ہندوستان
چار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
نئی دہلی، حکومت نے مغربی بنگال، اڈیشہ، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے چار منصوبوں کو منظوری دی ہے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے بدھ کے روز یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی کی میٹنگ میں ان منصوبوں کو منظوری دی گئی تقریباً 410 کلومیٹر طویل ان منصوبوں کی تعمیر کی تخمینہ لاگت تقریباً 9,450 کروڑ روپے ہے اور انہیں سال 31-2030 تک مکمل کیا جانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں مغربی بنگال اور اڈیشہ میں 173 کلومیٹر طویل کھڑگپور – بھدرک (رانی تال) چوتھی لائن، اڈیشہ میں 75 کلومیٹر طویل بھدرک – ہرپرداس پور چوتھی لائن، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں 90 کلومیٹر طویل گمڈی پونڈی – گڈور تیسری و چوتھی لائن نیز اڈیشہ میں 72 کلومیٹر طویل کٹک – پارادیپ (بدابندھا) تیسری و چوتھی لائن شامل ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ان چاروں منصوبوں کے مکمل ہونے سے آٹھ اضلاع میں ریل رابطہ مضبوط ہوگا اور تقریباً 6,448 دیہات کو اس کا فائدہ ملے گا۔ منصوبوں کی تکمیل سے ان ریاستوں کی تقریباً 60 لاکھ آبادی مستفید ہوگی، اس سے ریل آپریشن کی صلاحیت بڑھے گی، بھیڑ کم ہوگی اور مسافروں نیز سامان کی آمد و رفت آسان ہوگی۔ ان منصوبوں سے کوئلہ،خام لوہے، سیمنٹ، لوہا و اسٹیل، کنٹینر، گاڑیاں اور اناج وغیرہ کی نقل و حمل کے لیے سالانہ تقریباً 7.6 کروڑ ٹن اضافی مال برداری کی صلاحیت بہتر ہوگی۔
مسٹر ویشنو نے بتایا کہ ان منصوبوں سے کلڈیہا وائلڈ لائف سینکچری، بھیتر کنیکا نیشنل پارک، ماں بھدرکالی مندر، ماں دھامرائی مندر، پنچ لنگیشور مندر، ساحلی سیاحتی مقامات، پلیکٹ جھیل، نیلا پٹو برڈ سینکچری، ویر راگھو پیرومل مندر، گڈا کنجنگا جگن ناتھ مندر، سرلا مندر، ڈھابلیشور مندر اور للت گیری جیسے اہم سیاحتی مقامات کو بہتر ریل رابطہ ملے گا۔
ان منصوبوں سے تقریباً 13 کروڑ لیٹر تیل کی درآمد میں کمی اور تقریباً 65 کروڑ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آنے کا تخمینہ ہے۔ یہ منصوبے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
شاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
نئی دہلی، عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال نے سابق وزیر ستییندر جین کی گرفتاری پر مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ پرسنگین الزامات عائد کیے ہیں مسٹر کیجریوال نے بدھ کے روز ایکس پر دعویٰ کیا کہ صبح تک اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کی جانب سے ستییندر جین کو گرفتار کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا، لیکن دوپہر میں مسٹر شاہ کی طرف سے مبینہ طور پر براہِ راست فون آنے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک اے سی بی افسر نے بتایا کہ “صبح تک ستییندر جین کو گرفتار کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ پھر دوپہر میں مسٹر شاہ کا براہِ راست فون آیا اور کہا گیا – ‘انہیں گرفتار کرو۔’ اس کے بعد ہی گرفتاری کی گئی۔” انہوں نے الزام لگایا کہ تحقیقاتی ایجنسی پر دباؤ ڈال کر جین کی گرفتاری کرائی گئی۔ انہوں نے مسٹر شاہ سے مبینہ دباؤ کے تعلق سے وضاحت کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا، “گرفتاری تب کی جاتی ہے جب پولیس کو اس شخص سے پوچھ گچھ اور تفتیش کرنی ہو۔ ستییندر جین کی پولیس نے کسٹڈی ہی نہیں لی۔ اس کا مطلب ستییندر سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرنی۔ صرف امت شاہ کے دباؤ کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ ستییندر جین کو دہلی جل بورڈ کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبوں کے ٹینڈر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں سے جڑے معاملے میں پانچ دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کو ‘دلت مانسکتا’ کہنے پر کانگریس کا بی جے پی – آر ایس ایس پر حملہ
نئی دہلی، کانگریس نے دہلی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسییات کے ایک پروفیسر کے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے بارے میں کیے گئے تبصرے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس تبصرے نے دلتوں کے تئیں بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی ‘مانسکتا’ یعنی ذہنیت کو بے نقاب کر دیا ہے کانگریس شعبہ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے بدھ کو سوشل میڈیا ایکس پر آر ایس ایس سے وابستہ اس پروفیسر کے ایک نیوز چینل پر کیے گئے تبصرے کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ راہل اور کھرگے کو ‘غلامی کی مانسکتا’ اور ‘دلت مانسکتا’ سے جوڑنا ان کی شناخت کو ذات پات کے روایتی تعصب تک محدود کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کھرگے ملک کے اہم دلت رہنماؤں میں سے ہیں اور انہوں نے دہائیوں کی عوامی خدمت اور اپنے سیاسی سفر کے بل بوتے پر یہ مقام حاصل کیا ہے۔
پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ کچھ دن پہلے مسٹر کھرگے کے ساتھ چھوت چھات سے متعلق مبینہ توہین آمیز سلوک کیا گیا لیکن بی جے پی، آر ایس ایس یا ان سے وابستہ تنظیموں نے اس کی مذمت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ دلت رہنما کو اس کی شناخت کی وجہ سے ذلیل کیے جانے پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، جبکہ اس کے اپنے سیاسی حق کا استعمال کرنے پر اس کی ‘مانسکتا’ پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اصل سوال دلت ذہنیت کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا ہے جو دلت رہنما کو اپنے حق اور آزاد سیاسی حیثیت کے ساتھ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بھی ٹرمپ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا، ’’صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ بالکل درست ہیں!ہندوستان کے گزشتہ انتخابات میں 646 ملین ووٹرز تھے اور ہر ایک کے لیے شناختی دستاویز لازمی تھی۔
کانگریس کو سیو امریکہ ایکٹ منظور کرنا چاہیے۔‘‘مجوزہ قانون میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے لیے مزید سخت ضوابط، ووٹرز کی اہلیت کی مضبوط جانچ اور انتخابی فہرستوں سے نااہل افراد کی شناخت کرکے انہیں خارج کرنے کے لیے اختیارات میں توسیع بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کی ضرورت غیر شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے اور انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ بارہا ہندوستان اور برازیل کو ایسے ممالک کی مثال کے طور پر پیش کر چکی ہے جہاں ووٹر شناخت کو بایومیٹرک نظام سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ میں شہریت کے خود اقراری نظام پر زیادہ انحصار کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
مارچ 2025 میں ٹرمپ کے دستخط کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر میں بھی ہندوستان اور برازیل کو ایسے ممالک کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا تھا جہاں ووٹر شناخت بایومیٹرک نظام سے منسلک ہے۔ حکم نامے میں امریکی انتخابات کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات، بشمول ووٹر کے ذریعے قابل تصدیق کاغذی ریکارڈ اور ڈاک و غیرحاضری کے بیلٹ کی مزید سخت جانچ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ٹرمپ یہ مؤقف بھی بارہا اختیار کر چکے ہیں کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے دھوکہ دہی اور غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انتظامیہ نے ووٹر شناخت اور شہریت کے ثبوت کی لازمی شرط کے لیے حمایت بڑھانے کی غرض سے ان رائے عامہ کے جائزوں کا بھی حوالہ دیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں عوام کی بڑی تعداد ان تقاضوں کی حمایت کرتی ہے۔
ٹرمپ نے مارچ 2026 میں ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت وفاقی انتخابات کے لیے شہریت کی تصدیق کو مضبوط بنانے اور ڈاک و غیرحاضری کے بیلٹ سے متعلق طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی۔
سیو ایکٹ کیپٹل ہل پر بدستور سیاسی تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ ڈیموکریٹس اس کی متعدد شقوں کی سخت مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز کے درمیان بھی بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ سینیٹ نے اس ماہ کے آغاز میں قانون پر فیصلہ کن کارروائی کیے بغیر پانچ ہفتوں کی تعطیلات شروع کر دی تھیں۔
اس کے باوجود ٹرمپ نے اس بل کو اپنے انتخابی سالمیت کے ایجنڈے کا اہم حصہ بنائے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات کے تحفظ کے لیے ووٹر کی لازمی شناخت اور شہریت کی تصدیق ضروری ہے۔
ہندوستان کے بڑے پیمانے پر انتخابی عمل اور ووٹر شناخت کی لازمی شرائط کا حوالہ دے کر ٹرمپ امریکہ کے انتخابی قوانین میں تبدیلی کی اپنی مہم میں ہندوستانی نظام کو ایک اہم مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
زیادہ سخت پابندیوں کے حامی طویل عرصے سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی شفافیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ کمیشن آن فیڈرل الیکشن نے خبردار کیا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے دھوکہ دہی اور متنازع انتخابات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، تاہم کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ غیرحاضری کے بیلٹ میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی اسکیموں کا پتہ لگانے میں خاص مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
2012 میں نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیق میں بھی ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے بیلٹ سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا گیا تھا، جن میں یہ امکان بھی شامل تھا کہ ذاتی طور پر ڈالے گئے ووٹوں کے مقابلے میں ایسے بیلٹ کو چیلنج یا متاثر کیے جانے کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
حال ہی میں ہاوس ری پبلکن پالیسی کمیٹی نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے غلطیوں اور دھوکہ دہی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں ووٹر فہرستوں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا اور اس سے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر7 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 week agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان6 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 week agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
ہندوستان6 days agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
دنیا1 week agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان6 days agoتبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
-
دنیا1 week agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
