جموں و کشمیر
جموں کے آر ایس پورہ میں حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام میں دو افراد گرفتار
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے جموں کے سرحدی علاقے رنبیر سنگھ پورہ (آر ایس پورہ) میں قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات مبینہ طور پر شیئر کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے دونوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ پاکستان میں قائم اداروں سمیت غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں اور دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہینڈلرز کے ساتھ حساس معلومات شیئر کر رہے تھے۔
گرفتار شدگان کا تعلق جموں کے اکھنور اور آر ایس پورہ علاقوں سے بتایا گیا ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں آفیشل سیکریٹس ایکٹ، 1923 کی دفعات 3 اور 5، نیز بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 152 اور 61(2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے، جس کے دوران مبینہ سرگرمیوں کی مکمل نوعیت، قومی سلامتی پر ان کے ممکنہ اثرات اور اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جموں پولیس نے قومی سلامتی کے تحفظ اور ملک کی سلامتی و سالمیت کے منافی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں عمر عبداللہ کی کابینہ میں توسیع، چار نئے وزراء شامل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو اپنی کابینہ میں پہلی مرتبہ توسیع کی۔
نیشنل کانفرنس (این سی) کے چار ارکان اسمبلی علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی عرف کلو نے وزیر کے عہدے کا حلف لیا۔ چاروں وزراء کا تعلق وادیٔ کشمیر سے ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو لوک بھون میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری میں جموں و کشمیر کی وزارتی کونسل میں شامل کیے گئے نئے وزراء کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی موجود تھے۔
تقریب میں جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزراء سکینہ مسعود ایتو، جاوید احمد رانا اور جاوید احمد ڈار، رکن پارلیمنٹ گرویندر سنگھ اوبرائے سمیت کئی معزز شخصیات اور سینئر افسران موجود تھے۔
کابینہ میں شامل کیے گئے نئے وزراء میں سری نگر کے خان یار حلقے کے رکن اسمبلی علی محمد ساگر، ترہگام کے رکن اسمبلی میر سیف اللہ، پہلگام کے رکن اسمبلی الطاف احمد کلو اور سری نگر کے حبہ کدل حلقے کی رکن اسمبلی شمیمہ فردوس شامل ہیں۔
واضح رہے کہ علی محمد ساگر اور میر سیف اللہ اس سے قبل 2008 سے 2014 تک عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔
ان چاروں ارکان اسمبلی کو کابینہ میں شامل کرنے اور ستیش شرما کو وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد اب وزیر اعلیٰ سمیت وزارتی کونسل کے ارکان کی مجموعی تعداد نو ہو گئی ہے، جو مقررہ زیادہ سے زیادہ حد ہے۔ عمر عبداللہ نے آزاد رکن اسمبلی ستیش شرما کو وزارتی کونسل سے ہٹا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جموں خطے کے میدانی علاقوں کو کابینہ میں کوئی نمائندگی حاصل نہیں رہی۔
ستیش شرما کے پاس خوراک، شہری رسد و امور صارفین، ٹرانسپورٹ، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی خدمات و کھیل اور اے آر آئی و تربیت جیسے محکموں کی ذمہ داری تھی۔
جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت کے قیام کے دو سال سے زیادہ عرصے بعد کابینہ میں یہ توسیع کی گئی ہے۔ آئینی دفعات کے مطابق، 90 رکنی اسمبلی والی ریاست جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ سمیت وزارتی کونسل کے ارکان کی زیادہ سے زیادہ تعداد نو ہو سکتی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ”کابینہ میں ردوبدل ایک بہت اچھا قدم ہے۔ ان لوگوں کو کام کرنے اور عوام کے مسائل کم کرنے کی کوشش کرنے کا موقع ملے گا۔”
تاہم، کابینہ میں توسیع کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کے بعض رہنماؤں میں ناراضگی بھی دیکھی گئی۔ پارٹی کے سینئر رہنما مبارک گل نے کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر عوامی طور پر مایوسی کا اظہار کیا۔
مسٹر گل نے سری نگر میں لوک بھون کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ”میں اب تک 30 حلف برداری کی تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں۔ ہر مرتبہ مجھے کابینہ سے باہر رکھا گیا اور آج بھی مجھے باہر ہی رکھا گیا ہے۔”
مبارک گل کے حامیوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں احتجاج بھی کیا۔ ان کی جانب سے ناراضگی ظاہر کیے جانے کے فوراً بعد نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں پارٹی کا نیا جنرل سکریٹری نامزد کر دیا۔
