ہندوستان
ترون تیجپال نے 10 سال کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ سے روجوع کیا؛ گوا کو نوٹس جاری
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز گوا حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ یہ نوٹس ‘تہلکہ’ کے سابق ایڈیٹر ان چیف ترون تیجپال کی درخواست پر جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس کے تحت انہیں 2013 میں ایک ساتھی خاتون کے ساتھ ریپ کیس میں 10 سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ تیجپال کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ کپِل سبل نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ان کی بریت کے فیصلے کو الٹ دیا ہے۔
مسٹر سبل نے کہا، “یہ فیصلہ الٹے جانے کا معاملہ ہے؛ اس میں اپیل کا حق ہے؛ میں نے خودسپردگی کر دی ہے۔” سپریم کورٹ نے گوا کو نوٹس جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد، مسٹر سبل نے تیجپال کی سزا پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت کے لیے ایک مقررہ تاریخ کا مطالبہ کیا۔ بنچ نے کہا کہ وہ اس درخواست پر غور کرے گی۔
گوا حکومت نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور تیجپال کی سزا کو بڑھا کر عمر قید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ نے 6 اگست کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے تیجپال کو 2021 میں بری کیے جانے کے فیصلے کو الٹ دیا، انہیں 2013 کے ریپ کیس میں مجرم قرار دیا اور 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی۔
ہائی کورٹ نے متاثرہ کے واقعے کے بعد کے طرزِ عمل پر مبنی نچلی عدالت کی منطق کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ‘مثالی ریپ متاثرہ’ جیسا کوئی تصور نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز بھارتیہ جن سنگھ کے نظریہ ساز پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یومِ پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، ایک صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیز انسانیت کے علم بردار اور انتودیہ کے حامی کے طور پر ان کے تعاون کو یاد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر مودی نے کہا کہ پنڈت اپادھیائے کے خیالات شمولیت پر مبنی ترقی، سماجی انصاف اور تعمیرِ ملت کی ہندوستان کی کوششوں کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا، “میں پنڈت دین دیال اپادھیائے جی کو ان کی جینتی پر ادب کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔”
پنڈت اپادھیائے کو ایک “صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیزانسانیت کے علم بردا اور انتودیہ کے رہنما” کے طور پر بیان کرتے ہوئے، مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے “عوام کو ترقی کے مرکز میں رکھنے اورقطار کے آخری شخص کو اوپر اٹھانے کے لازوال نظریات” ملک کے ترقیاتی سفر میں آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ نظریات جامع پیش رفت، سماجی انصاف اور قوم کی تعمیر کی طرف ہمارے اجتماعی سفر کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔”
25 ستمبر 1916 کو پیدا ہوئے پنڈت اپادھیائے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی پیشرو، بھارتیہ جن سنگھ کی اہم نظریاتی شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے جن سنگھ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس کے نظریاتی فریم ورک کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے انسانیت کے فلسفے نے متوازن سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی کے وسیع تر فریم ورک کے اندر فرد اور معاشرے کو رکھنے کی کوشش کی۔ انتودیہ کا تصور، جسے موٹے طور پر سماجی اور اقتصادی نظام کے سب سے نیچے والے شخص کی ترقی کے طور پر سمجھا جاتا ہے، بعد میں بی جے پی کی سیاسی اور پالیسی سے جڑی گفتگو میں ایک بار بار آنے والا موضوع بن گیا۔
پنڈت اپادھیائے کے یوم پیدائش پر مسٹر مودی کے خراج عقیدت نے آخری شخص کی فلاح و بہبود پر مسلسل زور دینے کو اجاگر کیا اور ان کی نظریاتی میراث کو جامع ترقی اور سماجی انصاف کے وسیع تر اہداف سے جوڑ دیا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ایک پی ایم نے نوجوانوں کو بااختیار بنایا، دوسرا ان کا ووٹ چھیننا چاہتا ہے: جے رام رمیش
