جموں و کشمیر
بجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
سری نگر، بجلی کے کرایوں میں اضافے کے فیصلے پر نیشنل کانفرنس کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق قرہ نے اس اضافے کو عام لوگوں کے لیے “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت” قرار دیا۔ ایک بیان میں قرہ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب گھرانے پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی دباؤ سے جوجھ رہے ہیں، حکومت کو بجلی کے اعلیٰ بلوں کے ذریعے ان کا بوجھ بڑھانے کے بجائے صارفین کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا۔
قرہ نے کہا۔”جموں و کشمیر کے لوگ حکومت سے بجلی کے بلوں میں ریلیف اور کٹوتی کا اعلان کرنے کی توقع کر رہے تھے، نہ کہ فی یونٹ ٹیرف میں اضافے کی۔ ایک عام گھرانے کے لیے، بجلی کے بل پر ہر اضافی روپیہ براہ راست خاندانی بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمارے لوگوں کو درپیش معاشی مشکلات کے لیے غیر حساس ہے،”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ٹیرف میں اضافے کا جائزہ لے کر اسے واپس لے اور گھریلو صارفین، خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقوں پر بجلی کا بوجھ کم کرنے کے لیے معنی خیز اقدامات کرے۔ “حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ بجلی کوئی آسائش نہیں ہے؛ یہ ایک ضروری سروس ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگ سستی اور قابل اعتماد بجلی کے مستحق ہیں، نہ کہ مسلسل بڑھتے ہوئے بلوں کے۔ کانگریس لوگوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی اور ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گی جو ان پر غیر معقول مالی بوجھ ڈالتا ہے،” مسٹر قرہ نے کہا۔ انہوں نے جموں و کشمیر حکومت پر زور دیا کہ وہ وسیع تر عوامی مفاد میں اس فیصلے پر ثانی اور صارفین کو ریلیف بحال کرے، بجائے اس کے کہ ضروری سہولیات کو مزید پہنچ سے باہر بنایا جائے۔ کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے 2024 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات اتحاد میں لڑے تھے۔ پیر کے روز پی ڈی پی اور اپنی پارٹی نے بھی بجلی کے ٹیرف میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا اور اسے عوام مخالف قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے “مجبوری” قرار دیا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے بجلی کے اعلیٰ بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے ٹیرف میں 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
احتجاج کے درمیان جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مجبوری قرار دیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ ایک ’’مجبوری‘‘ تھا اور حکومت نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے زیادہ بجلی کے بل ادا کرنے ہوں گے، کیونکہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔ نرخوں میں اضافے کے خلاف سیاسی جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’ہم نے کب کہا تھا کہ بجلی کے نرخ نہیں بڑھیں گے؟ ہم نے کہا تھا کہ سب سے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو 200 یونٹ بجلی دیں گے۔ ہم انہیں 200 یونٹ بجلی مفت فراہم کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت مفت بجلی کی اپنی یقین دہانی پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کرنا چاہتی ہے اور واضح کیا کہ بجلی کے نرخوں میں نظرثانی سے اس اسکیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ ’’بجلی کی قیمت اور اس اسکیم کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم ضرورت مند لوگوں کو مفت بجلی فراہم کرتے رہیں گے۔‘‘
اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے موجودہ نرخوں میں اضافے پر تنقید کرنے والوں کو یاد دلایا کہ سابقہ حکومتوں نے بھی بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان کے دور حکومت میں بجلی کے نرخوں میں 14 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت انہیں یہ ناانصافی نہیں لگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چار سال قبل بھی بجلی کے نرخوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت بی جے پی کے لوگ خاموش رہے تھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں پنڈت ملازمین نے تازہ ’دھمکی آمیز پوسٹر‘ سامنے آنے کے بعد سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا
