تازہ ترین
سپریم لیڈر کے لیے اہم نام: موجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ایک جانب ایران انٹرنیشنل نے رپورٹ کیا ہے کہ مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے موجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کے مذہبی ادارے اسمبلی آف ایکسپرٹس نے نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے، جبکہ تہران کے خطیبِ جمعہ اور مجلس خبرگان کے رکن احمد خاتمی نے بدھ کے روز کہا کہ ایران نے ابھی صرف ممکنہ امیدواروں پر غور کیا ہے۔
احمد خاتمی نے مہر نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“قیادت کے لیے ممکنہ ناموں کا تعین کر لیا گیا ہے اور ہم جلد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے قریب ہیں۔”
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھنے والا آئینی ادارہ اسمبلی آف ایکسپرٹس اس عمل کی نگرانی کر رہا ہے۔ یہ ادارہ ہی سپریم لیڈر کے انتخاب اور اس کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔
یہ جانشینی کا عمل اس وقت شروع ہوا جب 28 فروری کو تہران میں ان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔
85 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر تھے اور خطے کے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے دور میں ایران کو امریکا کے ساتھ کشیدگی، خطے میں پراکسی تنازعات، عالمی پابندیوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات جیسے اہم چیلنجز کا سامنا رہا۔
حملے میں خامنہ ای کے خاندان کے کئی افراد بھی مارے گئے جن میں ان کی بیٹی، داماد اور پوتی شامل تھے، جبکہ ان کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقر زادہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں۔
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ مرحوم رہنما کو مقدس شہر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ تہران میں بڑے عوامی سوگ کی تقریب کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم تدفین کی حتمی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔
خامنہ ای کی موت کے فوری بعد ایک عبوری تین رکنی قیادت کونسل نے آئینی طور پر ان کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
اس کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی، صدر مسعود پزشکیان اور چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژئی شامل تھے۔ ان کا کام اس وقت تک حکومتی تسلسل برقرار رکھنا تھا جب تک مجلس خبرگان مستقل سپریم لیڈر کا انتخاب نہ کر لے۔
موجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی منتخب عوامی عہدہ نہیں سنبھالا، تاہم وہ طویل عرصے سے ایران کے قدامت پسند حلقوں میں ایک بااثر مذہبی اور سیاسی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
گزشتہ برسوں کے دوران یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ انہیں سیکیورٹی اداروں اور قم کے سینئر علما کے درمیان خاصا اثر و رسوخ حاصل ہے اور وہ پس پردہ اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یہ قیادت کی تبدیلی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی “آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے جاری ہے، جو جاری جوہری مذاکرات کے دوران شروع کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے مختلف شہروں بشمول تہران کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
حملوں کے چند ہی گھنٹوں بعد ایران نے خلیجی خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل حملے کیے۔ کچھ میزائل دبئی، ابوظہبی، قطر اور بحرین کے علاقوں میں بھی گرے۔ اس کے بعد تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا کیونکہ تہران نے اپنے سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کے لیے جنگ سے بچنے کے لیے مذاکرات کی طرف واپس آنے میں اب بہت دیر ہو چکی ہے، جس سے واشنگٹن کے سخت مؤقف کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی دوران اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیاں بڑھاتے ہوئے جنوبی لبنان میں مزید پیش قدمی کی، جہاں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔
جنگ کے چوتھے دن ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں دبئی میں امریکی قونصل خانے میں آگ لگ گئی۔
ایسے انتہائی کشیدہ حالات میں موجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت سامنے آ رہی ہے۔ اگر وہ سپریم لیڈر منتخب ہوتے ہیں تو ایران کی مسلح افواج، عدلیہ، سرکاری نشریاتی اداروں اور اہم تزویراتی پالیسیوں — بشمول جوہری پروگرام اور خارجہ امور — پر ان کا حتمی اختیار ہوگا۔
اگر ان کا انتخاب ہوتا ہے تو انہیں فوجی کشیدگی، جوہری پالیسی اور علاقائی حریفوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اہم فیصلے کرنے ہوں گے، جو نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے مغربی ایشیا کے سیکیورٹی منظرنامے پر اثر انداز ہوں گے۔
آنے والے دن ایران کے سیاسی اداروں کی مضبوطی اور نئے سپریم لیڈر کی صلاحیت کا امتحان ہوں گے کہ وہ بیرونی دباؤ اور داخلی غیر یقینی صورتحال کے درمیان کس طرح اپنی اتھارٹی کو مستحکم کرتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی قانون سازوں کو بتایا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے مکمل دائرہ کار اور مدت کے بارے میں ابھی واضح طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔
یہ مضمون یو این آئی (یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا) کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے اور خبر اُردو نے صرف اس کی سرخی تبدیل کی ہے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