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعہ کے روز انتخابات میں نوجوانوں کی شرکت کے حوالے سے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے متضاد کارناموں کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت پر ووٹروں کی نئی نسل کے اندراج کو التوا میں رکھنے کا الزام لگایا۔
اسے “دو وزرائے اعظم کی کہانی” قرار دیتے ہوئے، مسٹر رمیش نے یاد دلایا کہ پارلیمنٹ نے راجیو گاندھی کے دورِ حکومت میں دسمبر 1988 میں آئین کی دفعہ 326 میں ترمیم کی تھی تاکہ ووٹنگ کی عمر 21 سے گھٹا کر 18 سال کی جا سکے۔
مسٹر رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “ایک پی ایم نے دسمبر 1988 میں باقاعدہ ونٹر سیشن میں پارلیمنٹ سے آئین کی دفعہ 326 میں ترمیم کرائی تاکہ ووٹنگ کی کم از کم عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کی جا سکے۔ یہ ایک ایسا پی ایم تھا جس نے نوجوانوں کو بااختیار بنایا۔”
آئین (61 ویں ترمیم) ایکٹ، 1988 نے کروڑوں نوجوان ہندوستانیوں کو 18 سال کی عمر سے انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا، جس سے ملک کے ووٹروں کے دائرے میں نمایاں توسیع ہوئی۔
مسٹر رمیش نے اس کا موازنہ موجودہ حکومت کے ووٹر فہرست میں نظر ثانی کے طریقہ کار سے کیا جسے انہوں نے حکومت کا رویہ قرار دیا۔
انہوں نے الزام لگایا، “ایک اور پی ایم ہیں جنہوں نے یہ یقینی بنایا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی 2024 سے روک دی جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ‘جین زی ووٹرزکا اندراج نہ ہوسکے۔”
مسٹر رمیش نے کہا، “یہ ایک ایسا پی ایم ہے جو نوجوانوں سے ڈرتا ہے کیونکہ اس نے ان کی امیدوں اور آرزوؤں کو چکنا چور کر دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا: “ایک پی ایم نے جین زی کو ووٹ دیا، دوسرا اسے غلط طریقوں سے چھیننے پر تلا ہوا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے ووٹر فہرست کی نظر ثانی پر پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے سیاسی اور ادارہ جاتی تنازعہ کے درمیان آئے ہیں، جس میں الیکشن کمیشن کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل اور یہ رپورٹیں شامل ہیں کہ 2024 کی سائیکل کے بعد سالانہ اسپیشل سمری ریویژن (ایس ایس آر) قومی سطح پر دوبارہ شروع نہیں ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026-27 کے سالانہ ریویژن میں تاخیر ہوئی تھی، جس سے 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے شہریوں کے نام درج ہونے پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ الیکشن کمشنر وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو نے اس کے دوبارہ آغاز کی حمایت کی تھی۔
تاہم، الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کی مسلسل تجدید کے فریم ورک کو برقرار رکھا ہے اور تمام اہل شہریوں کے نام درج کرنے کی ضرورت پر بار بار زور دیا ہے جبکہ ووٹر فہرستوں کی درستگی اور سالمیت کو برقرار رکھا جائے۔
اس کے سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ایس ایس آر 2024 یکم جنوری 2024 کو اہلیت کی تاریخ مان کر انجام دیا گیا تھا۔
کمیشن نے کہا کہ ایس ایس آر 2024 کے عمل کے دوران 18-29 سال کی عمر کے دو کروڑ سے زیادہ ووٹر شامل کیے گئے تھے۔
اس کے انتخابی اعداد و شمار نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے تیار کردہ حتمی فہرستوں میں 18-19 سال کی عمر کے گروپ میں 18.4 ملین سے زیادہ ووٹروں کو بھی درج کیا۔
2024 کی نظر ثانی کے لیے ای سی آئی کے اپنے رہنما خطوط نے خاص طور پر نئے اہل 18-19 سال کے گروپ میں اندراج کو بڑھانا اس مشق کے اہداف میں سے ایک قرار دیا تھا۔
بعد میں نظر ثانی کے عمل پر تنازعہ اب کانگریس کی قیادت والی اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان ووٹر فہرستوں کی سالمیت اور شمولیت پر وسیع تر تصادم کا حصہ بن گیا ہے۔
جہاں اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ تاخیر اور ترمیم سے اہل ووٹر، خاص طور پر پہلی بار ووٹ دینے والے، فہرستوں سے باہر رہ سکتے ہیں،وہیں کمیشن کا موقف ہے کہ اس کی ووٹر فہرست سے جڑی مشقوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اہل شہریوں کو شامل کیا جائے اور فہرستیں درست رہیں۔
