ہندوستان
ووٹ چوری سے آئین اور جمہوریت ختم ہو رہی ہے، اقتدار مخالف لہر کا خاتمہ منصفانہ انتخابات پر بڑا سوال: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ‘ووٹ چوری’ کے ذریعے آئین، قانون اور جمہوری اداروں کو کمزور کر کے بی جے پی کے خلاف اقتدار مخالف (اینٹی انکمبنسی) لہر کو پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے کرائی جا رہی ‘ووٹ چوری’ کا انکشاف ان کے ساتھی ہی کر چکے ہیں، اس لیے انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ووٹ چوری’ کی سازش میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووبھال، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، صنعت کار گوتم اڈانی سمیت کئی لوگ شامل ہیں۔
ووٹ چوری ملک کی جمہوریت پر بہت بڑا حملہ ہے اور ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی یہ سازش غداری ہے۔ ووٹ چوری کرنے والے غداروں کے خلاف وہ چپ نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گیانیش کمار کے فیصلوں پر ان کے ساتھ کے دو الیکشن کمشنر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر گیانیش کمار جی پڑھے لکھے انسان ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ملک کو ان کی وجہ سے کتنا نقصان ہو رہا ہے اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے جمعرات کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کا یہ کہنا کہ اگلے 30 سال تک بی جے پی کی حکومت رہے گی اور لوگوں کو اس کی عادت ڈالنی چاہیے، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار مخالف لہر کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو کچھ گڑبڑ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹی یا رہنما ہمیشہ مقبول نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اندرا گاندھی بنگلہ دیش جنگ کے وقت ملک کی انتہائی مقبول وزیر اعظم تھیں لیکن دو تین سال بعد ان کے خلاف زبردست اقتدار مخالف لہر آئی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، راجیو گاندھی، منموہن سنگھ اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے خلاف بھی اقتدار مخالف لہر آتی رہی ہے لیکن اب بی جے پی کے خلاف یہ لہر پوری طرح غائب دکھتی ہے اور اس کا غائب ہونا اہم سوال کھڑا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک سیاسی خاندان سے آتے ہیں اور پچھلے 50 سال سے سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا رہنما کے بارے میں اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ طویل عرصے تک اقتدار میں بنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ، مدھیہ پردیش، گجرات، اتر پردیش اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں ایک پارٹی آتی ہے اور دوسری چلی جاتی ہے ، لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے۔ یہ اقتدار مخالف لہر ختم کر دی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹ چوری سے ملک کو برباد کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے آئین آتا ہے، اس کے بعد قانون اور پھر ادارے آتے ہیں لیکن ان کے مطابق آج آئین کو کمزور کیا جا رہا ہے، قانون اور اداروں کی خود مختاری ختم کی جا رہی ہے۔ اگر آئین نہیں رہے گا، قانون کمزور ہو جائیں گے اور اداروں کو ختم کر دیا جائے گا تو کچھ نہیں بچے گا۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ سے آئین کو طاقت ملتی ہے، ووٹ سے ہی قانون بنتے ہیں اور قانون سے ادارے چلتے ہیں۔ جب لوگ ووٹ ڈالتے ہیں تو آئین کو طاقت ملتی ہے، لیکن اگر ووٹ کو ہی ختم کر دیا جائے تو قانون اور اداروں کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ووٹ کو تباہ کرنے کا کام کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ادارے بھی کمزور ہوئے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے 28 اکتوبر 2025 کو پریس کانفرنس کر کے ملک میں ‘ووٹ چوری’ کا معاملہ اٹھایا تھا اور اس کے بعد ‘ووٹ چوری ادھیکار یاترا’ کے ذریعے بھی عوام کو بتایا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہریانہ میں بھی ووٹ چوری ہوئی تھی اور الیکشن کمیشن ان واقعات سے باخبر تھا۔ ان پریس کانفرنسوں کے ذریعے الیکشن کمیشن پر دباؤ پڑا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار مخالف لہر پوری طرح ختم ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے ووٹ چوری ہو رہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹ چوری ووٹر فہرست سے نام ہٹا کر اور ای وی ایم کے ذریعے دونوں طرح سے کی جا رہی ہے۔ ووٹروں کے نام بدلے جا رہے ہیں، فہرست سے ہٹائے جا رہے ہیں اور ای وی ایم کے ذریعے بھی ووٹ چوری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے دو الیکشن کمشنروں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات سے ان کی کہی ووٹ چوری کی بات کی تصدیق ہوئی ہے۔ دونوں الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں پر اعتراض درج کرایا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوا ہے جب انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے ووٹ چوری کے خلاف یاترا نکالی اور کئی مسائل اٹھائے لیکن اس وقت دونوں الیکشن کمشنروں نے کچھ نہیں کہا اور جب ان کی پریس کانفرنس کی کہی باتیں سچ ثابت ہونے لگیں تو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے پر اعتراض درج کرنے کا کام اسی دباؤ میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ووٹ چوری کا راستہ نکالا ہے۔ انہوں نے دسمبر 2023 میں ایسا قانون بنایا جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے نظام میں تبدیلی کی گئی۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے انتخاب کا عمل منصفانہ ہونا چاہیے لیکن ان کی بات کو نظر انداز کیا گیا اور بعد میں انہی کے حساب سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں اور انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام کام نہیں ہو رہا بلکہ آئین پر حملہ کیا گیا ہے اور اسے کمزور کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووبھال اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سمیت کچھ لوگوں کی تصویریں دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جمہوریت کو ختم کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انتخاب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا ہے اور اب چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ کام کر رہے ان کے دو الیکشن کمشنر ان سے ہی سوال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ ختم ہو چکا ہے اور قانون بنانے والے ادارے بھی ختم کیے جا رہے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ آج ملک میں جمہوریت جس صورت حال میں پہنچ گئی ہے 1947 کے بعد سے کبھی ایسی صورت حال سے ملک نہیں گزرا ہے۔ انتخاب کے عمل کو ختم کیا جا رہا ہے، قانون بنانے والے اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، ووٹ چوری کی جا رہی ہے اور اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب وہ اس طرح کی صورت حال دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور دیگر لوگوں نے جس طرح ‘ووٹ چوری’ کرائی ہے، اس کی تحقیقات ضرور ہوں گی اور ووٹ چوری کی سازش کے لیے ذمہ دار لوگوں کو سزا ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانے والے دونوں الیکشن کمشنروں کے حوصلے کی وہ سراہنا کرتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا انکشاف کر رہے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ کسی طرح کا قیاس یا گمراہ کن بات نہیں ہے بلکہ سچائی پر مبنی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے ملک کی جمہوریت کو برباد کیا ہے نیز جن لوگوں نے آئین کو برباد کرنے کا کام کیا ہے ان کی تحقیقات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کی آزادی کی لڑائی لڑنے والی پارٹی ہے اور وہ جمہوریت نیز آئین کو بچانے کی اس لڑائی میں خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے کو چھوڑنے والی نہیں ہے اور ‘ووٹ چوری’ کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
