ہندوستان
ووٹ چوری سے آئین اور جمہوریت ختم ہو رہی ہے، اقتدار مخالف لہر کا خاتمہ منصفانہ انتخابات پر بڑا سوال: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ‘ووٹ چوری’ کے ذریعے آئین، قانون اور جمہوری اداروں کو کمزور کر کے بی جے پی کے خلاف اقتدار مخالف (اینٹی انکمبنسی) لہر کو پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے کرائی جا رہی ‘ووٹ چوری’ کا انکشاف ان کے ساتھی ہی کر چکے ہیں، اس لیے انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ووٹ چوری’ کی سازش میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووبھال، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، صنعت کار گوتم اڈانی سمیت کئی لوگ شامل ہیں۔
ووٹ چوری ملک کی جمہوریت پر بہت بڑا حملہ ہے اور ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی یہ سازش غداری ہے۔ ووٹ چوری کرنے والے غداروں کے خلاف وہ چپ نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گیانیش کمار کے فیصلوں پر ان کے ساتھ کے دو الیکشن کمشنر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر گیانیش کمار جی پڑھے لکھے انسان ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ملک کو ان کی وجہ سے کتنا نقصان ہو رہا ہے اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے جمعرات کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کا یہ کہنا کہ اگلے 30 سال تک بی جے پی کی حکومت رہے گی اور لوگوں کو اس کی عادت ڈالنی چاہیے، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار مخالف لہر کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو کچھ گڑبڑ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹی یا رہنما ہمیشہ مقبول نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اندرا گاندھی بنگلہ دیش جنگ کے وقت ملک کی انتہائی مقبول وزیر اعظم تھیں لیکن دو تین سال بعد ان کے خلاف زبردست اقتدار مخالف لہر آئی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، راجیو گاندھی، منموہن سنگھ اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے خلاف بھی اقتدار مخالف لہر آتی رہی ہے لیکن اب بی جے پی کے خلاف یہ لہر پوری طرح غائب دکھتی ہے اور اس کا غائب ہونا اہم سوال کھڑا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک سیاسی خاندان سے آتے ہیں اور پچھلے 50 سال سے سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا رہنما کے بارے میں اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ طویل عرصے تک اقتدار میں بنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ، مدھیہ پردیش، گجرات، اتر پردیش اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں ایک پارٹی آتی ہے اور دوسری چلی جاتی ہے ، لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے۔ یہ اقتدار مخالف لہر ختم کر دی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹ چوری سے ملک کو برباد کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے آئین آتا ہے، اس کے بعد قانون اور پھر ادارے آتے ہیں لیکن ان کے مطابق آج آئین کو کمزور کیا جا رہا ہے، قانون اور اداروں کی خود مختاری ختم کی جا رہی ہے۔ اگر آئین نہیں رہے گا، قانون کمزور ہو جائیں گے اور اداروں کو ختم کر دیا جائے گا تو کچھ نہیں بچے گا۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ سے آئین کو طاقت ملتی ہے، ووٹ سے ہی قانون بنتے ہیں اور قانون سے ادارے چلتے ہیں۔ جب لوگ ووٹ ڈالتے ہیں تو آئین کو طاقت ملتی ہے، لیکن اگر ووٹ کو ہی ختم کر دیا جائے تو قانون اور اداروں کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ووٹ کو تباہ کرنے کا کام کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ادارے بھی کمزور ہوئے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے 28 اکتوبر 2025 کو پریس کانفرنس کر کے ملک میں ‘ووٹ چوری’ کا معاملہ اٹھایا تھا اور اس کے بعد ‘ووٹ چوری ادھیکار یاترا’ کے ذریعے بھی عوام کو بتایا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہریانہ میں بھی ووٹ چوری ہوئی تھی اور الیکشن کمیشن ان واقعات سے باخبر تھا۔ ان پریس کانفرنسوں کے ذریعے الیکشن کمیشن پر دباؤ پڑا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار مخالف لہر پوری طرح ختم ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے ووٹ چوری ہو رہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹ چوری ووٹر فہرست سے نام ہٹا کر اور ای وی ایم کے ذریعے دونوں طرح سے کی جا رہی ہے۔ ووٹروں کے نام بدلے جا رہے ہیں، فہرست سے ہٹائے جا رہے ہیں اور ای وی ایم کے ذریعے بھی ووٹ چوری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے دو الیکشن کمشنروں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات سے ان کی کہی ووٹ چوری کی بات کی تصدیق ہوئی ہے۔ دونوں الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں پر اعتراض درج کرایا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوا ہے جب انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے ووٹ چوری کے خلاف یاترا نکالی اور کئی مسائل اٹھائے لیکن اس وقت دونوں الیکشن کمشنروں نے کچھ نہیں کہا اور جب ان کی پریس کانفرنس کی کہی باتیں سچ ثابت ہونے لگیں تو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے پر اعتراض درج کرنے کا کام اسی دباؤ میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ووٹ چوری کا راستہ نکالا ہے۔ انہوں نے دسمبر 2023 میں ایسا قانون بنایا جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے نظام میں تبدیلی کی گئی۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے انتخاب کا عمل منصفانہ ہونا چاہیے لیکن ان کی بات کو نظر انداز کیا گیا اور بعد میں انہی کے حساب سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں اور انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام کام نہیں ہو رہا بلکہ آئین پر حملہ کیا گیا ہے اور اسے کمزور کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووبھال اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سمیت کچھ لوگوں کی تصویریں دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جمہوریت کو ختم کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انتخاب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا ہے اور اب چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ کام کر رہے ان کے دو الیکشن کمشنر ان سے ہی سوال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ ختم ہو چکا ہے اور قانون بنانے والے ادارے بھی ختم کیے جا رہے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ آج ملک میں جمہوریت جس صورت حال میں پہنچ گئی ہے 1947 کے بعد سے کبھی ایسی صورت حال سے ملک نہیں گزرا ہے۔ انتخاب کے عمل کو ختم کیا جا رہا ہے، قانون بنانے والے اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، ووٹ چوری کی جا رہی ہے اور اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب وہ اس طرح کی صورت حال دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور دیگر لوگوں نے جس طرح ‘ووٹ چوری’ کرائی ہے، اس کی تحقیقات ضرور ہوں گی اور ووٹ چوری کی سازش کے لیے ذمہ دار لوگوں کو سزا ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانے والے دونوں الیکشن کمشنروں کے حوصلے کی وہ سراہنا کرتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا انکشاف کر رہے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ کسی طرح کا قیاس یا گمراہ کن بات نہیں ہے بلکہ سچائی پر مبنی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے ملک کی جمہوریت کو برباد کیا ہے نیز جن لوگوں نے آئین کو برباد کرنے کا کام کیا ہے ان کی تحقیقات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کی آزادی کی لڑائی لڑنے والی پارٹی ہے اور وہ جمہوریت نیز آئین کو بچانے کی اس لڑائی میں خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے کو چھوڑنے والی نہیں ہے اور ‘ووٹ چوری’ کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا کہ اگر 48 گھنٹے کے اندر مسٹر کمار نے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا تو پارٹی ملک گیر تحریک شروع کرے گی اور ان کے استعفے کے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گی۔
سی جے پی کے بانی صدر ابھجیت دپکے نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسٹر کمار کے الیکشن کمشنر بننے کے بعد مہاراشٹر اور اتر پردیش میں دو کروڑ ووٹروں کے نام ہٹائے گئے، جبکہ مغربی بنگال میں 97 لاکھ لوگوں کو ووٹنگ سے محروم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں اب تک 13 کروڑ ووٹ ہٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں جیتنے والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) اور ہارنے والے انڈیا الائنس کے درمیان صرف تین فیصد کا فرق تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ہٹایا جانا انتخابی نتائج پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔
مسٹر دپکے نے الزام لگایا کہ انتخابی نشانات سے جڑے معاملات میں بھی الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا، “نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور شیو سینا کے انتخابی نشانات چھین کر بی جے پی کی ‘شیل’ پارٹیوں کو دے دیے گئے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔” انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے اور انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
سی جے پی کے بانی رکن اور جوائنٹ کنوینر آشوتوش رانکا نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جمہوریہ بننے کے بعد سے ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں زیادہ تر ووٹر غریب تھے، تب بھی بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور پنڈت جواہر لال نہرو نے ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق دیا تھا، لیکن اب 13 کروڑ ووٹروں کو خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے ذریعے ووٹر فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ پیش رفت سے اشارہ ملتا ہے کہ ووٹروں کو ووٹنگ سے روکنے کا عمل آگے بھی جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے گوا، مغربی بنگال اور بہار میں مبینہ طور پر ووٹر شناخت کو فلاحی اسکیموں سے جوڑنے کے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
مسٹر رانکا نے کہا، “گوا میں راشن جیسی اسکیموں کو بھی ووٹنگ کے حق سے جوڑ دیا گیا۔ مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت نے کہا ہے کہ عوامی فلاحی اسکیموں کا فائدہ انہی کو ملے گا جو ووٹر ہیں۔ بہار میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ جن 13 کروڑ لوگوں کو ووٹر فہرست سے ہٹایا گیا ہے، انہیں آہستہ آہستہ فلاحی اسکیموں سے الگ کر دیا جائے گا۔ اس کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کہنا چاہتی ہے کہ اگر آپ اسے ووٹ نہیں کریں گے تو نہ صرف آپ سے ووٹنگ کا حق چھینا جائے گا، بلکہ فلاحی اسکیمیں بھی آپ سے دور رکھی جائیں گی۔”
اس دوران، سی جے پی کے چیف ترجمان سورَو داس نے الزام لگایا کہ ملک میں ووٹروں کے حقوق کی اہمیت کم کی جا رہی ہے اور نوجوانوں کو ووٹر فہرست میں شامل ہونے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے تحت فارم-6 میں نئے ووٹروں سے ان کے والدین کے پچھلے ایس آئی آر میں شامل ہونے سے متعلق سوال پوچھا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھلے ہی اسے اختیاری بتایا جا رہا ہو، لیکن سافٹ ویئر اسے لازمی مان رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی نوجوان ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو پا رہے ہیں۔
مسٹر داس نے دعویٰ کیا کہ ایک الیکشن کمشنر نے اس نظام کو غیر مجاز اور نئے ووٹروں کو ہراساں کرنے والا طریقہ بتایا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوجوان ووٹروں، بالخصوص جین زی ووٹروں کو فہرست میں شامل کرنے کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال میں 60 لاکھ لوگوں کو “منطقی تضاد” کی بنیاد پر ہٹائے جانے اور بعد میں 33 لاکھ لوگوں کو فہرست میں شامل کیے جانے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس کے خلاف عدالت میں اپیل بھی دائر کی تھی، حالانکہ دو الیکشن کمشنروں نے اس پر اعتراض بھی درج کرایا تھا۔
مسٹر داس نے مطالبہ کیا کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے اور ان کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یہ واضح کیا جائے کہ انہیں ہدایات کون دے رہا ہے۔ انہوں نے آنے والے تمام انتخابات کو ملتوی کرنے اور ایس آئی آر کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے ایس آئی آر سے متعلق فائلوں کو ضبط کر کے اپنی نگرانی میں لینے کا مطالبہ بھی کیا، تاکہ ریکارڈ کے ساتھ کسی قسم کی چھید چھاڑ کا خدشہ نہ رہے۔
مسٹر داس نے الیکشن کمیشن سے متعلق 2023 کے قانون کو منسوخ کرنے اور ایسا نیا قانون بنانے کا مطالبہ کیا جس سے لوگوں کا الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل میں اعتماد قائم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق کسی سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ ہر شہری کا آئینی حق ہے اور نوجوانوں نیز سماجی تنظیموں کو اس معاملے پر آگے آنا چاہیے۔
