تازہ ترین
مودی دورہ:3فروری کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی جائے: مشترکہ مزاحمتی قیادت
خبراردو:
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ریاست کے موقعے پر 3فروری کو مکمل اور ہمہ گیر کشمیر بند کی اپیل کی ہے۔ قیادت کا کہنا تھا کہ جس انسان نے کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے کیلئے مال و جان کی تباہی،کاروبار اور اقتصادیات کی قصاد بازاری اور دوسرے مظالم کواپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ہے اُس کی جموں کشمیر آمد پر سوائے احتجاج کے کچھ اور نہیں کیا جاسکتا۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ ریاست کے پیش نظر 3فروری اتوار کو مکمل کشمیر بند کی کال دی ہے۔ قائدین کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا پانچ سالہ دور حکومت کشمیریوں کیلئے مظالم و مجابر کادور رہا ہے جس دوران ہمارے معصوموں کا لہو بے دریغ بہایا گیا، ہمارے نونہالوں کی بصارتیں پیلٹ سے چھین لی گئیں، ہمارے گھر آگ و آہن و بارود کی نذر کردئے گئے،ہمارے ہزاروں پیر و جوان قید و بند میں مبتلا کردئے گئے اور آپریشن آل آؤٹ کے تحت ہم پر قافیہ حیات تنگ تر کردیا گیا۔ جس انسان نے کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے کیلئے مال و جان کی تباہی،کاروبار اور اقتصادیات کی تباہ کاری اور دوسرے مظالم کواپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ہے اُس کی جموں کشمیر آمد پر سوائے احتجاج کے کچھ اور نہیں کیا جاسکتا۔
اتوار3؍ فروری 2019 کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جموں کشمیر آمد پر کشمیریوں سے مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ جس شخص نے پچھلے پانچ سال سے کشمیریوں کی جائز تحریک حق خود رادیت اور ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت و مقاومت کو کچلنے کیلئے قتل و غارت ،کاروبار اور اقتصادیات کی تباہی ،پیر و جوانوں کی اسیری اور آہنی مظالم کو اپنا مرکزی وطیرہ اور طریقۂ کار بنا یا ہوا ہے ‘ اس کی جموں کشمیر آمد ہمارے لئے کسی بھی صورت کوئی اچھی خبر نہیں ہوسکتی اور اس پر سوائے احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ قائدین نے کہا کہ2014میں جب نریندر مودی نے بھارت کی حکمرانی کا تاج اپنے سر پر سجایا تو روز اوّل سے ہی موصوف نے کشمیریوں کو زیر کرنے کیلئے آہنی مظالم کا سلسلہ شروع کردیا۔ کبھی پنڈتوں کیلئے اسرائیلی طرز کی بستیاں تعمیر کرنے، کبھی سابق فوجیوں کو کشمیر میں بسانے، کبھی مغربی پاکستان کے شرنارتھیوں کو جموں کشمیر کا مستقل باشندہ بنانے کے پروگرام سامنے لائے گئے اور جب کشمیریوں نے اپنی مثالی مزاحمت سے ان جابرانہ اقدامات کا راستہ روکا تو قتل و غارت گری، قید و بند کے سلسلے کی درازی، مکانات اور رہائشی عمارات کو بارود و آگ کی نذر کردینے، پیلٹ مار کر سیکڑوں کشمیریوں کی بینائیاں سلب کرنے، GST جیسے ٹیکس اقدامات کرکے یہاں کے کاروبار اور اقتصادیات کو تباہ و برباد کرنے، 2014میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران بیرون دنیا سے آنے والے امداد و نصرت کو روکنے ،کشمیریوں کی اقتصادی صورت حال اور ٹورزم کو تباہ کرنے کیلئے یہاں آنے والے سیاحوں کو روکنے، بھارتی ایجنسیوں این آئی اے ،ای ڈی وغیرہ کو استعمال کرنے، کشمیری اسیروں پر کالے قانون پی ایس اے کے تحت گرفتار کرنے اور بیرون جموں کشمیر جیلوں میں شفٹ کرنے جیسے مظالم و مجابر کا آغاز کردیا گیاجو تاہنوز جاری ہیں۔
