تازہ ترین
سپریم لیڈر کے لیے اہم نام: موجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ایک جانب ایران انٹرنیشنل نے رپورٹ کیا ہے کہ مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے موجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کے مذہبی ادارے اسمبلی آف ایکسپرٹس نے نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے، جبکہ تہران کے خطیبِ جمعہ اور مجلس خبرگان کے رکن احمد خاتمی نے بدھ کے روز کہا کہ ایران نے ابھی صرف ممکنہ امیدواروں پر غور کیا ہے۔
احمد خاتمی نے مہر نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“قیادت کے لیے ممکنہ ناموں کا تعین کر لیا گیا ہے اور ہم جلد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے قریب ہیں۔”
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھنے والا آئینی ادارہ اسمبلی آف ایکسپرٹس اس عمل کی نگرانی کر رہا ہے۔ یہ ادارہ ہی سپریم لیڈر کے انتخاب اور اس کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔
یہ جانشینی کا عمل اس وقت شروع ہوا جب 28 فروری کو تہران میں ان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔
85 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر تھے اور خطے کے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے دور میں ایران کو امریکا کے ساتھ کشیدگی، خطے میں پراکسی تنازعات، عالمی پابندیوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات جیسے اہم چیلنجز کا سامنا رہا۔
حملے میں خامنہ ای کے خاندان کے کئی افراد بھی مارے گئے جن میں ان کی بیٹی، داماد اور پوتی شامل تھے، جبکہ ان کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقر زادہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں۔
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ مرحوم رہنما کو مقدس شہر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ تہران میں بڑے عوامی سوگ کی تقریب کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم تدفین کی حتمی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔
خامنہ ای کی موت کے فوری بعد ایک عبوری تین رکنی قیادت کونسل نے آئینی طور پر ان کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
اس کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی، صدر مسعود پزشکیان اور چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژئی شامل تھے۔ ان کا کام اس وقت تک حکومتی تسلسل برقرار رکھنا تھا جب تک مجلس خبرگان مستقل سپریم لیڈر کا انتخاب نہ کر لے۔
موجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی منتخب عوامی عہدہ نہیں سنبھالا، تاہم وہ طویل عرصے سے ایران کے قدامت پسند حلقوں میں ایک بااثر مذہبی اور سیاسی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
گزشتہ برسوں کے دوران یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ انہیں سیکیورٹی اداروں اور قم کے سینئر علما کے درمیان خاصا اثر و رسوخ حاصل ہے اور وہ پس پردہ اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یہ قیادت کی تبدیلی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی “آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے جاری ہے، جو جاری جوہری مذاکرات کے دوران شروع کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے مختلف شہروں بشمول تہران کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
حملوں کے چند ہی گھنٹوں بعد ایران نے خلیجی خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل حملے کیے۔ کچھ میزائل دبئی، ابوظہبی، قطر اور بحرین کے علاقوں میں بھی گرے۔ اس کے بعد تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا کیونکہ تہران نے اپنے سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کے لیے جنگ سے بچنے کے لیے مذاکرات کی طرف واپس آنے میں اب بہت دیر ہو چکی ہے، جس سے واشنگٹن کے سخت مؤقف کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی دوران اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیاں بڑھاتے ہوئے جنوبی لبنان میں مزید پیش قدمی کی، جہاں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔
جنگ کے چوتھے دن ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں دبئی میں امریکی قونصل خانے میں آگ لگ گئی۔
ایسے انتہائی کشیدہ حالات میں موجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت سامنے آ رہی ہے۔ اگر وہ سپریم لیڈر منتخب ہوتے ہیں تو ایران کی مسلح افواج، عدلیہ، سرکاری نشریاتی اداروں اور اہم تزویراتی پالیسیوں — بشمول جوہری پروگرام اور خارجہ امور — پر ان کا حتمی اختیار ہوگا۔
اگر ان کا انتخاب ہوتا ہے تو انہیں فوجی کشیدگی، جوہری پالیسی اور علاقائی حریفوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اہم فیصلے کرنے ہوں گے، جو نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے مغربی ایشیا کے سیکیورٹی منظرنامے پر اثر انداز ہوں گے۔
آنے والے دن ایران کے سیاسی اداروں کی مضبوطی اور نئے سپریم لیڈر کی صلاحیت کا امتحان ہوں گے کہ وہ بیرونی دباؤ اور داخلی غیر یقینی صورتحال کے درمیان کس طرح اپنی اتھارٹی کو مستحکم کرتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی قانون سازوں کو بتایا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے مکمل دائرہ کار اور مدت کے بارے میں ابھی واضح طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔
یہ مضمون یو این آئی (یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا) کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے اور خبر اُردو نے صرف اس کی سرخی تبدیل کی ہے۔
دنیا
تبت میں شدید زلزلہ، کم از کم 16 افراد ہلاک
بیجنگ، چین کے خود مختار علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کے مطابق، شمالی تبت کے ایک دور افتادہ علاقے میں جمعرات کی رات 10 بج کر 33 منٹ پر زلزلہ آیا۔ جمعہ کو بھی متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق، متاثرہ علاقے میں زلزلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل کی سطح دوم نافذ کردی گئی ہے۔ زلزلے کے باعث بجلی اور مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، کم آبادی والے بلند پہاڑی شہر ناگچو کے حکام نے بتایا کہ زلزلے میں 65 افراد تک زخمی ہوئے ہیں، تاہم بعض دیگر رپورٹوں میں زخمیوں کی تعداد اس سے کچھ کم بتائی گئی ہے۔
یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔ حکام کے مطابق، کم از کم 339 مکانات اور مویشیوں کے 20 باڑے منہدم ہوگئے ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری ویڈیوز میں لوگوں کو اپنے مکانات سے باہر نکلتے اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں یا کھلی جگہوں پر پناہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، زلزلے کا مرکز ایک پہاڑی علاقے میں تھا، جو ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق شمال مشرق اور تبت کے دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
الجزیرہ کی نامہ نگار کترینا یو نے بیجنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ چینی حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے 1,600 اہلکار تعینات کیے ہیں۔ تاہم، تقریباً 4,800 میٹر کی بلندی پر واقع متاثرہ علاقے تک پہنچنا مشکل ہے، کیونکہ متعدد سڑکیں بند ہیں یا چٹانیں کھسکنے سے متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں برف باری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
کترینا یو کے مطابق، یہ خطہ زلزلوں کے لیے نیا نہیں ہے، کیونکہ یہ ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے اتصال کے علاقے میں واقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کی آبادی کم ہونے کی وجہ سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
