دنیا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی وینزویلا کی اپوزیشن کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے سیاسی تبدیلی مسلط کرنے کے خلاف تنبیہ
واشنگٹن/کراکس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وینزویلا کی اپوزیشن کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے سیاسی تبدیلی مسلط کرنے کی کوشش کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ان کا یہ بیان جلاوطن اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کی کراکس واپسی کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا میں جمہوری انتخابات کی جانب اقتدار کی منتقلی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
روبیو نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماچاڈو کا براہِ راست نام لیے بغیر کہا، ”آپ سڑکوں پر احتجاج کرکے جمہوریت حاصل نہیں کر سکتے۔”
ماچاڈو کی وطن واپسی، 2027 میں انتخابات کرانے کے مطالبے اور وینزویلا کی موجودہ قیادت کے ساتھ امریکہ کے ایک بڑے تیل معاہدے پر ان کی تنقید نے ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اقتدار کی منتقلی کے منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ذرائع نے، جو روبیو کے خیالات سے واقف ہیں، امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا، ”وینزویلا اس انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اگر ہماری حاصل کردہ پیش رفت کو پلٹ دیا جاتا ہے اور ماچاڈو اس عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں تو کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔” ماچاڈو کے ترجمان نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ماچاڈو اور امریکی حکام دونوں اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وینزویلا میں انتخابات ضروری ہیں، تاہم واشنگٹن نے 2027 میں انتخابات کرانے کی ان کی مجوزہ مدت کی حمایت کا عہد نہیں کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ اس سے پہلے کئی ادارہ جاتی اور اقتصادی اصلاحات کی جائیں۔
ان اصلاحات میں وینزویلا کی سپریم کورٹ کی تنظیمِ نو شامل ہے، جس پر سابق صدر نکولس مادورو کے اتحادیوں کا غلبہ ہے۔ اس کے علاوہ قومی انتخابی کونسل میں اصلاحات بھی مطلوب ہیں۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ اس کونسل نے مادورو کو گزشتہ دو صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے میں مدد دی تھی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کو امید ہے کہ رواں سال کے اختتام تک نئی سپریم کورٹ کا انتخاب ہو جائے گا اور اگلے سال کے اوائل تک اصلاح شدہ انتخابی کونسل قائم کر دی جائے گی۔
مادورو کو 3 جنوری کو امریکی افواج نے اغوا کرکے نیویارک منتقل کر دیا تھا، جہاں انہیں منشیات کی اسمگلنگ کے مبینہ الزامات کا سامنا ہے۔ اس وقت وینزویلا کی حکومت سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز چلا رہی ہیں۔
امریکی انتظامیہ وینزویلا کے قرضوں کے بوجھ میں کمی کے لیے بھی پیش رفت چاہتی ہے، جس کا تخمینہ 300 ارب ڈالر ہے۔ یہ رقم ملک کی مجموعی قومی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم، روبیو نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی۔
محکمۂ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے سکیورٹی اداروں میں اصلاحات کو بھی ممکنہ رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاشی تباہی یا سکیورٹی فورسز کی نئی حکومت سے وفاداری نہ ہونے کی صورت میں منتخب حکومت کمزور ہو سکتی ہے۔
روبیو کی بریفنگ کے تحریری متن کے مطابق، عہدیدار نے کہا، ”اگر آپ چاہتے ہیں کہ جمہوری طور پر منتخب حکومت کامیاب ہو تو آپ نہیں چاہیں گے کہ اسے ایسی معاشی تباہی ورثے میں ملے جو اس کی حکومت گرا دے۔”
عہدیدار نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ سکیورٹی فورسز نئی حکومت کے احکامات ماننے سے انکار کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہوگا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر میں تقریباً 5 ہزار فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا
رام اللہ، اسرائیلی فوج نے قابض مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں نافذ کیا گیا محاصرے کو پانچویں روز بھی جاری رکھا، جبکہ 4 ہزار 969 فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کر دیا گیا۔
الخلیل بلد یہ نے بتایا کہ شہر کے عین دیربہا اور جیلدہ علاقوں میں محاصرے کی وجہ سے گھر چھوڑنے والے فلسطینیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے ، ان کی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
بیان کے مطابق، اسرائیلی فوج کے پانچویں روز محاصرے کے تحت شہر میں زبردستی گھر چھوڑنے والے خاندانوں کی تعداد 780 تک اور بے گھر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 4,969 ہو گئی ہے۔
