تازہ ترین
جانئے : وزیراعظم مودی کی حلف برداری میں کون ہوسکتا ہے شامل
خبراردو: وزیراعظم عہدہ کے لئے 30 مئی کو ہونے والی حلف برداری تقریب کی تیاریاں تیزہونے لگی ہیں۔ ایک ایک کرکے ان مہمانوں کی فہرست بھی باہرآرہی ہے، جونریندرمودی کی حلف برداری تقریب میں شامل ہوسکتے ہیں۔ خبریہ ہےکہ حلف برداری تقریب شاندارہوگی اوراس میں اپوزیشن کے سینئر لیڈران کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
مہمانوں کی فہرست میں فی الحال تین نام سامنے آچکے ہیں۔ جنوب کےمشہورادا کاراورحال ہی میں سیاست میں قدم رکھ چکے کمل ہاسن کو بھی نریندرمودی کی حلف برداری تقریب میں آنے کی دعوت ملی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس بارکمل ہاسن کی پارٹی نے لوک سبھا الیکشن میں قسمت آزمائی کی تھی، لیکن ان کا کوئی امیدوارنہیں جیت سکا۔
نریندرمودی کی حلف برداری تقریب میں آندھرا پردیش کے ہونے والے وزیراعلیٰ اورتلنگانہ کےموجودہ وزیراعلیٰ شامل ہوسکتے ہیں۔ یعنی کہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی ٹی آرایس کے سربراہ چندرشیکھرراواوروائی ایس آرکانگریس کے سربراہ جگن موہن ریڈی وزیراعظم نریندرمودی کی حلف برداری تقریب میں شامل ہوں گے۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی بھی 30 مئی کودوپہرکوآندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ کے طورپرحلف لیں گے۔
جنوب کے مشہوراداکار کمل ہاسن نریندرمودی کی حلف برداری تقریب میں شرکت کرسکتے ہیں۔ جنوب کے مشہوراداکار کمل ہاسن نریندرمودی کی حلف برداری تقریب میں شرکت کرسکتے ہیں۔
وزارت خارجہ کی طرف سے بمسٹیک ممالک کے لیڈروں کوحلف برداری تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔ بمسٹیک ممالک میں بنگلہ دیش، میمانمار، سری لنکا، تھائی لینڈ، نیپال اوربھوٹان شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ وزارت خارجہ کی طرف سے ماریشس کے وزیراعظم کوبھی تقریب میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ سرکاری ترجمان نےآج یہاں بتایا کہ حکومت نے ‘پڑوسی پہلے’ کی اپنی پالیسی کونظرمیں رکھتے ہوئے بمسٹیک ممالک کے لیڈروں کو وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کےلئے مدعوکیا ہے۔
شام 7 بجے لیں گے وزیراعظم عہدے کا حلف
راشٹرپتی بھون کی طرف سے جاری پریس ریلیزکے مطابق ‘صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند 30 مئی کو شام 7 بجے راشٹرپتی بھون میں وزیراعظم اورقانون کونسل کوعہدے اور رازداری کا حلف دلائیں گے’۔ بتادیں کہ صدرجمہوریہ نے ہفتہ کو بی جے پی اوراین ڈی اے قانون سازکونسل کےلیڈرنریندرمودی کو وزیراعظم عہدے کا امیدوارنامزد کرتے ہوئے مرکز میں نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا۔
#جگن موہن ریڈی#حلف برداری کی تقریب
دنیا
یمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
صنعا، یمنی فوج نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے خلاف جاری بڑے فوجی حملے کے دوران اہم بحری گزرگاہ باب المندب کے قریب ذباب علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یمنی فوجی حکام اور علاقائی ذرائع نے یہ اطلاع دی۔
یمن کے صدر اور صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے اتوار کو ’’ڈان آف یمن‘‘ کے نام سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد حوثیوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا اور ریاستی اداروں کی بحالی ہے۔
صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد ریاستی اداروں کو بحال کرنا، صنعا کو آزاد کرانا اور بغاوت کا خاتمہ کرنا ہے۔
العلیمی نے پیر کو کہا، ’’اپنی قوم کی قوت ارادی، اپنی فوج کی بہادری اور اپنے بھائیوں کی حمایت سے یمن ایک نئی صبح کی جانب بڑھے گا۔‘‘سرکاری فوج ذباب کی جانب کہبُوب کے پہاڑی علاقے سے فوجی نقل و حرکت کے ذریعے پیش قدمی کر رہی ہے۔
