دنیا
نیپال اور چین میں سیلاب سے ہلاکتیں 1270 سے متجاوز، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال میں امدادی ٹیمیں ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی پن بجلی کے ان مراکز میں پھنسے کارکنوں تک پہنچنے کے لیے دن رات کوششیں کر رہی ہیں، جہاں ہمالیہ میں آنے والے اچانک سیلاب نے پوری پوری آبادیوں کو تباہ کر دیا تھا۔
گزشتہ ہفتے چٹانوں، کیچڑ اور پانی کے ایک بڑے ریلے نے، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ لنگ ٹانگ لیرونگ پہاڑ کی چوٹی کے قریب گلیشیئر کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آیا، نیپال اور تبت میں دیہات، سڑکیں اور پل بہا دیے۔
حکام نے جمعرات کو بتایا کہ اس تباہی میں 1270 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 4700 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کے مطابق ملک میں اب تک 1252 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ لاپتا افراد کی تعداد 4216 ہے۔
چین کی سرحد کے قریب واقع ملک کے مختلف پن بجلی گھروں میں سیکڑوں کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جن میں بعض زیر زمین سرنگوں میں بھی موجود ہیں۔
پڑوسی علاقے تبت میں چینی حکام نے 21 افراد کی ہلاکت اور 541 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی ہے۔
نیپالی فوج کے انجینئرنگ شعبے کے افسر سنجے کے سی نے راسووا ضلع میں ایک سرنگ کے داخلی راستے پر کھڑے ہو کر کہا، ’’ہمیں اب بھی امید ہے کہ اندر کچھ لوگ زندہ ہوں گے۔‘‘
راسوا ان علاقوں میں شامل ہے جو نیپال میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی مٹی کے تہوں کو ہٹانے کے لیے بلڈوزر کام کر رہے ہیں۔
سنجے کے سی نے الجزیرہ کو بتایا، ’’چونکہ اندر ایک بڑا پاور ہاؤس ہے، اس لیے وہ ایک بڑا کمرہ ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ پورا پاور ہاؤس سیلاب میں نہیں ڈوبا ہوگا۔‘‘
لاپتہ افراد کے اہل خانہ ہر صبح اپنے پیاروں کی خبر ملنے کی امید میں جمع ہوتے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے لیے یہ انتظار انتہائی اذیت ناک بن چکا ہے۔
لاپتہ انجینئر کے بیٹے پرتیک رانا نے کہا، ’’میں ہر روز یہاں اپنے والد کو تلاش کرنے کی امید میں آتا ہوں۔ لیکن ہر روز سورج غروب ہونے کے وقت مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری امید ختم ہو رہی ہے۔۔۔ باپ ہر شخص کے لیے یکساں اہم ہوتا ہے، لیکن میرے لیے وہ میری زندگی کا ایک قیمتی حصہ تھے۔‘‘
دیگر متاثرہ علاقوں میں حکام دور دراز دیہات میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کر رہے ہیں، جن میں زیپ لائنز اور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے مطابق سیلاب اور کیچڑ کے تودوں نے کم از کم 22 لاکھ ٹن ملبہ چھوڑا ہے۔
دارالحکومت کھٹمنڈو میں فرانزک ٹیمیں لاشوں کی شناخت کے لیے کام کر رہی ہیں۔
الجزیرہ کی صحافی جیسیکا واشنگٹن نے شہر میں قائم ڈی این اے ٹیسٹنگ مرکز سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ملنے والی بہت سی لاشیں گلنے سڑنے کی حالت میں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’فرانزک ٹیموں نے ہمیں بتایا کہ کچھ ایسی چیزیں موجود ہیں جو شناخت کے عمل میں مدد دے سکتی ہیں، جیسے ٹیٹو اور زیورات، لیکن بہت سی لاشیں ایسی حالت میں ملی ہیں کہ ان کی شناخت کرنا انتہائی مشکل ہے۔‘‘
بدھ کے روز نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے کہا کہ حکام زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھیں گے، جبکہ بحالی اور تعمیر نو کی کوششیں بھی شروع کی جا رہی ہیں۔
این ڈی آر آر ایم اے کے سربراہ دھرم راج اپریتی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ تقریباً 20 ہزار مکانات دوبارہ تعمیر کرنا ہوں گے، جن میں 7500 مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
اپریتی نے کہا، ’’انہی مقامات پر دوبارہ مکانات تعمیر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کو دوبارہ انہی خطرات کا سامنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ حکام آبادیوں کو منتقل کرنے اور نئی بستیاں قائم کرنے کے لیے زیادہ محفوظ علاقوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق پیر تک نواکوٹ اور راسووا میں 27 عارضی پناہ گاہوں میں 3400 سے زیادہ بے گھر افراد رہ رہے تھے، جن میں زیادہ تر اسکولوں میں مقیم تھے۔
نیپالی حکام نے بڑے پیمانے پر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والے ممالک کے کردار کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے کہا کہ ایسے ممالک کی ’’تاریخی ذمہ داری‘‘ ہے کہ وہ نیپال جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار کمزور ممالک کو معاوضہ فراہم کریں۔
انہوں نے بتایا کہ نیپالی حکومت نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کو باضابطہ طور پر ’’موسمیاتی معاوضے کے مطالبے کا رسمی خط‘‘ بھیج دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
دنیا
تبت میں شدید زلزلہ، کم از کم 16 افراد ہلاک
بیجنگ، چین کے خود مختار علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کے مطابق، شمالی تبت کے ایک دور افتادہ علاقے میں جمعرات کی رات 10 بج کر 33 منٹ پر زلزلہ آیا۔ جمعہ کو بھی متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق، متاثرہ علاقے میں زلزلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل کی سطح دوم نافذ کردی گئی ہے۔ زلزلے کے باعث بجلی اور مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، کم آبادی والے بلند پہاڑی شہر ناگچو کے حکام نے بتایا کہ زلزلے میں 65 افراد تک زخمی ہوئے ہیں، تاہم بعض دیگر رپورٹوں میں زخمیوں کی تعداد اس سے کچھ کم بتائی گئی ہے۔
یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔ حکام کے مطابق، کم از کم 339 مکانات اور مویشیوں کے 20 باڑے منہدم ہوگئے ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری ویڈیوز میں لوگوں کو اپنے مکانات سے باہر نکلتے اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں یا کھلی جگہوں پر پناہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، زلزلے کا مرکز ایک پہاڑی علاقے میں تھا، جو ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق شمال مشرق اور تبت کے دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
الجزیرہ کی نامہ نگار کترینا یو نے بیجنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ چینی حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے 1,600 اہلکار تعینات کیے ہیں۔ تاہم، تقریباً 4,800 میٹر کی بلندی پر واقع متاثرہ علاقے تک پہنچنا مشکل ہے، کیونکہ متعدد سڑکیں بند ہیں یا چٹانیں کھسکنے سے متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں برف باری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
کترینا یو کے مطابق، یہ خطہ زلزلوں کے لیے نیا نہیں ہے، کیونکہ یہ ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے اتصال کے علاقے میں واقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کی آبادی کم ہونے کی وجہ سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
