تازہ ترین
قلم دوات جماعت ریاست کے جھنڈے کو نہیں بچا پائی، خصوصی پوزیشن کی کیا رکھوالی کریگی؟: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ خواجہ باغ میں الیکشن ریلی سے خطاب کے دوران بھاجپا اور پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں نے ملک اور ریاست میں تباہی اور بربادی مچادی ہے جس کا خمیازہ صرف عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ پچھلے 5سال کے دوران مرکز میں بھاجپا کی حکومت نے ملک کا بیڑا غرق کیا جبکہ یہاں ریاست میں پی ڈی پی کیساتھ مل کر تباہی اور بربادی مچادی، جس کا خمیازہ آج بھی یہاں کے لوگ بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ یوم پاکستان کے موقعے پر نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کے باہر پولیس اہلکار لوگوں کو باہر روک رہے تھے اور انہیں اندر نہ جانے کیلئے کہہ رہے تھے۔ یہ سب کچھ اُنہی لوگوں کی ایما پر ہورہا تھا جو چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے کے بجائے اور زیادہ بگڑ جائیں۔‘‘انہوں نے کہاکہ ’’جب دونوں ممالک کے درمیان رشتے بگڑجاتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ خمیازہ جموں وکشمیر کے لوگ بھگتے ہیں۔
جو لوگ ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر جنگ کی باتیں کرتے ہیں اُن کو خمیازہ نہیں بھگتنا پڑتا، اُن کے گھروں کے اوپر اُس ملک کے جہاز نہیں جاتے، وہ سرحد کے قریب نہیں رہتے، گولہ باری سے اُن کے گھر تباہ نہیں ہوتے، جب جنگ کی بات آتی ہے اُس کا اثر ہم پر پڑتا ہے،جبھی تو میں پوچھتا ہوں کہ جناب پچھلے 5سال میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہمارے ہائے وے اب ہمارے نہیں رہے، سرینگر سے بارہمولہ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ لگتا تھا آج مجھے 2گھنٹے لگے، جگہ جگہ ہائے وے بند کیا جاتا ہے، گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں۔ میں 6سال اس ریاست کا وزیر اعلیٰ رہا، مجھے اچھی طرح یاد ہے ، شروع شروع میں فوج کی گاڑی پر فوجی بندوق لیکر گاڑیاں روکنے کیلئے کھڑا ہوتھا، آہستہ آہستہ ہم نے حالات ٹھیک کئے،پھر بندوق کے بجائے اُن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوا کرتی تھیں اور وہ ڈنڈے دکھا کر گاڑیوں کو روکتے تھے، ہم نے یہ معاملہ بھی کور کمانڈر کیساتھ اُٹھایا اور کہاکہ ’’یہ ٹھیک نہیں لگتا آپ کے لوگ دوسری گاڑیوں پر ڈنڈے برساتے ہیں، اس سے لوگ ناراض ہوجاتے ہیں، لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے‘‘، اُن کے ہاتھوں سے پھر وہ ڈنڈے بھی لئے گئے، وہ پھر اشاروں سے گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کرتے تھے۔2014تک حالات اتنے سازگار ہوگئے تھے کہ دوسری گاڑیوں کو روکنے کیلئے فوج کی گاڑیوں پر فوجی ہوتا ہی نہیں تھا۔
آج 2019کا حال دیکھئے ہر جگہ بندوقیں لیکر گاڑیوں کو روکنے کیلئے فوج اور فورسز کے اہلکار ہوتے ہیں۔عام گاڑیوں کو فورسز کی گاڑیوں سے 50میٹر دور رکھا جاتا ہے، یہی حصولیابی ہے بھاجپا اور پی ڈی پی کی حکومت کی‘‘۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ میں حیران ہوتا ہوں جب محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ پی ڈی پی والے خصوصی پوزیشن کو بچائیں گے، ’’محبوبہ جی !گذشتہ4سال کے دوران آپ نے تو خصوصی پوزیشن کی دھجیاں اُڑا دیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’پی ڈی پی حکومت نے یہاں جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لایا ،ہم نے محبوبہ مفتی کو روکنے کی بہت کوشش کی ، ہم اس وقت کہا میڈم یہ جی ایس ٹی مت لگائے، اس سے اس ریاست کو نقصان ہوگا، نہ صرف مہنگائی بڑھے گی بلکہ دفعہ370کو بھی زک پہنچے گا، لیکن موصوفہ نے ایک نہیں مانی اور یہ مرکزی قانون یہاں لاکر ہی دم لیا‘‘۔ موبائل ریچارج کی مثال پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلے ہمیں 100روپے کے ریچارج پر برابر 100روپے ملتے ہیں کیونکہ یہاں موبائل پر کوئی ٹیکس نہیں تھا لیکن جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد یہاں 100روپے کے ریچارج پر 18روپے کٹتے ہیں، اُس میں سے 9 روپے مودی صاحب کی حکومت کی تجوری میں جاتے ہیں اور 9روپے گورنر انتظامیہ کی تجوری میں چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح باقی چیزوں پر بھی بے تحاشہ ٹیکس لگا اور مہنگائی بڑھی، ٹورسٹ ٹیکسیوں ، ہوٹلوں ، کھانے پینے کے سامان، ملبوسات، بچوں کی کتابوں، ہینڈی کرافٹس، قالینوں نیز ہر ایک چیز پر ٹیکس عائد کیا گیا۔عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ خصوصی پوزیشن کیا رکھوالی کریں گی؟ آپ تو ہمارے جھنڈے کو نہیں بچا پائے، آپ کی حکومت آتے ہی ایک حکمنامہ نکلا کہ ہر سرکاری ادارے پر ریاست کا جھنڈا ہونا چاہئے لیکن 2دن کے اندر اندر اُس آرڈر کو کالعدم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’میرے ساتھی بشارت بخاری نے بحیثیت وزیر قانون محبوبہ مفتی صاحبہ کو ایک فائل سونپی اور جس میں نقلی سٹیٹ سبجیکٹ کو منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی تھی، محبوبہ مفتی بتائیں کہ انہوں نے اُس فائل کا کیا کیا؟ محبوبہ جی اپنی حکومت اور اپنی جماعت کو بچانے کیلئے آپ نے یہ فائل غائب کردی کیونکہ آپ بھاجپا کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔آپ خصوصی پوزیشن کو بچاؤ گی؟‘‘۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے مزید کہا کہ کیا دوبارہ ہمیں 5سال کیلئے وہی حکومت چاہئے جو ہمارے جذبات کی ترجمانی نہ کرے، جو ہمارے جذبات کی رکھوالی نہ کرے، جو جموں وکشمیر کے مسئلے کی بات ہی نہ کرے،جو ہمیں ڈرائے اور دھمکائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے کتنے نوجوان مارے گئے، کتنے نوجوان ملی ٹنٹ بنے۔ گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ یہاں تک کہ نوکری پیشہ نوجوانوں نے مجبور ہوکر بندوق اُٹھائی،محبوبہ جی !جن نوجوانوں کو ہم روشنی کی کرن دکھانا چاہتے تھے اُن کو آپ نے قبروں میں لیٹا دیا، پچھلے 5سال کا حساب کتاب دیکھئے، ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ قلم دوات اور سیب کے نشان والے بھاجپا کے قریبی ہیں اور گذشتہ4سال میں ہوئی تباہی اور برداری میں برابر شریک ہیں،یہی لوگ آج طرح طرح لبا س اور مختلف رنگ اور روپ بدل کے آپ سے ووٹ مانگیں گے، کوئی مذہب کے نام پر، کوئی ذات کے نام پر ،کوئی برادری کے نام پے اور کوئی زبان کے نام پر ، ایسے لوگوں کو یکسر مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مذہب، ذات ، زبان اور برداری کے نام پر وو ٹ نہیں مانگتے، اُمیدوار کے نام پر ووٹ مانگے ہیں، جو سب سے بہترین اُمیدوار ہونگے۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ حالات کو سازگار بنانے اور سیاحت کو دوام بخشنے کیلئے ہماری سابق حکومت نے کام کیاتھا ، نئے نئے مقامات پر سیاحت کے نقشے پر لایا ، تعمیر و ترقی کو دور دورہ تھا لیکن اس سب پر پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے پانی پھیر دیا۔ ٹیئر گیس، پیلٹ گن، تباہی اور بربادی کے سوا ہم نے گذشتہ4سال میں کچھ نہیں دیکھا،آج یہ لوگ مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں، آج ان کو اچانک ہمدردی یاد آگئی ہیں ، ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ گذشتہ4سال میں ہم نے کس تباہی اور کن حالات کا سامنا کیا۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ کاکہنا تھا کہ کیا ہم اگلے 5سال کیلئے بھی یہی دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم دوبارہ 5سال کیلئے ان سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ اگلے 5سال بھی ریاست کے باہر کشمیریوں کو نشانہ بنایا جائے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے جو بیرونِ ریاست پڑھ رہے تھے بی جے پی اور آر ایس ایس کی بدولت ان کو ایک ایک کو وہاں سے بگھایا گیا، ہم نے 10دن انتظار کیا کہ کب وزیر اعظم صاحب ہمارے حق کی بات کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے ہمارے بچوں کو نہیں بچایا۔ پنجاب ،ہریانہ ، دلی اور دیگر ریاستوں میں ہمارے سردار بھائیوں نے ہمارے کشمیر کے بچوں کو بچایا،میں شکر گزار ہوں سکھ برادری کا ، جہاں بھی اُن کے گورودوارے اور ادارے تھے وہاں انہوں نے کشمیریوں کی حفاظت کی۔جو کام مودی کو کرنا تھا وہ ہمارے سردار بھائیوں نے کیا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