سرکاری فوجی دستے مغربی ساحل کے ساتھ شمال کی جانب المخا کی طرف بھی پیش قدمی کر رہے ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق باب المندب اور میون جزیرے کے اطراف حوثی فورسز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ تازہ حملے ملک کی سیاسی قیادت کی ہدایات پر کیے گئے۔
الجزیرہ کے مطابق یمنی مسلح افواج نے حوثیوں کے قبضے سے ریاستی اداروں کو واپس لینے اور ان کی بغاوت ختم کرنے کے لیے ’’آزادی کی جنگ‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
النزیلی نے کہا، ’’ہماری مسلح افواج منظور شدہ منصوبوں کے مطابق مختلف جنگی محوروں اور محاذوں پر اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری مسلح افواج نے صعدہ، الجوف اور تعز میں حوثی ملیشیا کے بنیادی ڈھانچے کے 1,122 اہداف کو نشانہ بنایا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میدانی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں ملیشیا کے 1,747 عناصر کو غیر مؤثر بنایا گیا جبکہ 364 فوجی گاڑیوں، سازوسامان اور رسد کی نقل و حمل کے یونٹس کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔‘‘
اس فوجی حملے کے باعث تعز میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تعز ایک اہم صوبہ ہے جو یمن کے حوثیوں کے زیر قبضہ شمالی علاقوں کو جنوب میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے ملاتا ہے۔
اس خطے میں بندرگاہی شہر المخا بھی واقع ہے اور یہ باب المندب کے قریب ہے، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
العلیمی نے اتوار کو فوجی مہم کا اعلان کرتے ہوئے اسے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی حکومتی کوششوں کا نیا مرحلہ قرار دیا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی اصلاحات کے اگلے مرحلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں ٹیکس کے نظام کو مزید سادہ بنائیں گی اور ٹیکس کی ذمہ داریوں کا پہلے سے اندازہ لگانا آسان ہو جائے گا۔
جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ 7 اکتوبر کو ہونے جا رہی ہے جس میں اس بالواسطہ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کے اگلے دور پر بات چیت کی امید ہے۔
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی وزیر نرملا سیتارمن کے ‘ایکس’ کے ایک پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا، “اگلی نسل کا جی ایس ٹی نظام ٹیکسیشن کو مزید سادہ بنائے گا اور اس کے بارے میں اندازہ لگانا آسان ہوگا۔ اس سے تعمیل آسان ہوگی، ریفنڈ کے طریقہ کار میں بہتری آئے گی اور تاجروں کو سرمایہ کاری نیز توسیع کے لیے زیادہ اعتماد ملے گا۔ حکومت ان اصلاحات کو ‘وکسِت بھارت’ کے ہدف سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ اصلاحات سے تجارتی اداروں اور خاندانوں کو مدد مل رہی ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ یہ اصلاحات معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے، ریونیو کو مضبوط کرنے اور ملک بھر کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کے اگلے مرحلے میں تعمیل کو آسان بنانے اور ریفنڈ کے عمل کو بہتر کرنے پر توجہ دی جائے گی، جس سے تاجروں کو سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے مزید اعتماد ملے گا۔ اس سے ترقی یافتہ ہندستان کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔ رجسٹریشن سے لے کر ریفنڈ تک اس کی تعمیل آسان ہوگی۔
وزیر خزانہ محترمہ سیتارمن نے اپنے پوسٹ میں کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کا اگلا مرحلہ پہلے سے کی گئی تبدیلیوں کو آگے بڑھائے گا اور ٹیکس کے نظام کو ٹیکس دہندگان کے لیے مزید سازگار بنانے پر مرکوز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگلی نسل کے جی ایس ٹی کے دوہرے مقاصد—ٹیکس دہندگان کو راحت اور معیشت کو مزید رفتار—کو پورا کیا جا رہا ہے۔ اگلے مرحلے میں رجسٹریشن، ریٹرن فائل کرنے، ریفنڈ، تنازعات کے حل اور ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) سے جڑی تعمیل کو سادہ بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔
