ہندوستان
ای سی آئی کی ایس آئی آر کے خلاف راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد لیڈروں کی عرضی پر سپریم کورٹ کا نوٹس، درخواست گزار کے رویے…
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کو چیلنج کرنے والی عرضی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بینچ نے الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو نوٹس جاری کیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “ہم درخواست گزاروں میں سے ایک سے ان کے رویے کے بارے میں بھی سوال کریں گے۔”
عدالت کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب راہل گاندھی نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ کی طرف مارچ کیا تھا، جس سے عدالت کے احاطے میں کافی بھیڑ اور افراتفری پیدا ہو گئی تھی۔ اگرچہ راہل گاندھی کی طرف سے ابتدائی طور پر خود ذاتی طور پر عرضی جمع کرانے کی توقع تھی، لیکن سپریم کورٹ کی رجسٹری کا وقت ختم ہونے کے قریب ہونے کے باعث اسے وکلاء کے ذریعے دائر کیا گیا۔ بعد میں رہنماؤں نے رجسٹری کا دورہ کیا، جس سے عدالت کے احاطے میں مزید بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔
درخواست گزاروں میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، ترنمول کانگریس کے سوگت رائے، سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو، آر جے ڈی کے تیجسوی پرساد یادو، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سنجے راؤت، سی پی آئی (ایم) کے ایم اے بیبی، سی پی آئی کے ڈی راجا، جے ایم ایم کی مہوا ماجھی، این سی پی (شرد پوار دھڑے) کی سپریا سولے اور آئی یو ایم ایل کے ای ٹی محمد بشیر شامل ہیں۔ وی سی کے کے صدر تھول تھروملاون اور نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ سجاد احمد کچلو بھی بعد میں اس عرضی میں شامل ہو گئے۔
یہ عرضی ایس آئی آر کی عمل کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے درمیان سامنے آئی ہے۔
سپریم کورٹ نے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کی جانب سے ایس آئی آر کےعمل کو چیلنج کرنے والی ایک الگ عرضی اور کانگریس رہنما دگوجے سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی ایک اور عرضی پر بھی نوٹس جاری کیا۔
عرضی میں ایس آئی آر کے عمل کا عدالتی جائزہ لینے کی مانگ کی گئی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے 24 جون 2025 کے فیصلے کے ریکارڈ کی پیشی اور آئینی و قانونی دفعات کی تعمیل کی جانچ شامل ہے۔ اس میں 2023 کے ایکٹ کے تحت اجتماعی اور دستاویزی فیصلہ سازی، آن لائن فارم 6 کی اصلاح اور ووٹروں کے نام خارج کیے جانے اور ووٹر لسٹ کے ڈیٹا بیس کا آڈٹ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دیگر اہم مطالبات میں بوتھ وار خارج کیے گئے ووٹروں کے ناموں اور ان کی وجوہات کی اشاعت، نام خارج کرنے سے پہلے نوٹس اور سماعت، ناموں کو بحال کرنے کا نظام، انتخاب والی ریاستوں میں اندراج کی آخری تاریخ میں توسیع، اور کیس کے زیر التواء رہنے تک ملک بھر میں ایس آئی آر عمل کی معطلی شامل ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
اقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے کانگریس رہنما راہل گاندھی پر اقتدار کے لالچ میں عوامی مینڈیٹ کی توہین کرنے اور آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔
مسٹر پردھان نے جمعہ کے روز ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گینیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ قومی مفاد، نظام کی اصلاح اور طلباء کی فلاح و بہبود کے نام پر شروع کیے گئے احتجاجی مظاہروں کا اصل کردار اب کسی سے چھپا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، “کھلے عام ‘اقتدار کی تبدیلی’ کی بات کرنا اور بنگلہ دیش سے تحریک حاصل کرنا واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ طلباء کی آڑ میں ملک میں انارکی پھیلانے اور سیاسی نظام کو غیر مستحکم کرنے کی یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ تاہم، غیر ملکی طاقتوں کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والے ان ملک دشمن عناصر کو سمجھنا چاہئے کہ ہندوستان میں اقتدار کی تبدیلی صرف جمہوری طریقہ کار کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ اس لیے ملک کے عوام اس غیر جمہوری سوچ کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔”
انہوں نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بار بار عوامی مینڈیٹ کی توہین کرتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا، “انتخابی عمل سے من چاہے نتائج نہ ملنے پر جمہوری اداروں کے تئیں بے اعتمادی پیدا کرنے اور سیاسی مفاد کے لیے آئے دن عوام کو پریشان کرنے کی کانگریس کی کوشش ہمیشہ سے اس کا مقصد رہی ہے۔ یہ کانگریس کی اسی غیر جمہوری ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ہم وطنوں کے حقوق کو کچلا گیا تھا۔”
انہوں نے کہا کہ آئین ہاتھ میں لے کر گھومنے والے مسٹر گاندھی کو عوام بار بار مسترد کر چکے ہیں، لیکن اقتدار کے لالچ میں وہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کرنے اور آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو تار تار کرنے پر بضد ہیں۔ مسٹر گاندھی کا جمہوریت کے تئیں یہ نفرت انگیز رویہ انتہائی شرمناک ہے!
