دنیا
تجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
تہران، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب گارڈز کور (آئی آر جی سی) کے سابق کمانڈر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) کا سکریٹری مقرر کیا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملک میں پرانے نظام کے بااثر حلقے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔
71 سالہ رضائی ایک تجربہ کار فوجی کمانڈر اور نظام کی نمایاں شخصیت ہیں۔ انہیں ایس این ایس سی کا سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے محمد باقر ذوالقدر کی جگہ لی ہے، جو مارچ سے اس عہدے پر فائز تھے۔
رضائی طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں گہری بداعتمادی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ان کی تقرری ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے نسبتاً زیادہ سخت گیر رویے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
سرکاری طور پر جاری کیے گئے فرمان کے مطابق، سپریم لیڈر نے انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا اور رضائی کے ’’قیمتی تجربات‘‘ کو سراہتے ہوئے انہیں ’’آٹھ سالہ مقدس دفاع‘‘ کا ایک پیش رو قرار دیا۔ ’’مقدس دفاع‘‘ سے مراد 1980 کی دہائی کی ایران۔عراق جنگ ہے۔
رضائی نے 1981 سے 1997 تک آئی آر جی سی کی کمان سنبھالی۔ وہ اس وقت مصلحت تشخیصی کونسل کے رکن اور سپریم کونسل برائے اقتصادی رابطہ کاری کے سکریٹری بھی ہیں۔
فرمان میں محمد باقر ذوالقدر کی اس عہدے پر ’’شب و روز کی کوششوں‘‘ پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا اور سبکدوش ہونے والے نمائندے کی خدمات کو سراہا گیا۔
سپریم لیڈر نے فرمان میں لکھا، ’’مجھے امید ہے کہ آپ اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی میں مکمل کامیابی حاصل کریں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارے آقا امام مہدی کی برکتوں کے سائے میں آپ ہمیشہ ایران کی سربلند قوم کے وفادار سپاہی بنے رہیں۔‘‘
ایس این ایس سی کی سربراہی باضابطہ طور پر صدر مسعود پزشکیان کرتے ہیں اور یہ کونسل ایران کی سلامتی اور خارجہ پالیسی میں رابطہ کاری کا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں سپریم لیڈر کے نمائندے کے علاوہ اعلیٰ فوجی، انٹیلی جنس اور حکومتی عہدیدار شامل ہیں۔
رضائی پہلے ہ۔ی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے قابلِ اعتماد معاونین کے محدود حلقے کا حصہ تھے اور ان کے فوجی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ تاہم، نئی تقرری نے انہیں ایران کے سکیورٹی نظام کے انتہائی بااثر عہدوں میں سے ایک پر پہنچا دیا ہے۔
رضائی کو 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران اسلامی انقلابی گارڈز کور کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔ وہ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایران کے سیاسی، سکیورٹی اور فوجی نظام کے مرکز میں رہے ہیں۔ آئی آر جی سی میں رضائی کو ان کے پیشرو ذوالقدر کے مقابلے میں کہیں زیادہ اختیارات حاصل رہے ہیں۔
رضائی نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران اسلامی انقلابی زیرِ زمین سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے اور اسلامی گوریلا گروپوں کے ساتھ مل کر لڑتے ہوئے ایران کے سیاسی و سکیورٹی نظام میں اپنا مقام بنایا۔ انہوں نے آئی آر جی سی کے ابتدائی منشور کی تیاری میں بھی مدد کی۔ بعد ازاں وہ اس فورس کے سب سے طویل عرصے تک کمانڈر رہنے والے سربراہ بنے اور آئی آر جی سی کو ایران کے طاقتور ترین اداروں میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایران کے سکیورٹی نظام میں گہری جڑیں رکھنے والے رضائی بعد میں مصلحت تشخیصی کونسل میں شامل ہوئے، جو سپریم لیڈر کو مشورے دیتی ہے اور سابق صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ رضائی نے چار مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا، تاہم کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔
حالیہ عرصے میں رضائی نے امریکہ کے خلاف سخت گیر مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’دانش مندی اور تدبر کی کمی‘‘ کا شکار قرار دیا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے جوابی حملوں نے خطے میں امریکی افواج کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہا، ’’ایران نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ٹرمپ کی ایران کے خلاف تیسری جنگ درمیان ہی میں شکست سے دوچار ہو گئی، جس سے ان کی سابقہ ناکامیوں میں ایک اور سنگین ناکامی کا اضافہ ہوا۔‘
رضائی نے گزشتہ ہفتے ایکس پر جاری کردہ اپنی ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو ’’امریکی بحری جہازوں اور افواج کو سنگین خطرات اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ رضائی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اہم آبی گزرگاہ پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے۔
گزشتہ ماہ رضائی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو ’’ختم‘‘ قرار دیا تھا، تاہم ساتھ ہی کہا تھا کہ مذاکرات ’’صرف عبور کرنے کے لیے ایک پل ہیں، کوئی مستقل عہد نہیں۔‘
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ایران اپنی سرزمین پر ممکنہ امریکی حملے کے لیے تیار ہے اور ’’دنیا ایران کی حقیقی صلاحیتوں سے واقف ہو جائے گی۔‘‘
ذوالقدر نے اس وقت یہ عہدہ سنبھالا تھا جب کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی رواں سال کے اوائل میں ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے دوران اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ کونسل، جس میں اعلیٰ سول اور فوجی عہدیدار شامل ہیں، امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے ایران کی پالیسی طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں تعطل سے جہاز رانی متاثر، تیل کی قیمت 100 ڈالر کے قریب پہنچ گئی
تہران، آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری تعطل کے باعث اہم آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت محدود رہنے اور ایران و امریکہ کے درمیان کشیدگی میں فوری کمی کے آثار نظر نہ آنے کے سبب منگل کو تیل کی قیمتیں 7 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
بین الاقوامی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس سے اگست کے آخر سے جاری قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ مزید آگے بڑھا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی ایسے وقت میں آئی ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کے اطراف بحری آمدورفت پر کنٹرول مزید سخت کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا کہ تہران آبنائے کے باہر ایک بحری ’’ممنوعہ زون‘‘ قائم کرنے پر غور کر رہا ہے اور خبردار کیا کہ ایرانی اجازت کے بغیر آبنائے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کو روکا جا سکتا ہے۔
ایران نے امریکہ کی جانب سے خلیج فارس اور خلیج عمان میں 3 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد ’’زیادہ شدید اور زیادہ تکلیف دہ‘‘ جوابی کارروائی کی بھی دھمکی دی ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے کے دوران ملک کے 27 ہوائی اڈوں کو نقصان پہنچا، جس سے رن ویز، حفاظتی تنصیبات، نیوی گیشن اور معائنے کے آلات اور مسافر ٹرمینلز متاثر ہوئے۔
ایران ایئرپورٹس کمپنی کے سربراہ مرتضیٰ دہقان نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد ملک کے ہوا بازی کے حکام فضائی خدمات بحال کرنے میں کامیاب رہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’اسنا‘‘ کے مطابق دہقان نے کہا، ’’جنگ کے دوران 27 ہوائی اڈوں کو نقصان پہنچا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ملکی ماہرین نے فضائی نقل و حمل کی خدمات بحال کر دی ہیں، تاہم بعد ازاں کئی ہوائی اڈوں اور ہوا بازی کی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا، جن میں رڈار اور نیوی گیشن نظام بھی شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
قطر اور چین کے درمیان علاقائی کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی سلامتی پر تبادلہ خیال
بیجنگ، قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے منگل کو بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں قطر اور چین کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ تازہ ترین علاقائی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے جاری بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا۔
بیان میں کہا گیا، ’’ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے تعلقات اور مختلف شعبوں میں انہیں مزید معاونت اور مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں تازہ ترین علاقائی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کی سفارتی کوششوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی اور آزادی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔‘‘
مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی اور آزادی یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
شیخ محمد نے سفارتی کوششوں کے لیے قطر کی ’’مکمل حمایت‘‘ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوششوں کے ذریعے ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جو سمندری جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت دے اور ایک جامع معاہدے کے لیے حالات پیدا کرے، جو خطے میں پائیدار امن قائم کرنے میں مدد دے سکے۔
محمد نے کہا کہ ریاست قطر چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسیع تر سطح تک لے جانے اور دونوں ممالک اور ان کے عوام کے مشترکہ اہداف اور مفادات کے مطابق تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی خواہاں ہے۔ملاقات کے بعد شیخ محمد نے وانگ یی کے ساتھ اپنی بات چیت کو ’’ثمر آور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
انہوں نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا، ’’ہم نے اپنے باہمی مفادات کے لیے دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا، علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لیا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے مل کر کام کرنے کی امید ظاہر کی۔‘‘
چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹ بیورو کے رکن وانگ یی نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی تزویراتی رہنمائی میں حالیہ برسوں کے دوران چین اور قطر کے تعلقات میں ’’نمایاں پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
وانگ نے کہا کہ چین قطر کی خودمختاری، آزادی، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اس کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ دوحہ چین کے بنیادی مفادات سے متعلق معاملات پر بیجنگ کی حمایت جاری رکھے گا۔
