتال کیا۔
جس دوران ملازمین ایمولنس گاڑی کو غیر ضروری طور روکنے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔نمائندے نے بتایا بعد میں ایس ایچ او سوگام نے اسپتال میں ہڑتال کی اطلاع ملتے ہی اسپتال پہنچ کر واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کی ہے ۔ جس کے بعد احتجاجی عملے نے نصف گھنٹے کے بعد اپنا ہڑتال ختم کر کے کام کاج دوبارہ شروع کیا۔ادھر پولیس کے ایک اعلی افسر نے بتایا 26جنوری تقریبات کے حوالے سے علاقے میں تلاشی کاروائیاں جاری تھی جس دوران ایمولنس گاڑی کو بھی قطار میں کھڑا کیا گیا۔انہوں نے الزامات کو مسترد کیا ہے ۔ادھر اسپتال عملے نے واقعے کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