قائدین نے کہا کہ پچھلے پانچ برس کے دوران سیکڑوں کشمیری جوانوں جن میں متعدد خواتین بھی شامل ہیں کو تہہ تیغ کیا گیا اور دنیا نے دیکھا کہ مقتولین کی لاشوں کو گھسیٹا گیا، جلاڈالا گیا،مسخ کیا گیا اور لاشوں پر جشن تک منایا جاتا رہا۔ رہائشی مکانات اور عمارات کو بارود ، پٹرول اور کمیکل کا استعمال کرکے مسمار کیا جاتا رہا اور فاخرانہ انداز میں اس تباہی کو فلمایا اور نشر کیا جاتا رہا،کشمیر کے جنوب و شمال ووسط میں لوگوں کو CASOاور کریک ڈاؤن کے نام پرفوجی جبر کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور پیلٹ مار مار کر ۱۶ برس کی حبہ جان سے لیکر ۸۰ سالہ بزرگ تک کی بینائیاں سلب کردی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ کشمیریوں کو سرنگوں کرنے کیلئے این آئی اے، ای ڈی اور دوسری ایجنسیاں استعمال کی گئیں اور کشمیریوں کو تہاڑ سے لیکر بنگال اور پنجاب سے لیکر ہریانہ کی جیلوں تک میں ڈالا گیا۔ کشمیریوں کی اقتصادیات کو تباہ کرنے کیلئے نہ صرف جی ایس ٹی جیسے ٹیکس قوانین کو نافذ کیا گیا بلکہ کشمیر آنے والے سیاحوں تک کو یہاں آنے سے روکنے کی کوششیں کی گئیں۔
قائدین نے کہا کہ بھارت کے یہی وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنے پچھلے کشمیر دورے کے دوران کشمیری سیاحتی اداروں کی اپیل کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیری سیاحت اور دہشت گردی میں سے ایک کو چن لیں اور یوں موصوف نے یہاں آنے والے سیاحوں کو واضح پیغام دیا کہ وہ کشمیر نہ آئیں۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق قائدین نے کہا کہ آج بھی بھارتی وزیراعظم ۸۵۰ میگا واٹ ریٹل پاور پراجکٹ کو نیشنل ہائڈرو الکٹرک پاور کارپوریشن کے حوالے کرنے کیلئے آرہے ہیں۔ یہ بھی کشمیریوں کے وسائل خاص طور پر پانی اور جنگلات کو لوٹنے اور جموں کشمیر کے لوگوں کی اقتصادیات کو مکمل طور پر مفلوج کرکے کشمیریوں کو اپنے ہی وسائل کے استعمال کے لئے بھارت کے سامنے ہاتھ پھیلانے کیلئے مجبور کرنے کا ادارہ جاتی منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل لوٹ کر بھارت کے شہروں کو روشن کیا جارہا ہے اور ہمیں موٹی موٹی بلیں ادا کرنے کے باوجود سخت ترین سردی کے ایام میں بھی بجلی سے محروم کرنے اور بجلی کو نجی ملکیت میں دینے اور پری پیڈ میٹر لگاکر ہمیں مذید زچ کرنے کی دھمکیاں بھی آئے روز دی جارہی ہیں۔ قائدین نے کہا کہ این ایچ پی سی کے نام تلے اس لوٹ مار کو کشمیری مذید برداشت نہیں کریں گے اور اس کے خلاف زور دار مزاحمت کی جائے گی ۔
مشترکہ قائدین نے کہا کہ مودی جی کا ہی دور ہے کہ جب جموں کے مسلمانوں پر قافیہ حیات تنگ کردیا گیا اور انہیں نقل مکانی تک پر مجبور کردینے کی سعی کی گئی۔ یہی ہیں کہ جن کی جماعت نے اپنی مسلم اور کشمیر دشمنی کی ترنگ میں کٹھوعہ کی معصوم آصفہ کی بے حرمتی اور فساکانہ قتل تک کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر جائز ٹھہرانے کا گناہ کیا۔یہی ہیں کی جن کی چھترچھایا میں آج بھی جموں کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کردینے کا سلسلہ جاری ہے۔ قائدین نے کہا کہ مظالم و مجابر ، آہنی اقدامات اور ٹارچر،کشمیر و مسلم مخالف آئینی و اقانونی اقدامات اُٹھانے اور کشمیریوں کی مزاحمت و مقاومت کو کچلنے کیلئے دوسرے ظالمانہ ہتھکنڈے اُٹھانے ، ان کا حکم دینے اور ان ظالمانہ اقدامات کو جائز ٹھہرانے والی سیاسی شخصیت کی یہاں آمد کسی بھی صورت میں مظلوموں اور مقہوروں کیلئے باعث مسرت نہیں ہوسکتی اور اس پر کشمیری سوائے احتجاج کے کچھ اور نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کشمیریوں سے اپیل کی وہ اتوار3؍ فروری 2019کے روز‘ وزیراعظم نریندر مودی کی جموں کشمیر آمد پر مکمل اور ہمہ گیر کشمیر بندھ رکھیں اور اپنے کاروبار، اداروں ،ٹرانسپورٹ اور دوسری سرگرمیوں کو معطل رکھ کر دنیا پر واضح کریں کہ کشمیری مظالم و مجابر کی انتہا کے باوجود اپنی حق خود رادیت کے حصول کی پرامن جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر حال میں جاری رکھیں گے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
