ہندوستان
جمہوریت بچانے کے لیے ایس آئی آر روکنے اور گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر تحریک جاری رکھے گا ‘انڈیا’ اتحاد
نئی دہلی، ‘انڈیا’ اتحاد کے سرکردہ رہنماؤں نے جمہوریت کے تحفظ، ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی روکنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر مکمل اتفاقِ رائے کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان مطالبات کی منظوری تک اپوزیشن کی تحریک پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری رہے گی۔
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے منگل کے روز اپنی رہائش گاہ پر ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں، اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ اور طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کو چائے پر مدعو کیا تھا، جس میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں، ان رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار دنوں کے دوران احتجاجی مظاہروں نے ملک میں جمہوریت اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کی اٹوٹ یکجہتی کو ثابت کر دیا ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ دینا اور مظاہرے کے مقامات کو دہلی کی سرحدوں پر منتقل کرنا حکومت کے اندرونی خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ اتحاد نے ‘ووٹ چوری’ کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کا پختہ عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو بچانے، ایس آئی آر کو روکنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ پورا ہونے تک ان کی تحریک بلا تعطل جاری رہے گی۔
مسٹر گاندھی کی طرف سے دی گئی اس چائے پارٹی میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال، کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، ہماچل پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو، آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو، ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ ساگریکا گھوش، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ، شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے راوت، نشنلسٹ کانگریس پارٹی ( شردپوار) کی رکنِ پارلیمنٹ سپریہ سُلے، کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گورو گگوئی ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا مانجھی، سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ پریا سروج اور ‘ودوتھلائی چروتھائیگل کاچی’ کے رہنما تھول تھیروماولون سمیت ‘انڈیا’ اتحاد کے دیگر رہنما اور طلبہ رہنما شریک ہوئے۔
اس موقع پر مسٹر کھرگے نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں میں ‘انڈیا’ اتحاد کے پروگراموں کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی اور دیگر سرکردہ رہنماؤں نے عوامی مسائل کو پوری سنجیدگی اور لگن کے ساتھ اٹھایا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے، اور دہلی میں یہ پہلا موقع ہے کہ نوجوان اور عام شہری اپنی ذاتی پہل پر اتنی بڑی تعداد میں ایک ساتھ سڑکوں پر آئے ہیں۔ اتحاد کے تمام اراکین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ‘ووٹ چوری’ کی مبینہ اسکیم کو بے نقاب کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
مسٹر راہل گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اس مبینہ سازش کا مرکزی کردار (ماسٹر مائنڈ)، وزیرِ داخلہ امت شاہ کو اس کا نفاذ کرنے والا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اس میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کو پامال کر کے کوئی بچ نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا یہ احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت کی آواز نہیں، بلکہ ملک کی عام لوگوں کی آواز ہے۔ انہوں نے دہلی اور ملک بھر کے ان تمام شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کٹھن جدوجہد میں ساتھ دیا۔ مسٹر گاندھی نے عزم ظاہر کیا کہ جمہوری عمل کو بحال کرنے کے لیے تمام جماعتیں مل کر آخری دم تک لڑیں گی اور اس کے لیے ذمہ دار عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے کہاکہ جمہوریت کو بچانے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور اس کے لیے جو بھی قربانی دینی پڑی، وہ مل کر دیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی، مسٹر مودی اور مسٹر شاہ جمہوریت اور آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی )، سی بی آئی اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ جیسے اداروں کے بعد اب الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سنگین سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ مسٹر یادو نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ایک کٹھ پتلی کی طرح کام کیا ہے اور انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔
مسٹر یادو نے کہا کہ جنتر منتر تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے، جہاں روایتی طور پر احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ مظاہرے کے مقامات کو دہلی کی سرحدوں پر دھکیلنا حکومت کے خوف کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے ذمہ داروں کو ملک کی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ جمہوریت اور آئین کو بچانے کی اس لڑائی میں اپوزیشن متحد رہے گی اور اسے کامیابی ضرور ملے گی۔
ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ ساگریکا گھوش نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ گیانیش کمار کی قیادت والا الیکشن کمیشن ہندوستان میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے عمل کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسٹر کمار جیسے اشخاص الیکشن کمیشن کے منصب پر فائز رہیں گے، تب تک ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ‘انڈیا’ اتحاد کی تمام جماعتیں مکمل طور پر متحد ہیں اور گیانیش کمار کو ہٹانے نیز ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ پورا ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ محترمہ گھوش نے ہریانہ، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور بہار میں ہوئے انتخابات میں مبینہ ووٹ چوری کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے اور اس میں ملوث انتخابی حکام کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایس آئی آر کے عمل کو فوراً روکنے، پرانی ووٹر لسٹوں کو بحال کرنے اور الیکشن کمیشن کو مکمل جوابدہ بنانے پر زور دیا۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت نے کہاکہ راہل گاندھی نے تمام اپوزیشن رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ کو چائے کی اس اہم میٹنگ میں مدعو کیا تھا، جہاں مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، مسٹر مودی اور مسٹر شاہ کے خلاف یہ جدوجہد صرف قومی دارالحکومت تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اسے ملک کے دوسرے حصوں میں بھی وسعت دی جائے گی۔
سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ میٹنگ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر ملک بھر میں مہم چلانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ این سی پی (ایس پی) کی رکنِ پارلیمنٹ سپریہ سُلے نے کہا کہ ‘انڈیا’ اتحاد پوری طاقت اور آہنی عزم کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر موجود ہے۔ آئین کو پے در پے کمزور کیا جا رہا ہے اور جمہوریت خطرے میں ہے، لہذا پوری اپوزیشن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی عطا کردہ آئینی اقدار اور حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی تحریک کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گلی کوچوں سے لے کر پارلیمنٹ تک یہ جدوجہد مسلسل جاری رہے گی۔
کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گورو گگوئی نے کہا کہ آج کی اس چائے کی میٹنگ کے بعد پورے ملک میں یہ واضح پیغام چلا گیا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ایک مشترکہ اور اہم مدعے پر پوری طرح یکسو ہو کر احتجاج کر رہی ہیں۔
جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا مانجھی نے کہا کہ وہ اس میٹنگ میں اپنی پارٹی کی باضابطہ نمائندگی کرنے کے لیے شریک ہوئیں اور پارٹی نے اس تحریک کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ پریا سروج نے کہاکہ احتجاج کے مقامات کو بدلنے سے اپوزیشن کی توانا آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے آمرانہ اور غیر جمہوری رویے نے اپوزیشن کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔
سی پی آئی (ایم ) کے رہنما ایم اے بیبی نے کہا کہ غیر جانبدار رہنے کی آئینی ذمہ داری نبھانے والے لوگ حکمران جماعت کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ ان لوگوں نے پہلے عوامی ووٹ چرائے، پھر جمہوری حقوق چھینے اور اب پرامن احتجاج کا حق بھی سلب کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘انڈیا’ اتحاد ان ‘ووٹ چوروں’ کے خلاف مشترکہ طور پر فیصلہ کن جنگ لڑے گا۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ انصاف کے حصول کی اس تاریخی لڑائی میں ‘انڈیا’ اتحاد کی تمام اکائیاں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ ہریندرملک نے عزم ظاہر کیا کہ جمہوریت کا گلا گھونٹنے والے ‘ووٹ چوروں’ کے خلاف آخری سانس تک مؤثر جنگ لڑی جائے گی اور اس میں فتح سچی جمہوریت کی ہوگی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
