ہندوستان
جمہوریت بچانے کے لیے ایس آئی آر روکنے اور گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر تحریک جاری رکھے گا ‘انڈیا’ اتحاد
نئی دہلی، ‘انڈیا’ اتحاد کے سرکردہ رہنماؤں نے جمہوریت کے تحفظ، ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی روکنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر مکمل اتفاقِ رائے کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان مطالبات کی منظوری تک اپوزیشن کی تحریک پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری رہے گی۔
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے منگل کے روز اپنی رہائش گاہ پر ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں، اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ اور طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کو چائے پر مدعو کیا تھا، جس میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں، ان رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار دنوں کے دوران احتجاجی مظاہروں نے ملک میں جمہوریت اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کی اٹوٹ یکجہتی کو ثابت کر دیا ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ دینا اور مظاہرے کے مقامات کو دہلی کی سرحدوں پر منتقل کرنا حکومت کے اندرونی خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ اتحاد نے ‘ووٹ چوری’ کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کا پختہ عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو بچانے، ایس آئی آر کو روکنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ پورا ہونے تک ان کی تحریک بلا تعطل جاری رہے گی۔
مسٹر گاندھی کی طرف سے دی گئی اس چائے پارٹی میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال، کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، ہماچل پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو، آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو، ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ ساگریکا گھوش، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ، شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے راوت، نشنلسٹ کانگریس پارٹی ( شردپوار) کی رکنِ پارلیمنٹ سپریہ سُلے، کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گورو گگوئی ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا مانجھی، سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ پریا سروج اور ‘ودوتھلائی چروتھائیگل کاچی’ کے رہنما تھول تھیروماولون سمیت ‘انڈیا’ اتحاد کے دیگر رہنما اور طلبہ رہنما شریک ہوئے۔
اس موقع پر مسٹر کھرگے نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں میں ‘انڈیا’ اتحاد کے پروگراموں کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی اور دیگر سرکردہ رہنماؤں نے عوامی مسائل کو پوری سنجیدگی اور لگن کے ساتھ اٹھایا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے، اور دہلی میں یہ پہلا موقع ہے کہ نوجوان اور عام شہری اپنی ذاتی پہل پر اتنی بڑی تعداد میں ایک ساتھ سڑکوں پر آئے ہیں۔ اتحاد کے تمام اراکین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ‘ووٹ چوری’ کی مبینہ اسکیم کو بے نقاب کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
مسٹر راہل گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اس مبینہ سازش کا مرکزی کردار (ماسٹر مائنڈ)، وزیرِ داخلہ امت شاہ کو اس کا نفاذ کرنے والا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اس میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کو پامال کر کے کوئی بچ نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا یہ احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت کی آواز نہیں، بلکہ ملک کی عام لوگوں کی آواز ہے۔ انہوں نے دہلی اور ملک بھر کے ان تمام شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کٹھن جدوجہد میں ساتھ دیا۔ مسٹر گاندھی نے عزم ظاہر کیا کہ جمہوری عمل کو بحال کرنے کے لیے تمام جماعتیں مل کر آخری دم تک لڑیں گی اور اس کے لیے ذمہ دار عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے کہاکہ جمہوریت کو بچانے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور اس کے لیے جو بھی قربانی دینی پڑی، وہ مل کر دیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی، مسٹر مودی اور مسٹر شاہ جمہوریت اور آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی )، سی بی آئی اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ جیسے اداروں کے بعد اب الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سنگین سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ مسٹر یادو نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ایک کٹھ پتلی کی طرح کام کیا ہے اور انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔
مسٹر یادو نے کہا کہ جنتر منتر تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے، جہاں روایتی طور پر احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ مظاہرے کے مقامات کو دہلی کی سرحدوں پر دھکیلنا حکومت کے خوف کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے ذمہ داروں کو ملک کی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ جمہوریت اور آئین کو بچانے کی اس لڑائی میں اپوزیشن متحد رہے گی اور اسے کامیابی ضرور ملے گی۔
ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ ساگریکا گھوش نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ گیانیش کمار کی قیادت والا الیکشن کمیشن ہندوستان میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے عمل کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسٹر کمار جیسے اشخاص الیکشن کمیشن کے منصب پر فائز رہیں گے، تب تک ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ‘انڈیا’ اتحاد کی تمام جماعتیں مکمل طور پر متحد ہیں اور گیانیش کمار کو ہٹانے نیز ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ پورا ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ محترمہ گھوش نے ہریانہ، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور بہار میں ہوئے انتخابات میں مبینہ ووٹ چوری کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے اور اس میں ملوث انتخابی حکام کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایس آئی آر کے عمل کو فوراً روکنے، پرانی ووٹر لسٹوں کو بحال کرنے اور الیکشن کمیشن کو مکمل جوابدہ بنانے پر زور دیا۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت نے کہاکہ راہل گاندھی نے تمام اپوزیشن رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ کو چائے کی اس اہم میٹنگ میں مدعو کیا تھا، جہاں مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، مسٹر مودی اور مسٹر شاہ کے خلاف یہ جدوجہد صرف قومی دارالحکومت تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اسے ملک کے دوسرے حصوں میں بھی وسعت دی جائے گی۔
سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ میٹنگ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر ملک بھر میں مہم چلانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ این سی پی (ایس پی) کی رکنِ پارلیمنٹ سپریہ سُلے نے کہا کہ ‘انڈیا’ اتحاد پوری طاقت اور آہنی عزم کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر موجود ہے۔ آئین کو پے در پے کمزور کیا جا رہا ہے اور جمہوریت خطرے میں ہے، لہذا پوری اپوزیشن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی عطا کردہ آئینی اقدار اور حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی تحریک کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گلی کوچوں سے لے کر پارلیمنٹ تک یہ جدوجہد مسلسل جاری رہے گی۔
کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گورو گگوئی نے کہا کہ آج کی اس چائے کی میٹنگ کے بعد پورے ملک میں یہ واضح پیغام چلا گیا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ایک مشترکہ اور اہم مدعے پر پوری طرح یکسو ہو کر احتجاج کر رہی ہیں۔
جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا مانجھی نے کہا کہ وہ اس میٹنگ میں اپنی پارٹی کی باضابطہ نمائندگی کرنے کے لیے شریک ہوئیں اور پارٹی نے اس تحریک کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ پریا سروج نے کہاکہ احتجاج کے مقامات کو بدلنے سے اپوزیشن کی توانا آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے آمرانہ اور غیر جمہوری رویے نے اپوزیشن کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔
سی پی آئی (ایم ) کے رہنما ایم اے بیبی نے کہا کہ غیر جانبدار رہنے کی آئینی ذمہ داری نبھانے والے لوگ حکمران جماعت کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ ان لوگوں نے پہلے عوامی ووٹ چرائے، پھر جمہوری حقوق چھینے اور اب پرامن احتجاج کا حق بھی سلب کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘انڈیا’ اتحاد ان ‘ووٹ چوروں’ کے خلاف مشترکہ طور پر فیصلہ کن جنگ لڑے گا۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ انصاف کے حصول کی اس تاریخی لڑائی میں ‘انڈیا’ اتحاد کی تمام اکائیاں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ ہریندرملک نے عزم ظاہر کیا کہ جمہوریت کا گلا گھونٹنے والے ‘ووٹ چوروں’ کے خلاف آخری سانس تک مؤثر جنگ لڑی جائے گی اور اس میں فتح سچی جمہوریت کی ہوگی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی، سینسیکس 1,100 پوائنٹس سے زیادہ بڑھا
مبئی، گھریلو اسٹاک مارکیٹوں میں منگل کو زبردست تیزی دیکھی گئی، بی ایس ای سینسیکس 1,100 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ سینسیکس 71,951.73 پوائنٹس پر کھلا، جو پچھلے کاروباری دن سے 27 پوائنٹس زیادہ ہے۔ یہ 71,703.56 پر ریڈ زون میں گرا لیکن پھر تیزی سے سبز ہو گیا۔ سینسیکس 1,109.10 پوائنٹس (1.54 فی صد) بڑھ کر 73,033.78 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس سے قبل یہ 73,045.67 پوائنٹس کی اونچائی پر پہنچ گیا تھا۔ اس طرح آج اس میں 1,342 پوائنٹس کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی 50 انڈیکس صبح فلیٹ کھلنے کے بعد بالآخر 358.60 پوائنٹس یا 1.60 فی صد بڑھ کر 22,721.95 پر آگیا۔ گزشتہ کاروباری دن دونوں بڑے انڈیکس سرخ رنگ میں بند ہوئے تھے۔ روپے کے مسلسل دوسرے دن مسلسل اضافے سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے جذبات کو تقویت ملی ہے۔ مضبوط سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہوا۔ وسیع بازار میں بھی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری تھا۔
