ہندوستان
ہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
نئی دہلی، دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنے اور ملک میں میزائل سازی کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کی جانب سے تیار کردہ تمام روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی ہندستانی دفاعی صنعت کو ملک میں ہی پیداوار کے لیے منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے اب ملک میں دفاعی شعبے کی نجی کمپنیاں بھی میزائل سازی کر سکیں گی اور میزائلوں کی در آمد پر انحصار میں کمی آئے گی۔
وزارتِ دفاع نے منگل کے روز بتایا کہ ٹیکنالوجی کی یہ منتقلی گھریلو صنعتوں کو مقررہ اہلیتوں، سرٹیفکیشن اور ضوابط کی ضروریات کے مطابق دیسی پیداوار کے قابل بنا کر دفاعی شعبے کے سازگار ماحول میں ان کی زیادہ سے زیادہ شراکت کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
وزیرِ دفاع کے دفتر نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا، “اس التزام سے میزائل نظام کی ترقی سے صنعتی پیداوار کی طرف کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے کے عمل میں مدد ملے گی۔ یہ جدید دفاعی نظام کی ترقی اور ساخت کے لیے ہندستانی صنعت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ڈی آر ڈی او کی مسلسل کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مقصد گھریلو پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانا، دفاعی صنعتی بنیاد کو مضبوط کرنا نیز سپلائی چین میں ہندستانی ایم ایس ایم ای اور دیگر ٹیکنالوجی شراکت داروں کی شرکت کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔”
اس اقدام کا مقصد عملی صلاحیت میں اضافہ کرنا، در آمدات پر انحصار گھٹانا نیز معیار اور افادیت کو بڑھانے کے لیے گھریلو سطح پر اصلاحات یا تبدیلیوں کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس سے ہندستان کے دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے کی ترقی میں بھی تعاون حاصل ہوگا۔ ڈی آر ڈی او جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کی منتقلی، انہیں اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور دفاعی نظام میں شامل کرنے کے عمل کو آسان بنانے نیز ملک کی دیسی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ہندستانی صنعت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
لکھنؤ میں وکیلوں کے چیمبرز کومنہدم کرنے کے خلاف عرضی سپریم کورٹ سے خارج
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے منگل کے روز لکھنؤ ڈسٹرکٹ کورٹ کے قریب سرکاری زمین پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے وکیلوں کے چیمبرز کو منہدم کرنے کے نوٹس جاری کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا ہے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ صرف اس بنیاد پر غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا کہ ان پر وکیلوں کا قبضہ ہے۔ جسٹس ناتھ نے کہا کہ اگر عدالت کے احاطے پر ہی قبضہ کر لیا جائے گا تو ان کے تحفظ کی ذمہ داری کس کی ہوگی۔
عدالت نے ثالثی یا متبادل جگہ فراہم کرنے کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا اور عدالتی احاطے کو تجاوزات سے پاک رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ معاملہ تقریباً 72 لوگوں کے مبینہ قبضے سے متعلق ہے، جن میں زیادہ تر وکلاء شامل ہیں، جن کے چیمبرز لکھنؤ ڈسٹرکٹ کورٹ کے پاس عوامی راستوں یا یوٹیلٹی زمین پر تعمیر کیے گئے تھے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو مشترکہ خط لکھ کر ذات پر مبنی مردم شماری کے موجودہ طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے مسٹر کھرگے نے کہا کہ کھلے سوالات کے ذریعے ذاتوں کی صحیح گنتی ممکن نہیں ہے۔ ایک ہی ذات کے مختلف ناموں اور ذیلی ذاتوں کے طور پر درج ہونے سے اعداد و شمار بکھر سکتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، انتہائی پسماندہ اور محروم طبقات کو ہوگا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس کا مطالبہ واضح ہے کہ موجودہ سوالنامے کو منسوخ کر کے تصدیق شدہ ذاتوں کی فہرست کی بنیاد پر نیا سوالنامہ تیار کیا جائے۔ اس کے لیے سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عام لوگوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور بہار میں کیے گئے ذات پر مبنی سروے کی طرز پر پہلے سے تیار اور تصدیق شدہ ذاتوں کی فہرست کی بنیاد پر گنتی کرنا اس کا عملی حل ہو سکتا ہے۔ مسٹر کھرگے نے زور دے کر کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری صرف کرائی ہی نہیں جانی چاہیے، بلکہ اس کے اعداد و شمار درست اور قابلِ اعتماد بھی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی درست اعداد و شمار سماجی انصاف اور محروم طبقات کے حقوق سے متعلق پالیسی ساز فیصلوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کانگریس کا دعویٰ: نوجوانوں میں بے روزگاری کے بحران نے مودی حکومت کی ‘ناکامی’ کو بے نقاب کردیا ہے
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینو گوپال نے منگل کے روز بے روزگاری اورہنرمندی کےفروغ کے معاملے پر نریندر مودی حکومت پر اپنے حملے تیز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 8.7 کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں اور ان میں سے صرف 8.25 فیصد کے پاس ہی روزگار حاصل کرنے کے لیے ضروری مہارتیں موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، وینو گوپال نے کہا کہ یہ اعداد و شمار حکومت کے “امرت کال” کے بیانیے کے پیچھے چھپی “بدصورت حقیقت” کو بے نقاب کردیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کی ‘چھاتروں کی گونج’ مہم نوجوانوں کے خدشات اور مایوسیوں کو منظرِ عام پر لا رہی ہے۔
وینو گوپال نے کہا، “8.7 کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں! ان میں سے صرف 8.25 فیصد کے پاس ہی روزگار کے لیے ضروری مہارت موجود ہے!”
انہوں نے کہا، “یہ ‘امرت کال’ کی وہ بدصورت حقیقت ہے جسے راہل گاندھی جی کی ‘چھاتروں کی گونج’ بے نقاب کر رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی کوششوں کے لیے زبردست عوامی حمایت دیکھ رہے ہیں — یہ عوام کی دکھتی رگ کو چھو رہی ہے۔”
وینو گوپال نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے حکومت کے “اچھے دن” کا بیانیہ ان وعدوں پر تیار کیا جو، کانگریس کے مطابق، روزگار کے بہتر مواقع میں تبدیل نہیں ہو سکے۔
وینو گوپال نے الزام لگاتے ہوئے کہا، “عوام یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح مودی جی کا ‘اچھے دن’ کا پورا پی آر جھوٹ اور نوجوانوں کو دھوکہ دینے پر مبنی تھا،” انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت کے دور میں تاریخی سطح کی بے روزگاری دیکھنے کو ملی ہے۔
کانگریس رہنما نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت اتنی تعداد میں نوکریاں پیدا کرنے اور نوجوانوں کو لیبر مارکیٹ کے لیے ضروری مہارتوں سے لیس کرنے میں ناکام رہی ہے، جس سے ہندستان کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ (آبادیاتی فائدے) کا مناسب استعمال نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا، “جنہوں نے 2014 کے بعد ہندستان کو بدلنے کا عزم کیا تھا، انہوں نے تاریخی بے روزگاری دی ہے اور ہندستان کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کو ڈیموگرافک ڈزاسٹر (آبادیاتی تباہی) میں تبدیل کر دیا ہے۔”
وینو گوپال نے کہا کہ کانگریس اس “نوجوان مخالف حکومت” کے خلاف ایک وسیع عوامی تحریک کھڑی کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، جس میں بے روزگاری، تعلیم، بھرتی کے امتحانات اور اسکل ڈیولپمنٹ جیسے اہم مسائل پارٹی کی اس مہم میں نمایاں طور پر ابھر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم اس نوجوان مخالف حکومت کے خلاف ایک عوامی تحریک کھڑی کر رہے ہیں، اور یہی تحریک مودی اور بی جے پی کے حتمی زوال کی وجہ بنے گی۔”
یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کانگریس نے طلباء اور نوجوانوں کو متاثر کرنے والے مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔ راہل گاندھی کی ‘چھاتروں کی گونج’ مہم کو پارٹی کی جانب سے تعلیم، روزگار اور مواقع کے بارے میں تشویش کو اجاگر کرنے والی ایک مہم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اپوزیشن مرکز پر ہندستان کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجوں سے درست طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہنے کا الزام لگا رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