جبری بے گھر کیے گئے افراد میں 336 شیرخوار بچے، 441 بزرگ، 216 حاملہ یا زچہ، 44 معذور اور 312 دائمی مریض شامل ہیں۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فوج کی اضافی قوتوں نے فوجی گاڑیوں کے ہمراہ رات گئےالخلیل کے بعض محلے میں چھاپے مارے اور فلسطینیوں کے گھروں کی تلاشی لی۔
علاوہ ازیں، شہر کے داخلی راستوں کے ساتھ ساتھ قصبوں اور پناہ گزین کیمپوں کے داخلی راستے بھی اسرائیلی فوجیوں نے بند کر رکھے ہیں اور فلسطینیوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
جیلدہ چوک کے نزدیک قائم فوجی چوکیوں پر فلسطینیوں کو روکا جاتا ہے، ان کی تلاشی لی جاتی ہے اور تلاشی کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ محاصرے والے علاقے عین دیر بہا میں اسرائیلی فوج کو اضافی دستوں سے تقویت دی گئی، اور اسرائیلی فوجیوں نے بعض فلسطینی عمارتوں میں ٹھہر کر انہیں فوجی ہیڈکوارٹرز میں تبدیل کر دیا۔
فلسطینی اسیران سوسائٹی نے کل اپنے بیان میں کہا تھا کہ محاصرے کے دوران کیے گئے چھاپوں میں 85 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔
الخلیل میں فوجی حملہ اور محاصرہ اس وقت شروع ہوا جب شہر کے شمال مغربی داخلی راستے کے علاقے فرش الحوا میں 23 اکتوبر کو ایک اسرائیلی چیک پوائنٹ پر ایک مسلح حملہ ہوا۔اس حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔ حملہ کرنے والے 2 فلسطینی بھی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ الخلیل کے خلاف یہ حملہ اور محاصرہ چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹس نے محاصرے کے آغاز کے دو دن بعد کہا کہ الخلیل سے گھر چھوڑنے والے تقریباً دو ہزار فلسطینی اس وقت تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے جب تک اسرائیل شہر میں وہ عمارتیں ختم نہ کر دے جنہیں وہ حماس کا ‘انفراسٹرکچر’ قرار دیتا ہے۔
وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے حملے کے بعد قابض مغربی کنارے میں 1967 کی جنگ کے بعد کے ایک وسیع ترین پیمانے کے حملے کی دھمکی دی ہے۔
الخلیل کے واقعات اکتوبر 2023 میں غزہ پٹی پر حملوں کے آغاز کے بعد سے قابض مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے فوجی چھاپوں، فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں، گھروں اور کاروبار کی تباہی، زرعی اراضی کو پہنچنے والے نقصان اور جبری بے دخلی کی دیگر کارروائیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل میں چار دہائیوں کی بلند ترین سطح پر ووٹنگ، نیتن یاہو کو سخت انتخابی مقابلے کا سامنا
یروشلم، اسرائیل میں منگل کی دوپہر تک ووٹنگ کی شرح چار دہائیوں سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ لاکھوں ووٹروں نے ایک سخت مقابلے والے انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا، جن کے نتائج وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے تک 44.9 فیصد اہل ووٹر اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔ 1973 کے بعد اس وقت تک ریکارڈ کی گئی یہ سب سے زیادہ شرح ہے۔ کمیٹی نے بتایا کہ تقریباً 73 لاکھ اہل ووٹروں میں سے 32 لاکھ 90 ہزار 480 افراد ووٹ ڈال چکے تھے۔
ووٹنگ میں اضافے سے چھوٹی جماعتوں کے لیے اسرائیل میں انتخابی حد عبور کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ کنیسٹ کی 120 نشستوں میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے کسی جماعت کو کم از کم 3.25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ مجموعی ووٹنگ بڑھنے کے ساتھ اس حد کو عبور کرنے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔
فوج کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے اہلکاروں میں بھی ووٹنگ کی شرح بڑھی ہے اور دوپہر ایک بجے تک یہ 48 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 2022 کے انتخابات میں اسی وقت یہ شرح 44.4 فیصد تھی۔
جمعہ کو شائع ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ کسی بھی رہنما کے سیاسی اتحاد کو پارلیمانی اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں ملنے کا اندازہ نہیں لگایا گیا، جس سے حکومت سازی کے لیے طویل مذاکرات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
انتخابی مہم میں سلامتی، جمہوری اداروں اور نیتن یاہو کی قیادت سے متعلق خدشات نمایاں رہے۔ منگل کی صبح کئی جماعتوں نے پولنگ اسٹیشنوں پر مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کیں، تاہم مرکزی انتخابی کمیٹی نے کہا کہ بیلٹ پیپرز میں منظم طریقے سے ردوبدل کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
