دنیا
تجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
تہران، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب گارڈز کور (آئی آر جی سی) کے سابق کمانڈر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) کا سکریٹری مقرر کیا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملک میں پرانے نظام کے بااثر حلقے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔
71 سالہ رضائی ایک تجربہ کار فوجی کمانڈر اور نظام کی نمایاں شخصیت ہیں۔ انہیں ایس این ایس سی کا سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے محمد باقر ذوالقدر کی جگہ لی ہے، جو مارچ سے اس عہدے پر فائز تھے۔
رضائی طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں گہری بداعتمادی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ان کی تقرری ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے نسبتاً زیادہ سخت گیر رویے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
سرکاری طور پر جاری کیے گئے فرمان کے مطابق، سپریم لیڈر نے انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا اور رضائی کے ’’قیمتی تجربات‘‘ کو سراہتے ہوئے انہیں ’’آٹھ سالہ مقدس دفاع‘‘ کا ایک پیش رو قرار دیا۔ ’’مقدس دفاع‘‘ سے مراد 1980 کی دہائی کی ایران۔عراق جنگ ہے۔
رضائی نے 1981 سے 1997 تک آئی آر جی سی کی کمان سنبھالی۔ وہ اس وقت مصلحت تشخیصی کونسل کے رکن اور سپریم کونسل برائے اقتصادی رابطہ کاری کے سکریٹری بھی ہیں۔
فرمان میں محمد باقر ذوالقدر کی اس عہدے پر ’’شب و روز کی کوششوں‘‘ پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا اور سبکدوش ہونے والے نمائندے کی خدمات کو سراہا گیا۔
سپریم لیڈر نے فرمان میں لکھا، ’’مجھے امید ہے کہ آپ اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی میں مکمل کامیابی حاصل کریں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارے آقا امام مہدی کی برکتوں کے سائے میں آپ ہمیشہ ایران کی سربلند قوم کے وفادار سپاہی بنے رہیں۔‘‘
ایس این ایس سی کی سربراہی باضابطہ طور پر صدر مسعود پزشکیان کرتے ہیں اور یہ کونسل ایران کی سلامتی اور خارجہ پالیسی میں رابطہ کاری کا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں سپریم لیڈر کے نمائندے کے علاوہ اعلیٰ فوجی، انٹیلی جنس اور حکومتی عہدیدار شامل ہیں۔
رضائی پہلے ہ۔ی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے قابلِ اعتماد معاونین کے محدود حلقے کا حصہ تھے اور ان کے فوجی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ تاہم، نئی تقرری نے انہیں ایران کے سکیورٹی نظام کے انتہائی بااثر عہدوں میں سے ایک پر پہنچا دیا ہے۔
رضائی کو 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران اسلامی انقلابی گارڈز کور کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔ وہ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایران کے سیاسی، سکیورٹی اور فوجی نظام کے مرکز میں رہے ہیں۔ آئی آر جی سی میں رضائی کو ان کے پیشرو ذوالقدر کے مقابلے میں کہیں زیادہ اختیارات حاصل رہے ہیں۔
رضائی نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران اسلامی انقلابی زیرِ زمین سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے اور اسلامی گوریلا گروپوں کے ساتھ مل کر لڑتے ہوئے ایران کے سیاسی و سکیورٹی نظام میں اپنا مقام بنایا۔ انہوں نے آئی آر جی سی کے ابتدائی منشور کی تیاری میں بھی مدد کی۔ بعد ازاں وہ اس فورس کے سب سے طویل عرصے تک کمانڈر رہنے والے سربراہ بنے اور آئی آر جی سی کو ایران کے طاقتور ترین اداروں میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایران کے سکیورٹی نظام میں گہری جڑیں رکھنے والے رضائی بعد میں مصلحت تشخیصی کونسل میں شامل ہوئے، جو سپریم لیڈر کو مشورے دیتی ہے اور سابق صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ رضائی نے چار مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا، تاہم کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔
حالیہ عرصے میں رضائی نے امریکہ کے خلاف سخت گیر مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’دانش مندی اور تدبر کی کمی‘‘ کا شکار قرار دیا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے جوابی حملوں نے خطے میں امریکی افواج کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہا، ’’ایران نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ٹرمپ کی ایران کے خلاف تیسری جنگ درمیان ہی میں شکست سے دوچار ہو گئی، جس سے ان کی سابقہ ناکامیوں میں ایک اور سنگین ناکامی کا اضافہ ہوا۔‘
رضائی نے گزشتہ ہفتے ایکس پر جاری کردہ اپنی ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو ’’امریکی بحری جہازوں اور افواج کو سنگین خطرات اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ رضائی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اہم آبی گزرگاہ پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے۔
گزشتہ ماہ رضائی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو ’’ختم‘‘ قرار دیا تھا، تاہم ساتھ ہی کہا تھا کہ مذاکرات ’’صرف عبور کرنے کے لیے ایک پل ہیں، کوئی مستقل عہد نہیں۔‘
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ایران اپنی سرزمین پر ممکنہ امریکی حملے کے لیے تیار ہے اور ’’دنیا ایران کی حقیقی صلاحیتوں سے واقف ہو جائے گی۔‘‘
ذوالقدر نے اس وقت یہ عہدہ سنبھالا تھا جب کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی رواں سال کے اوائل میں ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے دوران اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ کونسل، جس میں اعلیٰ سول اور فوجی عہدیدار شامل ہیں، امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے ایران کی پالیسی طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
