تازہ ترین
پاکستان کشمیر میں غیر یقینی صورتحال کا ذمہ دار: گورنر ستیہ پال ملک
خبراردو:
گورنر ستیہ پال ملک نے 26جنوری کے موقعے پر پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں غیر یقینی اور خرنریزی کے ماحول کو جاری رکھنے کے لیے پڑوسی ملک پاکستان جنگجوئوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے فوج و نیم فوجی دستوں کی طرف سے امن کی بحالی اور ریاست میں اتحاد و یکجہتی کو ممکن بنانے کے لئے اُٹھائے جارہے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ نوجوانوں کی طرف سے عسکری صفوں میں شامل ہونے پر گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی تشویش کن معاملہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو پیشہ ورانہ ڈگریاں حاصل کررہے ہیں، انتہا پسندی کی جانب مائل ہورہے ہیں۔
ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے 26جنوری کے موقعے پر سرمائی دارالحکومت جموں کی یونی ورسٹی کے کیمپس میں پریڈ اور مارچ پاسٹ پر سلامی لینے کے بعد اپنے خصوصی خطاب میں پڑوسی ملک پاکستان پر نشانہ سادھتے ہوئے بتایا کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں امن کو درہم برہم کرنے اور یہاں ملی ٹنسی کو ہوا دینے کی کوششیں ابھی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ ’ہمارا پڑوسی ملک پاکستان لگاتار ریاست جموں وکشمیر میں جنگجوئوں کی حمایت کرکے یہاں امن کی فضا کو درہم برہم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر چہ فوج، سی آر پی ایف، پولیس کے علاوہ دیگر سیکورٹی ایجنسیاں ریاست میں امن کو بحال کرنے کی کوششیں کررہی ہیں تاہم پڑوسی ملک پاکستان ہماری ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے لگاتار دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے۔گورنر کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر لگاتار جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزیاں رونما ہورہی ہیں اور آئے روز پاکستان کی جانب سے دراندازی کی کوششیں جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سرحد پر جاری تناؤ اور پاکستان کی مکروہ کوششوں سے سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ جنگ بندی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر عوام کی زندگیاں جہنم زار بن چکی ہے کیوں کہ آئے روز انہیں پاکستان کی دہشت گردی کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر آبادی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے جس کے نتیجے میں ان کی زندگی کے جملہ شعبہ جات بے حد متاثر ہورہے ہیں۔ انہیں پرتناؤ صورتحال کے بیچ آئے روز اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی اختیار کرنی پڑتی ہے جس کے نتیجے میں وہاں کی نوجوان نسل کی تعلیم و ترقی بھی کافی متاثر ہوتی ہے۔گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا تھا کہ سرکار سرحدوں پر رہائش پذیر آبادی کے مسائل سے بے خبر نہیں ہے بلکہ وہاں عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے کی خاطر حکومت ان کی بازآبادکاری کے لیے موزوں اقدامات اٹھائے گی۔انہوں نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر فوج و فورسز اہلکار انتہائی متحرک ہیں اور وہ کسی بھی چیلینج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دشوار گزار راستوں، موسمی حالات اور دیگر نوعیت کے چلینجز کے باوجود فوج و فورسز پاکستان کی طرف سے کی جارہی جنگ بندی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی سالمیت اور وحدت کی حفاظت کے لیے فوج اور فورسز سرحدوں پر چوکنا ہے اور کسی بھی حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔گورنر کا کہنا تھا کہ ریاست جموں وکشمیر میں امن کی فضا کو ممکن بنانے کے لیے جن بہادر فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ ’ریاست جموں وکشمیر میں امن کی فضا کو بحال کرنے اور یہاں دہشت گردوں سے نمٹنے کے دوران جن فوجی و پولیس اہلکاروں نے جانوں کی قربانیاں پیش کی ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ فوج، سی آر پی ایف ، پولیس اور دیگر سلامتی اداروں سے وابستہ اہلکاروں نے امن کو بحال کرنے کے لیے جو قربانیاں پیش کی ہیں ، ملکی عوام اُن کے مقروض ہے‘۔ نوجوانوں کی طرف سے عسکری صفوں میں شامل ہونے پر گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی تشویش کن معاملہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو پیشہ ورانہ ڈگریاں حاصل کررہے ہیں، انتہا پسندی کی جانب مائل ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے نوجوان جو ملک کے بڑے بڑے اداروں میں پیشہ ورانہ ڈگریاں حاصل کررہے ہیں انتہا پسندی کی جانب مائل ہورہے ہیں۔
گورنر کا کہنا تھا کہ ایسے نوجوان شدت پسندی کی راہ اختیار کرنے کے بعد اُن لوگوں میں شامل ہوجاتے ہیں جو تشدد کے مرتکب ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کی طرف سے تشدد کی راہ اختیار کرنے سے وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ نوجوانوں کی طرف سے عسکری صفوں میں شامل ہونا اور بندوق اُٹھانا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ’ہمارا ماننا ہے کہ تشدد اور لڑائی جھگڑے میں کسی بھی مسئلے کا حل پنہا نہیں ہے‘۔ نوجوانوں کی طرف سے ایسا راستہ اختیار کرنے سے اگر کچھ حاصل ہوا بھی ہے تو وہ انسانی جانوں کا زیاں ہے۔ گورنر نے اپنے خطاب میں سرینگر کے مضافاتی علاقے کھنمو میں تقریب سے چند گھنٹے قبل شروع ہوئی جھڑپ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کی راہ نے ابھی ابھی چند گھنٹے قبل سرینگر میں 2نوجوانوں کی زندگیاں لی۔اس دوران گورنر ستیہ پال ملک نے خطاب سے ترنگا لہراتے ہوئے مارچ پاسٹ پر سلامی لی ۔ اس دوران یہاں انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران ، سیاسی جماعتوں سے وابستہ لیڈران، صحافی ، وکلا، سماج کے ذی عزت شہریوں کے علاوہ بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
