ہندوستان
مودی کی نوجوان سفارتکاروں سے بیرونِ ملک ہندستان کے تعلقات کو مزید استوار کرنے کی اپیل
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نوجوان سفارت کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک سفارت خانوں کے ذریعے زمینی سطح پر مضبوط روابط قائم کریں اور مقامی برادریوں کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کو مزید استوار اور گہرا بنائیں۔
انڈین فارن سروس (آئی ایف ایس) کے 2025 بیچ کے زیرِ تربیت افسران نے پیر کے روز یہاں ‘سیوا تیرتھ’ میں وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس گروپ میں ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے آئے ہوئے 50 زیرِ تربیت افسران شامل تھے۔
بات چیت کے دوران وزیرِ اعظم نے نوجوان سفارت کاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی تعیناتی والے ممالک میں زمینی سطح پر مضبوط رابطے قائم کریں اور مقامی برادریوں کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کو مزید گہرا بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندستانی مشنوں کو نہ صرف حکومتوں اور اداروں کے ساتھ، بلکہ برادری کی سطح پر عوام کے ساتھ بھی بامعنی تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ انہوں نے افسران کو روایتی سفارتی دائرہ کار سے آگے بڑھ کر اپنے روابط کو وسعت دینے اور لوگوں کے ساتھ لگاؤ کو گہرا کرنے کی ترغیب دی۔ وزیرِ اعظم نے انہیں ہندستان کی تہذیبی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور موثر مواصلات کے ساتھ جوڑ کرہندستان کے عالمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متحرک کیا۔
مسٹر مودی نے افسران کو دنیا کے ساتھ ہندستان کے اقتصادی تعلقات کے لیے ایک اہم محرک کے طور پر کام کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے ہندستانی مشنوں کی ڈیجیٹل موجودگی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ویب سائٹ وہ پہلا ذریعہ ہوتی ہے جس کے ذریعے لوگ کسی ادارے سے رابطہ قائم کرتے ہیں، اور انہوں نے زیادہ آسان، جوابدہ اور شہریوں پر مرکوز طریقے سے قونصلر اور دیگر خدمات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ہدایت دی۔
وزیرِ اعظم نے زیرِ تربیت افسران پر زور دیا کہ وہ ہندستان کی تہذیبی، ثقافتی اور جغرافیائی خصوصیات کو اجاگر کر کے ہندستان کو ایک زیادہ دلکش عالمی سیاحتی مقام بنانے کی سمت میں کام کریں۔ انہوں نے دنیا بھر کے نوجوانوں میں ہندستان کے تئیں زیادہ دلچسپی پیدا کرنے کے لیے “بھارت کو جانیے” کوئز کا فائدہ اٹھانے کی تجویز دی اور ایسے اقدامات کو مزید پرکشش بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور گیمنگ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی۔
زیرِ تربیت افسران نے اپنی تربیت اور ‘بھارت درشن’ کے تجربات مشترک کیے۔ انہوں نے دنیا کے ساتھ ہندستان کے تہذیبی اور ثقافتی تعلقات کو سمجھنے کی اہمیت پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزگار کے بحران پر جے رام رمیش نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں پر نریندر مودی حکومت پر تازہ حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور ملازمتوں کے ختم ہونے سے عام شہریوں اور متوسط طبقے کی زندگی مسلسل دشوار ہو رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو بے روزگاری اور مہنگائی کے دوہرے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ برسوں سے ملازمت کرنے والے افراد بھی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “مودی حکومت کے اقتدار میں آج مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ ایک طرف بے روزگاری ہے تو دوسری طرف برسوں سے کام کرنے والے لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کا بم مسلسل پھٹ رہا ہے۔”
کانگریس رہنما نے پیاز کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شکر کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب پیاز بھی عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
مسٹر رمیش نے دعویٰ کیا کہ ایک ماہ کے اندر پیاز کی قیمتوں میں 76 فیصد تک کا اچھال آیا ہے، جبکہ متعدد ریاستوں میں تھوک قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حکومت کا پیاز کا بفر اسٹاک بھی ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا، “شکر کے بعد اب پیاز بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔ دودھ، تیل، پھل اور راشن سب کچھ عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتے جارہے ہیں ۔”
گھریلو بجٹ پر مہنگائی کے اثرات پر مرکز سے سوال کرتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور متوسط طبقے کے خاندان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “مودی حکومت، جو ‘اچھے دن’ لانے کا دعویٰ کرتی تھی، اسے بتانا چاہیے کہ غریب اور متوسط طبقہ کس طرح اپنا گزر بسر کرے۔”