سری نگر، آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم کشمیر نے وادی میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی سکیورٹی کے انتظامات فوری طور پر بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ایک نیا مبینہ دھمکی آمیز پوسٹر سامنے آیا ہے۔
فورم نے پیر کو جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری کو پیش کی گئی ایک درخواست میں وزیر اعظم پیکیج کے تحت خدمات انجام دینے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
فورم نے کہا کہ 23 اگست کو یونائیٹڈ لبریشن کونسل (یو ایل سی) نامی تنظیم کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کیا گیا ایک دھمکی آمیز پوسٹر سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے، جس میں پی ایم پیکیج ملازمین کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔
درخواست کے مطابق پوسٹر میں بعض افراد کے نام، رہائشی پتے اور گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں سمیت حساس ذاتی معلومات بھی درج تھیں۔
فورم نے کہاکہ ’’پوسٹر کی صداقت کی پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں نے ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم، اس طرح کے دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کی بار بار تشہیر، خاص طور پر ان میں حساس ذاتی معلومات شامل ہونا، انتہائی تشویش کا باعث ہے۔‘‘
ملازمین کی تنظیم نے کہا کہ اس معاملے سے متعلقہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ اس کی تصدیق اور ضروری کارروائی کی جاسکے۔
وادی میں کشمیری پنڈت ملازمین کے سابقہ ہدف بنا کر کیے گئے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے فورم نے کہا کہ دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کی بار بار تشہیر نے پی ایم پیکیج ملازمین میں خوف اور عدم تحفظ کا گہرا احساس پیدا کردیا ہے۔
فورم نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پوری کشمیر وادی میں تعینات پی ایم پیکیج ملازمین کو مناسب اور اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے اور تازہ دھمکی آمیز پوسٹر کی فوری اور مکمل جانچ کی جائے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
2 کروڑ روپے کے سرمایہ کاری فراڈ کا معاملہ: ای او ڈبلیو کشمیر نے بنگلورو سے ملزم کو گرفتار کرلیا
سری نگر، کرائم برانچ جموں و کشمیر کی اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے تقریباً 2 کروڑ روپے کے مبینہ سرمایہ کاری فراڈ کے معاملے میں بنگلورو سے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ اس معاملے میں کئی لوگوں کو مبینہ طور پر ماہانہ 10 فیصد منافع دینے کا وعدہ کرکے دھوکہ دیا گیا تھا۔
حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزم کی شناخت بڈگام کے چرار شریف کی عالم دار کالونی کے رہنے والے جنید الاسلام کے طور پر ہوئی ہے۔ اسے بنگلورو کے منگمن مَناپالیہ علاقے سے گرفتار کیا گیا۔
یہ گرفتاری سری نگر کی چوتھی ایڈیشنل منصف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ کی تعمیل میں کی گئی۔
جنید کو 2025 میں پولیس اسٹیشن ای او ڈبلیو کشمیر میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں مطلوب تھا۔ اس کے خلاف دفعہ 420 آر پی سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ تقریباً ایک سال سے گرفتاری سے بچ رہا تھا۔
ای او ڈبلیو کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ملزم کے خلاف دھوکہ دہی اور مالی فراڈ کے بادی النظر شواہد سامنے آئے ہیں۔
ملزم نے مبینہ طور پر متعدد افراد سے تقریباً 2 کروڑ روپے وصول کیے۔ اس نے خود کو ایک ای کامرس کمپنی سے وابستہ سرمایہ کار ظاہر کیا اور سرمایہ کاری پر ماہانہ 10 فیصد منافع دینے کا وعدہ کیا تھا۔
تفتیش کاروں کے مطابق رقم متعدد بینک کھاتوں کے ذریعے منتقل کی گئی۔ تاہم رقم وصول کرنے کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر وعدہ کیا گیا منافع ادا نہیں کیا اور بعد میں سرمایہ کاروں سے رابطہ بھی ختم کردیا۔
حکام کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے غیر معمولی طور پر زیادہ منافع دینے کا وعدہ کرکے مبینہ طور پر بڑی رقم بے ایمانی سے حاصل کی، جو آئی پی سی کی دفعہ 420 کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔
اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی ظ ا
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
دنیا6 days agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
جموں و کشمیر1 week agoشری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
-
ہندوستان6 days agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
