تازہ ترین
قلم دوات جماعت ریاست کے جھنڈے کو نہیں بچا پائی، خصوصی پوزیشن کی کیا رکھوالی کریگی؟: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ خواجہ باغ میں الیکشن ریلی سے خطاب کے دوران بھاجپا اور پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں نے ملک اور ریاست میں تباہی اور بربادی مچادی ہے جس کا خمیازہ صرف عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ پچھلے 5سال کے دوران مرکز میں بھاجپا کی حکومت نے ملک کا بیڑا غرق کیا جبکہ یہاں ریاست میں پی ڈی پی کیساتھ مل کر تباہی اور بربادی مچادی، جس کا خمیازہ آج بھی یہاں کے لوگ بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ یوم پاکستان کے موقعے پر نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کے باہر پولیس اہلکار لوگوں کو باہر روک رہے تھے اور انہیں اندر نہ جانے کیلئے کہہ رہے تھے۔ یہ سب کچھ اُنہی لوگوں کی ایما پر ہورہا تھا جو چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے کے بجائے اور زیادہ بگڑ جائیں۔‘‘انہوں نے کہاکہ ’’جب دونوں ممالک کے درمیان رشتے بگڑجاتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ خمیازہ جموں وکشمیر کے لوگ بھگتے ہیں۔
جو لوگ ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر جنگ کی باتیں کرتے ہیں اُن کو خمیازہ نہیں بھگتنا پڑتا، اُن کے گھروں کے اوپر اُس ملک کے جہاز نہیں جاتے، وہ سرحد کے قریب نہیں رہتے، گولہ باری سے اُن کے گھر تباہ نہیں ہوتے، جب جنگ کی بات آتی ہے اُس کا اثر ہم پر پڑتا ہے،جبھی تو میں پوچھتا ہوں کہ جناب پچھلے 5سال میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہمارے ہائے وے اب ہمارے نہیں رہے، سرینگر سے بارہمولہ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ لگتا تھا آج مجھے 2گھنٹے لگے، جگہ جگہ ہائے وے بند کیا جاتا ہے، گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں۔ میں 6سال اس ریاست کا وزیر اعلیٰ رہا، مجھے اچھی طرح یاد ہے ، شروع شروع میں فوج کی گاڑی پر فوجی بندوق لیکر گاڑیاں روکنے کیلئے کھڑا ہوتھا، آہستہ آہستہ ہم نے حالات ٹھیک کئے،پھر بندوق کے بجائے اُن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوا کرتی تھیں اور وہ ڈنڈے دکھا کر گاڑیوں کو روکتے تھے، ہم نے یہ معاملہ بھی کور کمانڈر کیساتھ اُٹھایا اور کہاکہ ’’یہ ٹھیک نہیں لگتا آپ کے لوگ دوسری گاڑیوں پر ڈنڈے برساتے ہیں، اس سے لوگ ناراض ہوجاتے ہیں، لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے‘‘، اُن کے ہاتھوں سے پھر وہ ڈنڈے بھی لئے گئے، وہ پھر اشاروں سے گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کرتے تھے۔2014تک حالات اتنے سازگار ہوگئے تھے کہ دوسری گاڑیوں کو روکنے کیلئے فوج کی گاڑیوں پر فوجی ہوتا ہی نہیں تھا۔
آج 2019کا حال دیکھئے ہر جگہ بندوقیں لیکر گاڑیوں کو روکنے کیلئے فوج اور فورسز کے اہلکار ہوتے ہیں۔عام گاڑیوں کو فورسز کی گاڑیوں سے 50میٹر دور رکھا جاتا ہے، یہی حصولیابی ہے بھاجپا اور پی ڈی پی کی حکومت کی‘‘۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ میں حیران ہوتا ہوں جب محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ پی ڈی پی والے خصوصی پوزیشن کو بچائیں گے، ’’محبوبہ جی !گذشتہ4سال کے دوران آپ نے تو خصوصی پوزیشن کی دھجیاں اُڑا دیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’پی ڈی پی حکومت نے یہاں جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لایا ،ہم نے محبوبہ مفتی کو روکنے کی بہت کوشش کی ، ہم اس وقت کہا میڈم یہ جی ایس ٹی مت لگائے، اس سے اس ریاست کو نقصان ہوگا، نہ صرف مہنگائی بڑھے گی بلکہ دفعہ370کو بھی زک پہنچے گا، لیکن موصوفہ نے ایک نہیں مانی اور یہ مرکزی قانون یہاں لاکر ہی دم لیا‘‘۔ موبائل ریچارج کی مثال پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلے ہمیں 100روپے کے ریچارج پر برابر 100روپے ملتے ہیں کیونکہ یہاں موبائل پر کوئی ٹیکس نہیں تھا لیکن جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد یہاں 100روپے کے ریچارج پر 18روپے کٹتے ہیں، اُس میں سے 9 روپے مودی صاحب کی حکومت کی تجوری میں جاتے ہیں اور 9روپے گورنر انتظامیہ کی تجوری میں چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح باقی چیزوں پر بھی بے تحاشہ ٹیکس لگا اور مہنگائی بڑھی، ٹورسٹ ٹیکسیوں ، ہوٹلوں ، کھانے پینے کے سامان، ملبوسات، بچوں کی کتابوں، ہینڈی کرافٹس، قالینوں نیز ہر ایک چیز پر ٹیکس عائد کیا گیا۔عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ خصوصی پوزیشن کیا رکھوالی کریں گی؟ آپ تو ہمارے جھنڈے کو نہیں بچا پائے، آپ کی حکومت آتے ہی ایک حکمنامہ نکلا کہ ہر سرکاری ادارے پر ریاست کا جھنڈا ہونا چاہئے لیکن 2دن کے اندر اندر اُس آرڈر کو کالعدم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’میرے ساتھی بشارت بخاری نے بحیثیت وزیر قانون محبوبہ مفتی صاحبہ کو ایک فائل سونپی اور جس میں نقلی سٹیٹ سبجیکٹ کو منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی تھی، محبوبہ مفتی بتائیں کہ انہوں نے اُس فائل کا کیا کیا؟ محبوبہ جی اپنی حکومت اور اپنی جماعت کو بچانے کیلئے آپ نے یہ فائل غائب کردی کیونکہ آپ بھاجپا کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔آپ خصوصی پوزیشن کو بچاؤ گی؟