مسٹر دپکے نے کہا کہ ملک “بہت حساس وقت” سے گزر رہا ہے اور لوگوں کے ووٹ دینے کے حق سے جڑے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپنے جمہوری حقوق کے لیے آگے آنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، “اگر آپ جانتے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی کی جا رہی ہے تو آپ کو سخت ہونا پڑے گا۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ کے لیے کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ یہ کسی سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ ملک کے عوام کے حق کا سوال ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
لداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے لداخ میں گزشتہ سال پولیس فائرنگ میں مارے گئے چار نوجوانوں کو انصاف دلانے اور لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول کی سہولیات دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے علاقے کے لوگوں سے کیے گئے آئینی تحفظ کے وعدے ابھی تک پورے نہیں کیے ہیں۔
کانگریس کے جموں و کشمیر اور لداخ انچارج سید نصیر حسین نے جمعرات کے روز یہاں ایک بیان میں کہا کہ پانچ اگست 2019 کو دفعہ 370 ختم کرنے اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے وقت لوگوں کو جو یقین دہانی کرائی گئی تھی، وہ ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو اپنی مقامی روایتوں اور انتظامیہ سے جڑے معاملات میں آئینی خودمختاری دینے والے چھٹے شیڈول کو سات سال بعد بھی نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں مکمل جمہوری ادارے، خاص طور پر اپنی اسمبلی بحال نہیں ہوئی ہے اور زمین، روزگار، ماحول نیز ثقافتی شناخت کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا گیا ہے۔
کانگریس نے لیہہ میں گزشتہ سال پولیس فائرنگ میں مارے گئے تسیوانگ تھارچن، جگمیٹ دورجے، ستانجن نامگیال اور رنچن دادل کی موت کی عدالتی تحقیقات کی صورت حال اور نتائج کو عام کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کی پارٹی لداخ کو چھٹے شیڈول کا تحفظ دینے نیز لوگوں کی منتخب اور ان کے تئیں جوابدہ اسمبلی سمیت مکمل جمہوری ادارے قائم کرنے کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کی توسیع جمہوری عدم مرکزیت کا متبادل نہیں ہو سکتی اور دفعہ 371 کی محدود دفعات بھی چھٹے شیڈول کا متبادل نہیں ہیں۔ پارٹی نے مرکز سے لداخ کے نمائندوں کے ساتھ ایمانداری سے بات چیت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لداخ کے لوگ سات سال سے انتظار کر رہے ہیں اور کانگریس ان کے انصاف نیز جمہوری حقوق کی پرامن لڑائی کی حمایت کرتی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان اور بحرالکاہل کے جزائری ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور، قابل تجدید توانائی اور موسمیاتی مسائل پر بات چیت
نئی دہلی، ہندوستان-بحرالکاہل جزائر تعاون فورم کی میٹنگ میں دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ دونوں فریقوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان بدھ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر بات چیت ہوئی۔ میٹنگ میں قابل تجدید توانائی، موسمیاتی اقدامات، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور صلاحیت سازی جیسے شعبوں میں مزید تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کی صدارت وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کی۔ یہ اس تنظیم کے وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ تھی۔
میٹنگ میں بحرالکاہل کے جزائری ممالک کی اعلیٰ سطحی شرکت رہی۔ اس میں سموا کے نائب وزیر اعظم و وزیر خزانہ، فجی، مارشل آئی لینڈز، پلاؤ، پاپوا نیو گنی، سولومن آئی لینڈز اور تووالو کے وزرائے خارجہ شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ ٹونگا کے وزیر خزانہ، مائکرونیشیا کی وفاقی ریاستوں کے محکمہ انصاف کے سکریٹری و اٹارنی جنرل، وانواتو کے وزیر صحت، ناؤرو کے نائب وزیر خارجہ اور پیسیفک آئی لینڈز فورم کے سکریٹری جنرل نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔ میٹنگ میں سربراہ اجلاسوں کے نتائج کا جائزہ لیا گیا اور 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے اعلان کردہ 12 نکاتی ایکشن پلان کے تحت ہندوستان-بحرالکاہل جزائری ممالک کے تعاون میں ہونے والی پیشرفت کا خیرمقدم کیا گیا۔
میٹنگ میں شراکت داری کو مضبوط بنانے اور علاقائی و کثیر جہتی پلیٹ فارمز پر تعاون بڑھانے کے عزم کو دہرایا گیا۔
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر5 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا6 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
جموں و کشمیر6 days agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