وانگ نے کہا، ’’قطر کے ترقی کے عمل میں چین سب سے زیادہ قابلِ اعتماد اور طویل مدتی شراکت دار ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ بین الاقوامی اور علاقائی امور پر دوحہ کے ساتھ رابطے اور تعاون برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب شیخ محمد نے ایک چین کے اصول سے قطر کی وابستگی اور چین کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ قطر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے ذریعے چین کے ساتھ رابطے اور رابطہ کاری مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے، جبکہ کثیر الجہتی نظام، بین الاقوامی امن اور مشترکہ ترقی کی حمایت بھی جاری رکھے گا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب قطر، پاکستان کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں میں اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد جاری امریکا-ایران تنازع کے مذاکرات کے ذریعے حل تک پہنچنا ہے۔
ایک روز قبل شیخ محمد نے بیجنگ میں چینی وزیر اعظم لی چیانگ سے ملاقات کی تھی۔ لی نے جاری تنازع کے دوران قطر کی ثالثی کی کوششوں کے لیے بیجنگ کی حمایت کا اظہار کیا۔
مذاکرات میں معیشت، سرمایہ کاری، تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ باہمی مفادات کے شعبوں میں موجود شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے قاسم بصیر میزائل کی رونمائی کردی، فعال بازداریت کی جانب پیش قدمی کا اشارہ
تہران، ایران کی جانب سے قاسم بصیر بیلسٹک میزائل کی رونمائی تہران کی دفاعی بازداریت کی حکمت عملی میں ممکنہ طور پر ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں ملک نے درست نشانہ سازی، حملے سے بچاؤ کی صلاحیت اور تنازع بڑھنے سے قبل دشمنوں کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت پر زیادہ زور دینا شروع کر دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ٹھوس ایندھن سے چلنے والا یہ میزائل الیکٹرو آپٹیکل رہنمائی کے نظام سے لیس ہے اور نصف ٹن وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے ایران کے بڑھتے ہوئے میزائل ذخیرے میں محض ایک اور میزائل کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کی تیاری اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے جسے ایرانی حکام تیزی سے ایک بنیادی طور پر ردعمل پر مبنی مؤقف سے زیادہ فعال نوعیت کی بازداریت کی جانب پیش قدمی قرار دے رہے ہیں۔
اس ابھرتی ہوئی حکمت عملی کے تحت ایران کا مقصد صرف حملے کے بعد جوابی کارروائی کرنا نہیں بلکہ اس وقت بھی ردعمل دینا ہوگا جب وہ یہ طے کرے کہ ایک سنگین اور فوری خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ اس سوچ کے مطابق مقصد ممکنہ حملے کے مکمل پیمانے پر پہنچنے سے پہلے ہی دشمن پر اس کی قیمت عائد کرنا ہے۔
یہ تبدیلی ایران کی میزائل، ڈرون، بحری اور جاسوسی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے اور اعلیٰ سطح کے ایرانی سکیورٹی حکام کے زیادہ جارحانہ بیانات کے درمیان سامنے آئی ہے۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت ایسی فوجی پوزیشن تشکیل دینے کی کوشش کی نشاندہی کرتی ہے جو حملہ شروع ہونے سے پہلے دشمن کے منصوبوں کا پتا لگانے، اسے نشانہ بنانے کی دھمکی دینے اور ممکنہ طور پر اسے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
یہ نظریہ بازداریت کے روایتی فارمولے ’’وہ حملہ کریں، ہم جواب دیں‘‘ سے مختلف ہے۔ اس کے بجائے تہران ایسی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے ذریعے وہ یہ طے کر سکے کہ کسی خطرے کے اس کی نظر میں اہم حد عبور کرنے کے بعد کب اور کہاں جواب دینا ضروری ہے۔
قاسم بصیر کو اس حکمت عملی میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کی اہمیت صرف اس کی مبینہ مار یا وار ہیڈ تک محدود نہیں بلکہ ایران جس قدر درست رہنمائی اور جدید میزائل دفاعی نظاموں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت پر زور دے رہا ہے، وہ بھی اہم ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے یہ اطلاع دی۔
جدید جنگ میں بیلسٹک میزائل کی بازدار صلاحیت کا تعین صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ کتنی دور تک جا سکتا ہے یا اس کا وار ہیڈ کتنا بڑا ہے، بلکہ اس کی یہ صلاحیت بھی اہم ہے کہ وہ اہم اہداف کو درست نشانہ بنا سکے، دفاعی اقدامات سے بچ سکے اور تہہ در تہہ فضائی دفاعی نظاموں کو عبور کر سکے۔
لہٰذا ایران کی جانب سے قاسم بصیر کی پیشکش اس کے میزائل پروگرام میں وسیع تر ارتقا کی عکاسی کرتی ہے، جس میں بنیادی توجہ صرف مار اور تباہ کن طاقت پر رکھنے کے بجائے زیادہ درستگی، حملے سے بچاؤ کی صلاحیت اور مختلف اہداف میں امتیاز کرنے کی صلاحیت پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
اس ارتقا کے ساتھ جاسوسی اور ہدف بندی کے نظام، ڈرونز، جہاز شکن ہتھیاروں اور زیادہ فاصلے سے حملے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں میں سرمایہ کاری بھی جاری ہے۔ مجموعی طور پر یہ نظام ایران کو دشمن کے فوجی ڈھانچے اور دیگر تزویراتی اہداف کو خطرے میں رکھنے کے لیے زیادہ وسیع اختیارات فراہم کر سکتے ہیں۔
لہٰذا ایران کی ابھرتی ہوئی فوجی پوزیشن کا سب سے اہم پہلو ٹیکنالوجی کے بجائے اس کی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا7 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
جموں و کشمیر4 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر4 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
دنیا7 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
دنیا1 week agoنیپال میں سرنگوں میں پھنسے افراد نے سیلاب متاثرین کی تلاش و امداد مشکل بنا دی، 900 سے زائد ہلاک، تقریباً 5 ہزار لاپتہ