‘‘۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے مزید کہا کہ کیا دوبارہ ہمیں 5سال کیلئے وہی حکومت چاہئے جو ہمارے جذبات کی ترجمانی نہ کرے، جو ہمارے جذبات کی رکھوالی نہ کرے، جو جموں وکشمیر کے مسئلے کی بات ہی نہ کرے،جو ہمیں ڈرائے اور دھمکائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے کتنے نوجوان مارے گئے، کتنے نوجوان ملی ٹنٹ بنے۔ گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ یہاں تک کہ نوکری پیشہ نوجوانوں نے مجبور ہوکر بندوق اُٹھائی،محبوبہ جی !جن نوجوانوں کو ہم روشنی کی کرن دکھانا چاہتے تھے اُن کو آپ نے قبروں میں لیٹا دیا، پچھلے 5سال کا حساب کتاب دیکھئے، ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ قلم دوات اور سیب کے نشان والے بھاجپا کے قریبی ہیں اور گذشتہ4سال میں ہوئی تباہی اور برداری میں برابر شریک ہیں،یہی لوگ آج طرح طرح لبا س اور مختلف رنگ اور روپ بدل کے آپ سے ووٹ مانگیں گے، کوئی مذہب کے نام پر، کوئی ذات کے نام پر ،کوئی برادری کے نام پے اور کوئی زبان کے نام پر ، ایسے لوگوں کو یکسر مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مذہب، ذات ، زبان اور برداری کے نام پر وو ٹ نہیں مانگتے، اُمیدوار کے نام پر ووٹ مانگے ہیں، جو سب سے بہترین اُمیدوار ہونگے۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ حالات کو سازگار بنانے اور سیاحت کو دوام بخشنے کیلئے ہماری سابق حکومت نے کام کیاتھا ، نئے نئے مقامات پر سیاحت کے نقشے پر لایا ، تعمیر و ترقی کو دور دورہ تھا لیکن اس سب پر پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے پانی پھیر دیا۔ ٹیئر گیس، پیلٹ گن، تباہی اور بربادی کے سوا ہم نے گذشتہ4سال میں کچھ نہیں دیکھا،آج یہ لوگ مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں، آج ان کو اچانک ہمدردی یاد آگئی ہیں ، ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ گذشتہ4سال میں ہم نے کس تباہی اور کن حالات کا سامنا کیا۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ کاکہنا تھا کہ کیا ہم اگلے 5سال کیلئے بھی یہی دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم دوبارہ 5سال کیلئے ان سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ اگلے 5سال بھی ریاست کے باہر کشمیریوں کو نشانہ بنایا جائے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے جو بیرونِ ریاست پڑھ رہے تھے بی جے پی اور آر ایس ایس کی بدولت ان کو ایک ایک کو وہاں سے بگھایا گیا، ہم نے 10دن انتظار کیا کہ کب وزیر اعظم صاحب ہمارے حق کی بات کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے ہمارے بچوں کو نہیں بچایا۔ پنجاب ،ہریانہ ، دلی اور دیگر ریاستوں میں ہمارے سردار بھائیوں نے ہمارے کشمیر کے بچوں کو بچایا،میں شکر گزار ہوں سکھ برادری کا ، جہاں بھی اُن کے گورودوارے اور ادارے تھے وہاں انہوں نے کشمیریوں کی حفاظت کی۔جو کام مودی کو کرنا تھا وہ ہمارے سردار بھائیوں نے کیا۔
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
تہران، صدرِایران مسعود پزیشکیان نے اپنے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات کا سرکاری ٹیلی ویژن پر جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں کی گئی بات چیت میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ‘معاہدہ شدہ نقشے کی بنیاد پر’ دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا، ‘موجودہ مذاکراتی عمل میں ہرمز کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس روڈ میپ کو ایران کے رہنما آیت اللہ مُجتَبٰی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قوتیں اور مذاکراتی ٹیم میں شامل ہمارے بھائیوں نے بھی اسے منظور کیا۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘اگر یہ راہداری اسی دائرہ کار کے تحت کھولا جائے تو امریکہ کو بھی اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو بحری محاصرے اور پابندیوں کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا اور اسرائیل پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان میں اپنے اقدامات روک دے۔
پزیشکیان نے کہا، ‘آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل اسلام آباد مفاہمت نامہ میں بیان کردہ اور مخالف فریقین کے قبول کردہ دائرہ کار کے مطابق ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔’
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا، ‘ہمیں اپنے محبوب اور شہید سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات کی بنیاد پر سفارتکاری کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہیے، اگرچہ ان تعلقات میں ہم آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘ایران کے زیادہ تر ہمسائے اسلامی ممالک ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ایک مشترکہ زبان تلاش کرنی چاہیے، اور خطے کی سلامتی کو مل کر یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بات چیت اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔ ہم پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے زمین تیار ہے، ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