اس لیے مسٹر رمیش کی تازہ ترین مداخلت جاری ووٹر فہرست کے تنازعہ کو ایک وسیع تر سیاسی تناظر میں رکھتی ہے، جو 1988 میں ووٹنگ کے حقوق کی آئینی توسیع کو ووٹروں کی نئی نسل کے بروقت اندراج پر موجودہ تنازعہ سے جوڑتی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ووٹ چوری سے آئین اور جمہوریت ختم ہو رہی ہے، اقتدار مخالف لہر کا خاتمہ منصفانہ انتخابات پر بڑا سوال: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ‘ووٹ چوری’ کے ذریعے آئین، قانون اور جمہوری اداروں کو کمزور کر کے بی جے پی کے خلاف اقتدار مخالف (اینٹی انکمبنسی) لہر کو پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے کرائی جا رہی ‘ووٹ چوری’ کا انکشاف ان کے ساتھی ہی کر چکے ہیں، اس لیے انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ووٹ چوری’ کی سازش میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووبھال، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، صنعت کار گوتم اڈانی سمیت کئی لوگ شامل ہیں۔
ووٹ چوری ملک کی جمہوریت پر بہت بڑا حملہ ہے اور ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی یہ سازش غداری ہے۔ ووٹ چوری کرنے والے غداروں کے خلاف وہ چپ نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گیانیش کمار کے فیصلوں پر ان کے ساتھ کے دو الیکشن کمشنر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر گیانیش کمار جی پڑھے لکھے انسان ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ملک کو ان کی وجہ سے کتنا نقصان ہو رہا ہے اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے جمعرات کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کا یہ کہنا کہ اگلے 30 سال تک بی جے پی کی حکومت رہے گی اور لوگوں کو اس کی عادت ڈالنی چاہیے، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار مخالف لہر کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو کچھ گڑبڑ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹی یا رہنما ہمیشہ مقبول نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اندرا گاندھی بنگلہ دیش جنگ کے وقت ملک کی انتہائی مقبول وزیر اعظم تھیں لیکن دو تین سال بعد ان کے خلاف زبردست اقتدار مخالف لہر آئی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، راجیو گاندھی، منموہن سنگھ اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے خلاف بھی اقتدار مخالف لہر آتی رہی ہے لیکن اب بی جے پی کے خلاف یہ لہر پوری طرح غائب دکھتی ہے اور اس کا غائب ہونا اہم سوال کھڑا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک سیاسی خاندان سے آتے ہیں اور پچھلے 50 سال سے سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا رہنما کے بارے میں اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ طویل عرصے تک اقتدار میں بنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ، مدھیہ پردیش، گجرات، اتر پردیش اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں ایک پارٹی آتی ہے اور دوسری چلی جاتی ہے ، لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے۔ یہ اقتدار مخالف لہر ختم کر دی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹ چوری سے ملک کو برباد کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے آئین آتا ہے، اس کے بعد قانون اور پھر ادارے آتے ہیں لیکن ان کے مطابق آج آئین کو کمزور کیا جا رہا ہے، قانون اور اداروں کی خود مختاری ختم کی جا رہی ہے۔ اگر آئین نہیں رہے گا، قانون کمزور ہو جائیں گے اور اداروں کو ختم کر دیا جائے گا تو کچھ نہیں بچے گا۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ سے آئین کو طاقت ملتی ہے، ووٹ سے ہی قانون بنتے ہیں اور قانون سے ادارے چلتے ہیں۔ جب لوگ ووٹ ڈالتے ہیں تو آئین کو طاقت ملتی ہے، لیکن اگر ووٹ کو ہی ختم کر دیا جائے تو قانون اور اداروں کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ووٹ کو تباہ کرنے کا کام کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ادارے بھی کمزور ہوئے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے 28 اکتوبر 2025 کو پریس کانفرنس کر کے ملک میں ‘ووٹ چوری’ کا معاملہ اٹھایا تھا اور اس کے بعد ‘ووٹ چوری ادھیکار یاترا’ کے ذریعے بھی عوام کو بتایا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہریانہ میں بھی ووٹ چوری ہوئی تھی اور الیکشن کمیشن ان واقعات سے باخبر تھا۔ ان پریس کانفرنسوں کے ذریعے الیکشن کمیشن پر دباؤ پڑا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار مخالف لہر پوری طرح ختم ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے ووٹ چوری ہو رہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹ چوری ووٹر فہرست سے نام ہٹا کر اور ای وی ایم کے ذریعے دونوں طرح سے کی جا رہی ہے۔ ووٹروں کے نام بدلے جا رہے ہیں، فہرست سے ہٹائے جا رہے ہیں اور ای وی ایم کے ذریعے بھی ووٹ چوری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے دو الیکشن کمشنروں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات سے ان کی کہی ووٹ چوری کی بات کی تصدیق ہوئی ہے۔ دونوں الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں پر اعتراض درج کرایا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوا ہے جب انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے ووٹ چوری کے خلاف یاترا نکالی اور کئی مسائل اٹھائے لیکن اس وقت دونوں الیکشن کمشنروں نے کچھ نہیں کہا اور جب ان کی پریس کانفرنس کی کہی باتیں سچ ثابت ہونے لگیں تو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے پر اعتراض درج کرنے کا کام اسی دباؤ میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ووٹ چوری کا راستہ نکالا ہے۔ انہوں نے دسمبر 2023 میں ایسا قانون بنایا جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے نظام میں تبدیلی کی گئی۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے انتخاب کا عمل منصفانہ ہونا چاہیے لیکن ان کی بات کو نظر انداز کیا گیا اور بعد میں انہی کے حساب سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں اور انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام کام نہیں ہو رہا بلکہ آئین پر حملہ کیا گیا ہے اور اسے کمزور کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووبھال اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سمیت کچھ لوگوں کی تصویریں دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جمہوریت کو ختم کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انتخاب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا ہے اور اب چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ کام کر رہے ان کے دو الیکشن کمشنر ان سے ہی سوال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ ختم ہو چکا ہے اور قانون بنانے والے ادارے بھی ختم کیے جا رہے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ آج ملک میں جمہوریت جس صورت حال میں پہنچ گئی ہے 1947 کے بعد سے کبھی ایسی صورت حال سے ملک نہیں گزرا ہے۔ انتخاب کے عمل کو ختم کیا جا رہا ہے، قانون بنانے والے اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، ووٹ چوری کی جا رہی ہے اور اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب وہ اس طرح کی صورت حال دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور دیگر لوگوں نے جس طرح ‘ووٹ چوری’ کرائی ہے، اس کی تحقیقات ضرور ہوں گی اور ووٹ چوری کی سازش کے لیے ذمہ دار لوگوں کو سزا ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانے والے دونوں الیکشن کمشنروں کے حوصلے کی وہ سراہنا کرتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا انکشاف کر رہے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ کسی طرح کا قیاس یا گمراہ کن بات نہیں ہے بلکہ سچائی پر مبنی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے ملک کی جمہوریت کو برباد کیا ہے نیز جن لوگوں نے آئین کو برباد کرنے کا کام کیا ہے ان کی تحقیقات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کی آزادی کی لڑائی لڑنے والی پارٹی ہے اور وہ جمہوریت نیز آئین کو بچانے کی اس لڑائی میں خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے کو چھوڑنے والی نہیں ہے اور ‘ووٹ چوری’ کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا7 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا7 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