پارٹی کے ایک اور رکن اسمبلی عبدالحمید لَرمی نے بھی کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
سرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
سرینگر، سرینگر پولیس نے خان یار علاقے میں ایک مکان میں چوری کے الزام میں دو گھریلو ملازمین کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ان کے قبضے سے چوری کیے گئے سونے کے زیورات برآمد ہوئے ہیں، جن کی مالیت تقریباً 45 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
پولیس اسٹیشن خان یار کو 25 اکتوبر کو مسکین باغ، سرینگر کے رہنے والے بشارت حسین کی جانب سے شکایت موصول ہوئی تھی۔ شکایت میں انہوں نے اپنے مکان سے قیمتی سونے کے زیورات چوری ہونے کی اطلاع دی تھی۔
شکایت کی بنیاد پر پولیس نے خان یار پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 306 کے تحت ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ تفتیش، انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات اور تکنیکی نگرانی کی مدد سے پولیس ٹیموں نے دونوں ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا۔ ان کی شناخت 24 سالہ نکیتا داس اور 28 سالہ دیپ باروا کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق آسام کے ضلع موریگاؤں سے ہے۔
پولیس کے مطابق، تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دونوں ملزمان شکایت کنندہ کے گھر میں گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے تھے۔ الزام ہے کہ انہوں نے چوری کی واردات انجام دینے کے بعد وہاں سے فرار اختیار کر لی تھی۔
تفتیش کے دوران پولیس نے چوری کیے گئے زیورات بھی برآمد کر لیے، جن میں سونے کی 16 انگوٹھیاں، پانچ ہار، چار چوڑیاں، دو بروچ، تین ٹائی پن، سات لاکٹ اور کانوں کی نو جوڑیاں شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق، برآمد شدہ سونے کے زیورات کی مجموعی تخمینہ شدہ مالیت تقریباً 45 لاکھ روپے ہے۔
پولیس نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
کشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو سائبر دہشت گردی کے معاملے میں پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
سرینگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ میں درج سائبر دہشت گردی کے ایک معاملے میں گرفتار کشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو منگل کے روز پانچ دن کے لیے پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا گیا۔
راکیش ہندو کو 17 اکتوبر کو بارہمولہ پولیس کی ایک ٹیم نے ہریانہ کے فرید آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ ان کی گرفتاری بارہمولہ پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں عمل میں آئی۔
یہ ایف آئی آر 12 ستمبر کو روہت رائنا کی شکایت پر درج کی گئی تھی، جو وزیر اعظم کے بازآبادکاری پیکیج کے تحت ملازم ہیں اور بارہمولہ میں محکمہ مالیات میں تعینات ہیں۔ شکایت میں سوشل میڈیا کے ایک عوامی طور پر قابل رسائی اکاؤنٹ کے ذریعے مبینہ طور پر دھمکی آمیز خط پھیلائے جانے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
پولیس نے اس معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعات 66F اور 84C کے تحت کارروائی کی ہے۔
پولیس کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ایک عوامی اکاؤنٹ سے بار بار دھمکیوں سے متعلق الیکٹرانک مواد پھیلایا گیا۔ یہ مواد مبینہ طور پر ”سولجر آف ریزسٹنس” اور ”یونائیٹڈ لبریشن کونسل” نامی گروپوں سے منسوب تھا۔
تفتیشی حکام نے اس سے قبل راکیش ہندو کو تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے نوٹس جاری کیے تھے، لیکن الزام ہے کہ متعدد نوٹس کے باوجود وہ پیش نہیں ہوئے۔ اس کے بعد پولیس نے عدالت سے وارنٹ حاصل کیا اور ہریانہ میں انہیں گرفتار کر لیا۔
اگست میں بعض کشمیری پنڈت ملازمین کے ناموں اور رابطے کی تفصیلات پر مشتمل مبینہ دھمکی آمیز خطوط گردش کرنے کے بعد کشمیری پنڈت برادری میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
دھمکیوں اور اپنی سلامتی سے متعلق خدشات کے پیش نظر، وزیر اعظم کے خصوصی روزگار پیکیج کے تحت تعینات سیکڑوں کشمیری پنڈت ملازمین سے کہا گیا تھا کہ وہ تقریباً تین ہفتوں تک اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ثقافتی شعبے کی بحالی کے لیے محبوبہ مفتی کی امیت شاہ سے مداخلت کی اپیل
-
دنیا1 week ago“نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے: عراقچی
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
