ہندوستان
ایک پی ایم نے نوجوانوں کو بااختیار بنایا، دوسرا ان کا ووٹ چھیننا چاہتا ہے: جے رام رمیش
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعہ کے روز انتخابات میں نوجوانوں کی شرکت کے حوالے سے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے متضاد کارناموں کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت پر ووٹروں کی نئی نسل کے اندراج کو التوا میں رکھنے کا الزام لگایا۔
اسے “دو وزرائے اعظم کی کہانی” قرار دیتے ہوئے، مسٹر رمیش نے یاد دلایا کہ پارلیمنٹ نے راجیو گاندھی کے دورِ حکومت میں دسمبر 1988 میں آئین کی دفعہ 326 میں ترمیم کی تھی تاکہ ووٹنگ کی عمر 21 سے گھٹا کر 18 سال کی جا سکے۔
مسٹر رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “ایک پی ایم نے دسمبر 1988 میں باقاعدہ ونٹر سیشن میں پارلیمنٹ سے آئین کی دفعہ 326 میں ترمیم کرائی تاکہ ووٹنگ کی کم از کم عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کی جا سکے۔ یہ ایک ایسا پی ایم تھا جس نے نوجوانوں کو بااختیار بنایا۔”
آئین (61 ویں ترمیم) ایکٹ، 1988 نے کروڑوں نوجوان ہندوستانیوں کو 18 سال کی عمر سے انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا، جس سے ملک کے ووٹروں کے دائرے میں نمایاں توسیع ہوئی۔
مسٹر رمیش نے اس کا موازنہ موجودہ حکومت کے ووٹر فہرست میں نظر ثانی کے طریقہ کار سے کیا جسے انہوں نے حکومت کا رویہ قرار دیا۔
انہوں نے الزام لگایا، “ایک اور پی ایم ہیں جنہوں نے یہ یقینی بنایا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی 2024 سے روک دی جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ‘جین زی ووٹرزکا اندراج نہ ہوسکے۔”
مسٹر رمیش نے کہا، “یہ ایک ایسا پی ایم ہے جو نوجوانوں سے ڈرتا ہے کیونکہ اس نے ان کی امیدوں اور آرزوؤں کو چکنا چور کر دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا: “ایک پی ایم نے جین زی کو ووٹ دیا، دوسرا اسے غلط طریقوں سے چھیننے پر تلا ہوا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے ووٹر فہرست کی نظر ثانی پر پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے سیاسی اور ادارہ جاتی تنازعہ کے درمیان آئے ہیں، جس میں الیکشن کمیشن کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل اور یہ رپورٹیں شامل ہیں کہ 2024 کی سائیکل کے بعد سالانہ اسپیشل سمری ریویژن (ایس ایس آر) قومی سطح پر دوبارہ شروع نہیں ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026-27 کے سالانہ ریویژن میں تاخیر ہوئی تھی، جس سے 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے شہریوں کے نام درج ہونے پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ الیکشن کمشنر وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو نے اس کے دوبارہ آغاز کی حمایت کی تھی۔
تاہم، الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کی مسلسل تجدید کے فریم ورک کو برقرار رکھا ہے اور تمام اہل شہریوں کے نام درج کرنے کی ضرورت پر بار بار زور دیا ہے جبکہ ووٹر فہرستوں کی درستگی اور سالمیت کو برقرار رکھا جائے۔
اس کے سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ایس ایس آر 2024 یکم جنوری 2024 کو اہلیت کی تاریخ مان کر انجام دیا گیا تھا۔
کمیشن نے کہا کہ ایس ایس آر 2024 کے عمل کے دوران 18-29 سال کی عمر کے دو کروڑ سے زیادہ ووٹر شامل کیے گئے تھے۔
اس کے انتخابی اعداد و شمار نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے تیار کردہ حتمی فہرستوں میں 18-19 سال کی عمر کے گروپ میں 18.4 ملین سے زیادہ ووٹروں کو بھی درج کیا۔
2024 کی نظر ثانی کے لیے ای سی آئی کے اپنے رہنما خطوط نے خاص طور پر نئے اہل 18-19 سال کے گروپ میں اندراج کو بڑھانا اس مشق کے اہداف میں سے ایک قرار دیا تھا۔
بعد میں نظر ثانی کے عمل پر تنازعہ اب کانگریس کی قیادت والی اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان ووٹر فہرستوں کی سالمیت اور شمولیت پر وسیع تر تصادم کا حصہ بن گیا ہے۔
جہاں اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ تاخیر اور ترمیم سے اہل ووٹر، خاص طور پر پہلی بار ووٹ دینے والے، فہرستوں سے باہر رہ سکتے ہیں،وہیں کمیشن کا موقف ہے کہ اس کی ووٹر فہرست سے جڑی مشقوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اہل شہریوں کو شامل کیا جائے اور فہرستیں درست رہیں۔
اس لیے مسٹر رمیش کی تازہ ترین مداخلت جاری ووٹر فہرست کے تنازعہ کو ایک وسیع تر سیاسی تناظر میں رکھتی ہے، جو 1988 میں ووٹنگ کے حقوق کی آئینی توسیع کو ووٹروں کی نئی نسل کے بروقت اندراج پر موجودہ تنازعہ سے جوڑتی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoویشالی میں کشتی الٹنے سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 2-2 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا
