جموں و کشمیر
راہل گاندھی حکومت کو جواب دہ بنا رہے ہیں: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی کے دہلی میں احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کو جواب دہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے سوال کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے۔ دہلی کے ایک پولیس اسٹیشن کے باہر گاندھی کے دھرنے پر بیٹھنے سے متعلق سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر وہی کر رہے ہیں، جو ان سے توقع کی جاتی ہے۔ عمر نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے کہا، ’’اگر اپوزیشن لیڈر اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کریں گے تو پھر اس کا کیا فائدہ ہے‘‘
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو اس بنیاد پر مختلف پیمانوں سے نہیں پرکھا جانا چاہیے کہ مسئلہ کون اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے آپ کو جموں و کشمیر کے اپوزیشن لیڈر سے یہ پوچھتے ہوئے نہیں سنا کہ آپ بار بار بے فائدہ سوالات کیوں اٹھاتے ہیں۔ جب وہ ایسا کرتے ہیں تو آپ لطف لیتے ہیں، لیکن جب راہل گاندھی ایسا کرتے ہیں تو آپ پوچھتے ہیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ آپ اپوزیشن رہنماؤں کو الگ الگ پیمانوں سے نہیں پرکھ سکتے۔‘‘ عمر نے کہا کہ گاندھی کے اقدامات اپوزیشن لیڈر کو سونپی گئی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’راہل گاندھی وہی کر رہے ہیں جو ملک ان سے توقع کرتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کا کام حکومت سے جواب طلب کرنا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کا کام حکومت کو جواب دہ بنانا ہے۔ راہل گاندھی بھی یہی کر رہے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ وہ اسی طرح اپنا کام جاری رکھیں۔ یہی اپوزیشن کا کام ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کو جموں و کشمیر میں اسلام کے پھیلاؤ سے متعلق مبینہ بیان پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں مذہبی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ شرما کے مبینہ بیان سے متعلق سوال کے جواب میں عمر نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کے بجائے جموں و کشمیر میں اسلام کی تاریخ پر اپوزیشن لیڈر کی توجہ ان کی حکومت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔
عمر نے کہا، ’’پھر میں کہوں گا کہ ہماری حکومت کی کارکردگی بہت اچھی ہوگی۔ اپوزیشن لیڈر کو اس حکومت کے بارے میں کہنے کے لیے کچھ نہیں ملا۔ اب وہ اس بات پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں اسلام کیسے آیا۔ میں اسے اپنی کامیابی سمجھوں گا۔‘‘ تاہم، انہوں نے سیاسی رہنماؤں کو مذہبی معاملات پر بیانات دینے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات لوگوں کے جذبات کو متاثر کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ انہیں مذہبی معاملات پر زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم تشدد بھی دیکھ چکے ہیں۔‘‘ بابری مسجد کے انہدام کا حوالہ دیتے ہوئے عمر نے سوال کیا کہ کیا اس واقعے کو تشدد کا عمل نہیں سمجھا جاسکتا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’بابری مسجد میں کیا ہوا تھا؟ کیا وہ تشدد نہیں تھا؟ کیا وہ زبردستی نہیں کی گئی تھی؟ آج ملک بھر کے مسلمان جن حالات کا سامنا کر رہے ہیں، وہ کیا ہے؟ لہٰذا حالات چاہے جیسے بھی ہوں، انہیں لوگوں کے مذہبی جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیے۔ وہ اپوزیشن کے لیڈر ہیں، مذہبی رہنما نہیں۔ انہیں مذہبی معاملات مذہبی رہنماؤں پر چھوڑ دینے چاہئیں اور اپنے بیانات کو سیاست تک محدود رکھنا چاہیے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کشتواڑ میں ایک کمسن قبائلی لڑکی کے مبینہ عصمت دری اور موت کے واقعے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے شرمناک قرار دیتے ہوئے انتظامیہ سے فوری کارروائی کرنے کی اپیل کی۔ عمر نے کہا، ’’یہ شرمناک ہے۔ ہمیں امید ہے کہ انتظامیہ، خاص طور پر امن و قانون برقرار رکھنے والے ادارے، جلد از جلد کارروائی کریں گے۔‘‘ انہوں نے معاملے کی فوری تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو معروف اداکار نانا پاٹیکر کو اپنا ”بہت اچھا دوست” اور ”بہت اچھا انسان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کردی تھی۔
75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے کہاکہ ”وہ میرے بہت اچھے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔” انہوں نے کہاکہ ”وہ قبائلی دیہات میں پسماندہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔”
اداکار کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کئی مرتبہ جموں و کشمیر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ بار بار یہاں آتے تھے اور مجھ سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ میری ایک شادی میں بھی آئے تھے، جہاں مجھے ان کے ساتھ رقص کرنے کا موقع ملا۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداکار میں ”نرم دلی” کی ایک نایاب خوبی تھی اور انہوں نے کبھی مذہبی معاملات کو لوگوں کی مدد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ کبھی مذہب نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کسی شخص کے درد کو دیکھتے تھے اور اسے زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔”
عبداللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کرسکتے تھے، کیا اور ان کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔”
اداکار کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح یہ خبر سن کر انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے آنجہانی کی روح کے لیے دعا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے عبداللہ نے انہیں ایک شاندار اداکار قرار دیا اور کہا کہ ان کی آخری فلم، جس کی شوٹنگ انہوں نے حال ہی میں گوا میں مکمل کی تھی، ان کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گی۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں ایس او جی نے ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ اور منشیات سمیت گرفتار کیا
جموں، جموں کی اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کو ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات سمیت گرفتار کرلیا۔
سرکاری بیان کے مطابق، جموں ایس او جی نے جموں اور سانبہ میں کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے تین آتشیں ہتھیار، جن میں دو پستول اور ایک دیسی ساختہ پستول (کٹا) شامل ہے، کے علاوہ ہیروئن (چِٹا) برآمد کی۔
گرفتار ملزمان کی شناخت سانبہ ضلع کے باری برہمنہ کے پلی کے رہنے والے ونش شرما اور باری برہمنہ کے پالی ٹانڈہ کے رہنے والے یوگیشور سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔
تحقیقات کے دوران ونش شرما کے مبینہ طور پر وکاس سالتھیا عرف وکی خوف اور روہت کمار عرف مکھن سے وابستہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ دونوں جموں خطے میں مبینہ طور پر اسلحہ کی سپلائی کے نیٹ ورک اور مجرمانہ سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے ونش شرما کے پنجاب میں مقیم گینگسٹرز کے ساتھ مبینہ روابط کا بھی انکشاف ہوا ہے اور ان کا منصوبہ غیر قانونی ہتھیار حاصل کرنے اور پنجاب میں ایک ہدف بنا کر حملہ کرنے کا تھا۔
بیان کے مطابق، مکمل نیٹ ورک کا پتہ لگانے اور دیگر ساتھیوں کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