نئی تشکیل شدہ یاشر پارٹی کے رہنما آئزن کوٹ نام نہاد ‘تبدیلی بلاک’ کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس میں مختلف نظریات رکھنے والی وہ جماعتیں شامل ہیں جو نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رکھنے کی مخالف ہیں۔ اس اتحاد میں سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور ایوگدور لائبرمین بھی شامل ہیں، جو دائیں بازو کے سیاست دان ہیں اور سلامتی کے معاملے پر سخت موقف رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سابق جنرل یائیر گولان بھی اس بلاک کا حصہ ہیں۔
1996 میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم بننے والے نیتن یاہو اس بار انتہائی دائیں بازو اور الٹرا آرتھوڈوکس یہودی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان کی موجودہ حکومت کا حصہ ہیں۔
اپوزیشن کی انتخابی مہم میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں سے قبل سلامتی کے شعبے میں ہونے والی ناکامیوں کو خاص اہمیت دی گئی۔ ان حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا تھا۔
اپوزیشن رہنماؤں نے ان واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کی نیتن یاہو مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی تحقیقات ان کے خلاف جانبدارانہ ہوں گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل میں انتخابات کے لیے ووٹنگ، سیاسی منظرنامے پر دائیں بازو کا غلبہ؛ نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی کی کوشش
تل ابیب، اسرائیل میں منگل کو انتہائی اہم اور سخت مقابلے والے انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اسے ملک کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں کیے گئے حملے اور اس کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کے بعد یہ ملک کے پہلے عام انتخابات ہیں۔ اس دوران تنازع وسیع ہوکر ایران، لبنان، یمن، شام اور قطر پر اسرائیلی حملوں تک پھیل چکا ہے۔
اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے بنیامین نیتن یاہو ایک بار پھر اقتدار میں اپنی مدت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کی اب تک کی سب سے زیادہ دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی حکومت کی قیادت کی ہے، جس میں انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست اور انتہائی قدامت پسند یہودی مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔
غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو مطلوب نیتن یاہو بدعنوانی کے ایک طویل مقدمے کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے ایک ایسے اپوزیشن اتحاد کا مقابلہ کر رہے ہیں جو خود کو صہیونی قرار دیتا ہے اور اسرائیل کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بنیادی طور پر دائیں بازو کی پالیسیوں کا حامی ہے۔
انتخابی مہم میں سلامتی کے معاملات میں مبینہ ناکامیوں کے لیے جواب دہی، انتہائی قدامت پسند یہودیوں کی فوجی خدمات سے متعلق تنازعات اور عرب قیادت والی جماعتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں نمایاں رہیں۔
اس صورت حال نے فلسطینیوں کی زندگی میں کسی بامعنی بہتری کی پہلے سے ہی کم امیدوں کو مزید دھندلا دیا ہے۔ غزہ میں ایک سال سے جاری جنگ بندی کے باوجود تقریباً روزانہ مہلک حملے ہو رہے ہیں، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے پُرتشدد حملوں اور اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔
معروف اسرائیلی ماہر عمرانیات یہودا شین ہاؤ شحرابانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا پورا سیاسی نظام یہودی بالادستی کے نسل پرستانہ ڈھانچے کے تحت کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے متبادل کے طور پر سامنے آنے والے کسی بھی رہنما کو حقیقی معنوں میں بائیں بازو کا نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق، موجودہ صورت حال محض نیتن یاہو یا انتہائی دائیں بازو کی پیدا کردہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں صہیونی سیاسی فکر میں ہیں، جس کی بنیاد یہودی بالادستی کے تصور پر قائم ہے۔
جمہوریت یا محض اس کا نام؟
اسرائیل کا دائیں بازو کی طرف جھکاؤ نیتن یاہو کی 2022 میں قائم ہونے والی تازہ حکومت یا 2023 میں حماس کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے شروع نہیں ہوا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ امن عمل کی ناکامی اور سلامتی کے بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں نے سیاسی اعتدال پسندوں اور بائیں بازو کو بتدریج کمزور کیا ہے۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ثقافتی شعبے کی بحالی کے لیے محبوبہ مفتی کی امیت شاہ سے مداخلت کی اپیل
-
دنیا1 week ago“نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے: عراقچی
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