ان کے یہ تبصرے اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بڑھتی تشویش کے درمیان سامنے آئے ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں پیاز اور دیگر گھریلو ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت نے ماضی میں یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ اس نے صارفین کے تحفظ کے لیے بفر اسٹاک کے انتظام اور قیمتوں میں استحکام لانے کے اقدامات کیے ہیں تاکہ یہ بھی یقینی بنایا جا سکے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر نیز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے متاثرہ ساحل کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے میں انہیں قومی دارالحکومت دہلی میں آٹھ گھنٹے لگ گئے ہیں تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں کی صورتحال کیا ہوگی، لیکن انہیں خوشی ہے کہ یہ انصاف کی سمت میں ان کی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔
راہل نے پیلٹ گن سے متاثرہ نوجوان ساحل کو انصاف دلانے کے لیے صبح سے یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں دھرنا مظاہرے کے بعد ایف آئی آر درج ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ طلبہ کو انصاف دلانے کی سمت میں ان کی کامیابی کا یہ پہلا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ ساحل کے جسم میں ایک مہینے سے چھرے ہیں، جن میں تین اس کی آنکھ میں ہیں اور اسے دکھائی نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین-چار چھرے اس کے دل کے پاس بھی ہیں۔
سابق کانگریس صدر نے کہا، “ہم صبح تقریباً 11.30 بجے پولیس دفتر پہنچے تھے اور شام تقریباً 7.45 بجے ایف آئی آر درج کی گئی۔ ہم نے یہاں کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ ہم نے صرف ایک ہندوستانی شہری، اس کی ماں اور اس کے والد کے لیے انصاف مانگا ہے اور اس کے لیے آٹھ گھنٹے لگ گئے۔ یہ نئی دہلی کے بیچوں بیچ واقع پولیس اسٹیشن ہے، جہاں انصاف ملنے میں اتنا وقت لگا۔ سوال ہے کہ گاؤں یا چھوٹے شہر کے کسی تھانے میں عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟” انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا، “ایف آئی آر درج کرنے کی حتمی اجازت ہوم سکریٹری اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملنے کے بعد ملی، تو آپ سمجھ جائیے ایف آئی آر روک کون رہا تھا۔ یہ بیچارے جو پولیس والے ہیں، یہ چاہتے تھے ایف آئی آر درج کرنا، لیکن اوپر سے انصاف پر بریک لگی ہوئی ہے۔” راہل نے ایف آئی آر درج ہونے کو انصاف کی لڑائی کی شروعات بتایا اور کہا کہ یہ طلبہ کو انصاف دلانے میں کامیابی کا ان کا پہلا قدم ہے۔
پیلٹ گن سے زخمی ساحل نے کہا، “راہل کے ساتھ ہونے کے باوجود میری شکایت درج کرانے میں آٹھ گھنٹے لگ گئے۔ ہم 14 اگست سے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ میرے جسم میں تقریباً 200 چھرے ہیں۔ شاید یہ ایف آئی آر لی بھی نہیں جاتی، اگر قائد حزب اختلاف میرا ساتھ نہیں دیتے اور میں 14 اگست سے ایف آئی آر کے لیے گھوم رہا ہوں۔”
ساحل نے کہا کہ راہل گاندھی کے ساتھ آنے کے بعد اسے یقین ہوا کہ شکایت درج ہوگی۔ اس نے ملک کے طلبہ سے کہا کہ انہیں یقین رکھنا چاہیے اور ان کی آواز کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اس نے کہا کہ جدوجہد کی جیت ہوئی ہے اور یہ انصاف کی طرف ایک اور قدم ہے۔ ساحل نے ایمس کے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علاج کے دوران انہوں نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔ اس نے ہندستان کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جب وہ ہسپتال میں تھا، تب لوگوں نے اس کے لیے دعا کی۔
راہل اس سے پہلے صبح یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ واقع تھانے پہنچے، جہاں انہوں نے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا لیکن پولیس نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ ڈی سی پی کے دفتر پہنچے اور وہاں بھی ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کو لے کر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ ساحل نے بتایا کہ 14 اگست کو اپنے وکلاء کے ساتھ دہلی پولیس کو تحریری شکایت دی تھی، لیکن پولیس نے شکایت کے جانچ افسر کا نمبر اور رسید نہیں دی۔ اس کے بعد 17 اگست کو ای میل اور فون کے ذریعے بھی شکایت پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
راہل نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ وہ ساحل لوچب کے ساتھ اس کے خلاف ہوئی پولیس بربریت کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے پارلیمنٹ اسٹریٹ کے ڈی سی پی دفتر پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کر رہے ساحل پر پیلٹ گن سے حملہ کیا گیا، جس سے اس کی ایک آنکھ کی بینائی خطرے میں ہے۔ انہوں نے پرامن مظاہرے کے خلاف ایسی بربریت کو سنگین جرم بتایا۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے معافی مانگی۔ انہوں نے امت شاہ سے سوال کیا کہ وہ انصاف سے اتنا کیوں گھبرا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ساحل انصاف کے لیے ایف آئی آر درج کرانا چاہتا ہے، لیکن اسے بھی نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، “ایف آئی آر ہوگی۔ عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔ ساحل اور اس کے جیسے ہر متاثرہ طالب علم کو انصاف دلا کر رہیں گے۔” دھرنے کی جگہ پر راہل کے ساتھ ساحل، اس کے والد دیپک اور والدہ جیوتی کے علاوہ کانگریس رہنما محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کماری سیلجہ، ادھیر رنجن چودھری، سلمان خورشید، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش اور ہریش راوت سمیت کئی اہم رہنما موجود رہے۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ” طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال ہوا ہے اس کے ان کے پاس ثبوت ہیں۔” انہوں نے ساحل کے جسم پر لگے چھرے میڈیا اہلکاروں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے تین چھرے اس نوجوان کی آنکھ میں ہیں۔ لیڈی ہارڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کی رپورٹ میں بھی اس کے جسم میں چھرے ہونے کی بات صاف طور پر لکھی ہے۔ ان چھروں کی وجہ سے ساحل کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے اور اس کے دل کے پاس بھی چھرے ہیں، جنہیں چھوا نہیں جا سکتا۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا، “تو سوال ایک ہی ہے کہ آپ نے نہیں چلائے تو کسی اور نے چھرے چلا دیے ہوں گے اور اگر کسی اور نے بھی چھرے چلائے ہیں تو بھی جرم ہوا ہے۔”
راہل نے کہا کہ ان کا مطالبہ صرف ایف آئی آر درج کرنے کا ہے۔ ان کے ساتھ متاثرہ نوجوان ساحل کی والدہ جیوتی اور والد دیپک بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اوپر سے حکم آیا ہے کہ ایف آئی آر درج نہیں کرنی ہے، لیکن جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ عصمت دری اور غریبوں کے ساتھ جرائم ہوتے ہیں نیز نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں پیلٹ گن چلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خاندان کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں اور ایف آئی آر درج ہونے تک یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح وہ خود مندر مارگ تھانے گئے تھے، لیکن وہاں ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا گیا اور انہیں یہاں بھیجا گیا اور اب ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہی وہ یہاں سے جائیں گے۔
راہل نے کہا کہ پرامن احتجاج کے خلاف ایسی بربریت سنگین جرم ہے۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نے ان سے معافی مانگی ہے۔ اب ایف آئی آر ہوگی، عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔
اس دوران ساحل نے میڈیا سے کہا کہ 20 جولائی کو اس پر پیلٹ گن سے گولی چلائی گئی تھی۔ اسے لیڈی ہارڈنگ ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے ایمس ریفر کیا گیا۔ ایمس میں اس کی سرجری ہوئی لیکن اس کی آنکھ کی بینائی ابھی بھی واضح نہیں ہے۔ اس نے 14 اگست کو سات صفحات پر مشتمل شکایت اپنے وکیل کے ذریعے دی تھی لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس ایم پی کشوری لال شرما نے کہا، “ایف آئی آر درج کروانا ہمارا جمہوری حق ہے۔ پیلٹ گن کی گولی سے متاثرہ نوجوان اتنے دنوں سے بھٹک رہا ہے اور اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی ہے۔ اس لیے راہل اس کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے یہاں آئے۔ آپ دیکھیے کہ جمہوریت کا کتنا قتل ہو رہا ہے کہ ایک عام شہری کے حقوق کے لیے بھی قائد حزب اختلاف کو اس کی ایف آئی آر درج کروانے آنا پڑ رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان نے آر ایس ایس کے بارے میں امریکی تنظیم کی رپورٹ مسترد کی، کہا یہ تنظیم تعصب پسند: وزارت خارجہ
نئی دہلی، ہندستان نے امریکہ کی ایک تنظیم کی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر پابندی لگانے والی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تعصب پسند تنظیموں سے دور رہنا چاہیے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو میڈیا بریفنگ میں اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی تنظیم یو ایس سی آئی آر ایف (یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم) تعصب برتنے والی تنظیم ہے اور اس طرح کی تنظیموں سے دوری بنا کر رکھنی چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ تنظیم طویل عرصے سے ہندستان کے سلسلے میں توہین آمیز اور اشتعال انگیز تبصرے کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم اپنے ایجنڈے پر کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ساکھ قابل اعتماد اور بھروسے مند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تنظیموں سے دوری بنا کر رکھنی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں امریکہ سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی لگانے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کی یہ رپورٹ سنگھ سربراہ موہن بھاگوت کے دورۂ امریکہ سے کچھ دن پہلے آئی ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
ہندوستان6 days agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا6 days agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoشری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