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ جلد مکمل ہونے کی امید: نرملا سیتارمن
نئی دہلی، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعہ کو امید ظاہر کی کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا جلد حتمی شکل اختیار کرنا دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اور عالمی تجارت کے مفاد میں ہوگا۔ تھائی لینڈ کے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ”عالمی تجارت اور ہندوستان و امریکہ کے درمیان تجارت کے مفاد میں میری امید ہے کہ تجارتی معاہدہ جلد از جلد مکمل ہوگا۔” اس سے قبل وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا تھا کہ مجوزہ ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اس کی قانونی دستاویزات تیار کرنے کا عمل جاری ہے۔ چین کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستانی برآمد کنندگان کو چینی بازار تک رسائی حاصل کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں سے جاری رابطوں کے باوجود بڑھتا ہوا تجارتی عدم توازن اور ہندوستانی مصنوعات پر پابندیاں اہم تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چین میں جنیرک ادویات، مویشیوں کا گوشت، سبزیوں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیا سمیت متعدد مصنوعات کے لیے زیادہ مارکیٹ رسائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم اس معاملے میں پیش رفت محدود رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر محصولاتی رکاوٹیں ہندوستان اور چین کے درمیان تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جن میں نباتاتی صحت سے متعلق اقدامات اور دیگر پابندیاں شامل ہیں۔ محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ہندوستان اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی عدم توازن دور کرنے کے لیے سزا دینے والے محصولات کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، چاہے سفارتی اور تجارتی بات چیت میں کافی وقت کیوں نہ لگے۔ برکس کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اس گروپ کو کسی ملک یا اتحاد کے خلاف محاذ کے طور پر نہیں بلکہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور عوام کی فلاح و بہبود بہتر بنانے کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کا مقصد کسی دوسرے فریق کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ اس کے ارکان کے درمیان شراکت داری کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس دنیا کی تقریباً 40 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے، باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے اور نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔ توسیع کے بعد اس گروپ میں 11 سے 12 ممالک فعال طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، جو عالمی تجارت کا تقریباً 45 فیصد ہیں۔ ہندوستان کی اقتصادی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور رکاوٹوں کے باوجود ملک نے مضبوط اقتصادی ترقی برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے بعد کے عرصے سمیت گزشتہ چار سے پانچ برسوں میں ہندوستان بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت رہا ہے۔ انہوں نے اقتصادی لچک کی وجہ جامع ترقی، وسائل تک بہتر رسائی، نوجوانوں میں ہنر مندی کے فروغ، مالیاتی نظم و ضبط اور سرکاری سرمایہ کاری میں اضافے کو قرار دیا۔ وزیر خزانہ نے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بنیادی ڈھانچے پر اخراجات کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے میں سرکاری سرمایہ کاری، اتنی ہی رقم براہ راست عوام میں منتقل کرنے کے مقابلے میں زیادہ وسیع اقتصادی اثر پیدا کرتی ہے، جبکہ اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں اور وسیع تر اقتصادی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
مرکز نے امپلائز پینشن اسکیم کے تحت ماہانہ اجرت کی حد 15,000 روپے مقرر کی
نئی دہلی، مرکزی حکومت نے امپلائز پینشن اسکیم (ای پی ایس)، 2026 میں ترمیم کرتے ہوئے ایک اہم ضابطہ کے تحت ماہانہ اجرت کی بالائی حد 15,000 روپے مقرر کر دی ہے، جس نے اس پہلے سے موجود نظام کی جگہ لے لی ہے جس کے تحت یہ رقم مرکزی حکومت کی طرف سے الگ سے طے کی جانی تھی۔
گزٹ آف انڈیا کے مطابق، وزارت محنت و روزگار کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ نوٹیفکیشن ‘جی ایس آر 890 (ای)’ کے ذریعے کی گئی یہ ترمیم 17 ستمبر سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت، حکومت نے اسکیم کے پیراگراف 4 کے سب پیراگراف (2) میں الفاظ “ایسی رقم جو مرکزی حکومت کی طرف سے طے کی جائے” کو “پندرہ ہزار روپے ماہانہ تک کی اجرت” سے تبدیل کر دیا ہے۔
اس تبدیلی سے اس ضابطہ کے تحت لاگو اجرت کی حد کی پوری طرح سے وضاحت کر دی گئی ہے، جس سے مرکزی حکومت کی طرف سے الگ سے رقم طے کرنے کے سابقہ حوالے کو ختم کر دیا گیا ہے۔
ایک الگ ترمیم میں، حکومت نے اسی سب پیراگراف کی پہلی شرط سے الفاظ “اور مرکزی حکومت” کو بھی حذف کر دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
دنیا1 week agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
دنیا1 week agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
ہندوستان6 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے شخص کی لاش نیوزی لینڈ سے واپس لانے کی کوششیں جاری: جتیندرسنگھ
-
فن و ادب1 week agoنانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
-
جموں و کشمیر6 days agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
دنیا1 week agoہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
-
دنیا1 week agoامریکی تجاویز پر غور کر رہے ہیں:ایران