حکومت کی توجہ اب صرف جی ایس ٹی کی شرحوں کو مناسب بنانے سے آگے بڑھ کر ٹیکس انتظامیہ سے جڑے طریقہ کار کو بہتر کرنے پر ہے۔ اس کا مقصد تاجروں اور ٹیکس دہندگان کے لیے تعمیل میں لگنے والے وقت اور لاگت کو کم کرنا نیز ٹیکس کے نظام کو مزید قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ حکومت نے گزشتہ سال جی ایس ٹی نظام میں بڑی تبدیلیاں کی تھیں۔ جی ایس ٹی کونسل کے 56 ویں اجلاس کے فیصلوں کے تحت 22 ستمبر 2025 کو جی ایس ٹی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں نافذ کی گئیں اور زیادہ تر مصنوعات کو 5 فیصد اور 18 فیصد ٹیکس کے تحت لادیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی 28 فیصد کا معاوضہ سیس بھی ختم کر دیا گیا۔
جی ایس ٹی کی شروعات یکم جولائی 2017 کو ہوئی تھی۔ اس کے تحت مرکز اور ریاستوں کے متعدد بالواسطہ ٹیکسوں کو ایک مربوط نظام میں لایا گیا اور ملک میں ایک مشترکہ قومی مارکیٹ تیار کی گئی۔ اس کے بعد سے جی ایس ٹی کی شرحوں، طریقہ کار اور تکنیکی نظام میں کئی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 2017 میں تقریباً 66.5 لاکھ تھی، جو مئی 2026 تک بڑھ کر 1.65 کروڑ ہو گئی۔
جی ایس ٹی میں اصلاحات پر غور کے لیے جی ایس ٹی کونسل کی قانون سے متعلق کمیٹی نے جی ایس ٹی قوانین کے تحت مجرمانہ زمرے میں رکھے گئے افعال کو غیر مجرمانہ بنانے اور نفاذ سے جڑے التزامات میں تبدیلی کی تجاویز پر غور کیا ہے۔ کونسل کے اس آئندہ اجلاس میں اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ اس میں سنٹرل گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (سی جی ایس ٹی) ایکٹ کی دفعہ 69 کے تحت دستیاب گرفتاری کے آزادانہ اختیار کو ہٹانے کا امکان بھی شامل ہے۔
فی الحال دفعہ 69 کے تحت کمشنر کو ایسے شخص کو گرفتار کرنے کی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے، جس کے بارے میں یہ ماننے کی ٹھوس وجہ ہو کہ اس نے سی جی ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ 132 کے تحت متعین جرم کیا ہے۔ فرضی انوائس، فرضی طریقے سے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کرنے یا اس کا غلط استعمال کرنے جیسے سنگین معاملات میں اس التزام کا استعمال کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
سری نگر، 5 اکتوبر (یو این آئی) جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں پولیس نے مقررہ ضوابط کی پابندی یقینی بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مختلف کاروباری اداروں میں جانچ اور معائنہ مہم چلائی۔
پولیس نے بتایا کہ یہ جانچ اور معائنہ بارہمولہ تھانہ اور وسن پولیس چوکی کے دائرہ اختیار میں کیا گیا۔
بارہمولہ تھانے کی پولیس نے موبائل فون کی دکانوں، سم فروخت کرنے والوں اور جراثیم کش ادویات کے ڈیلروں کا معائنہ کیا، جبکہ وسن پولیس چوکی کی جانب سے موبائل مرمت کی دکانوں اور موبائل فون فروخت کرنے والوں کی جانچ کی گئی۔
معائنے کے دوران دکانداروں اور فروخت کنندگان کو ہدایت دی گئی کہ وہ ضابطوں کے مطابق تمام لازمی ریکارڈ اور رجسٹر برقرار رکھیں، جن میں صارفین اور آلات سے متعلق مکمل تفصیلات بھی شامل ہیں۔
پولیس نے اداروں سے مشتبہ لین دین اور سرگرمیوں کے خلاف بیدار رہنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے بھی کہا، تاکہ موبائل فون، سم خدمات اور جراثیم کش ادویات کے غیر قانونی مقاصد کے لیے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
پولیس نے بتایا کہ ضابطوں کی پابندی کو مضبوط بنانے اور تجارتی خدمات و مصنوعات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضلع بھر میں اس طرح کی جانچ اور معائنہ مہم جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا6 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا6 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا6 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا5 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
جموں و کشمیر1 week agoابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