نفٹی مڈ کیپ 50 انڈیکس میں 0.87 فیصد اضافہ ہوا اور سمال کیپ 100 انڈیکس میں 0.11 فی صد اضافہ ہوا۔
بہتر سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں میں بھی بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی۔ نفٹی آئی ٹی انڈیکس 5.22 فی صد بڑھ گیا۔ رئیلٹی سیکٹر 2.46 فی صد بڑھ کر بند ہوا۔ آٹو، بینکنگ، فائنانس، ایف ایم سی جی، میٹل، اور کنزیومر ڈیریبل سیکٹر کے انڈیکس میں بھی ایک فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سینسیکس کمپنیوں میں، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز کا اسٹاک آٹھ فیصد سے زیادہ بڑھ گیا۔
کمپنی نے پیر کو اطلاع دی کہ اس کا خالص منافع سال بہ سال 21.2 فی صد بڑھ کر Rs5,132 کروڑ ہو گیا اور موجودہ مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں آمدنی 11.5 فیصد بڑھ کر Rs35,620 کروڑ ہو گئی۔ دیگر آئی ٹی کمپنیوں میں، ٹی سی ایس کے حصص میں 6.5 فی صد، ٹیک مہندرا کے تقریباً 5 فی صد اور انفوسس کے حصص میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ہندوستان یونی لیور، ٹرینٹ، بجاج فنسر اور بجاج فائنانس کے حصص میں 2 سے 3 فی صد اضافہ ہوا۔ ٹائٹن، مہندرا اینڈ مہندرا، بی ای ایل، بھارتی ایئرٹیل، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، الٹرا ٹیک سیمنٹ، ایچ ڈی ایف سی بینک، ٹاٹا اسٹیل، آئی ٹی سی، ایل اینڈ ٹی، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایشین پینٹس، اور ایکسس بینک کے حصص میں 1 سے 2 فی صد اضافہ ہوا۔ ریلائنس انڈسٹریز، سن فارما، اڈانی پورٹس اور پاور گرڈ کے حصص بھی سبز رنگ میں رہے۔ کوٹک مہندرا بینک، ایٹرنل اور ماروتی سوزوکی کے حصص میں کمی ہوئی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
راجیو چوک پر این ایس یو آئی کا مظاہرہ، جاکھڑ سمیت متعدد کارکنان حراست میں
نئی دہلی، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کرتے ہوئے منگل کے روز کنالٹ پلیس میں واقع راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 7 پر اچانک احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے کی قیادت این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کی۔ مظاہرین نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ ‘ووٹ چوری’ کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب دہی اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے کے مدنظر کنالٹ پلیس میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ دہلی پولیس نے مسٹر جاکھڑ سمیت سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
مسٹر جاکھڑ نے کہا کہ طالب علم رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر انتخابی شفافیت سے جڑے سوالات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرے کو روکنے کے بجائے حکومت کو سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ ‘ووٹ چوری’ کے خلاف ان کی تحریک جمہوری اور پرامن طریقے سے جاری رہے گی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ میں دہلی مظاہروں اور ایس آئی آر سے متعلق عرضیوں پر سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں ہوئے مظاہروں اور الیکشن کمیشن کی ووٹر فہرست کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق عرضیوں پر سماعت منگل کے روز 15 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے یہ معاملات فہرست بند تھے، لیکن بنچ کے ایک رکن جسٹس وی موہنا کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے سماعت کو ملتوی کرنا پڑا۔ اس پر تمام فریقین نے رضامندی کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مظاہروں کی کوریج کے دوران خاتون صحافیوں کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی کے الزامات پر جواب دینے کے لیے دہلی پولیس کے ایک سینئر اہلکار کی موجودگی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
سپریم کورٹ نے ‘ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز’ (اے ڈی آر) کی ایک نئی عرضی پر نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ اس عرضی میں ‘چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ، 2023’ کی دفعہ 16 کو چیلنج کیا گیا ہے، جو الیکشن کمشنروں کو ان کے سرکاری کام کے لیے قانونی استثنیٰ فراہم کرتی ہے۔
اس سے قبل، اپنے 11 اکتوبر کی ہدایات میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ امتناعی احکامات والے علاقوں کے باہر پرامن اور نہتے لوگوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہ لیا جائے۔ اس میں حکام کو عام پبلک ٹرانسپورٹ اور انٹرنیٹ سروسز کو بحال رکھنے، ٹریفک قوانین کے تابع آزادانہ نقل و حمل، وکلاء و صحافیوں کو رسائی دینے اور بیریگیڈز کا جائزہ لینے کی ہدایات بھی شامل تھیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان5 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
دنیا5 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
