تازہ ترین
انتخابات 2019 کے نتائج: کیمیائی حقائق شمار آرائی پر فاتح: مودی
خبراردو: منتخب وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ریاضی نے علم کیمیاء (کیمسٹری) کو شکست دیکر لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو بھر پور فتح دیدی۔مودی نے مزید کہا کہ چنائو میں پارٹی کو سیاسی چھوت چھات اور سیاسی تشدد کے خطرات بھی پیش آئے۔
وارانسی مندر میں اپنے حلقہ انتخاب کے پہلے دورہ کے دوران انہوں نے اس خیال کو مسترد کیا کہ بے جے پی صرف ہندی بولنے والوں کی جماعت ہے۔خود کو خدمتگار قرار دیتے ہوے مودی نے کاشی وشواناتھ مندر میں عبادت کی اور اسکے بعد ایک روڑ شو میں حصہ لیا۔لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مودی نے کہا’’ سیاسی پنڈت اس بات سے واقف نہیں کہ انکے خیالات 20ویں صدی کیلئے ہیں، جو نتائج سامنے آئے وہ ریاضی کے اعدادوشمار سے بہت پرے ہیں،یہاں علم کیمیاء تھا،اور ابکی بار علم کیمیاء نے ریاضی کو مات دیدی۔مودی نے کہا کہ 2014،2017اور 2019میں اترپردیش سمیت ہیٹ ٹرک بھاجپا کیلئے کوی بڑی کامیابی نہیں ہے۔انہوں نے کہا’ ملک کیلئے میں وزیر اعظم ہوں، لیکن لوگوں کیلئے خدمتگار‘‘۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے ملک بھر میں واضح منڈیٹ حاصل کیا لیکن ابھی بھی سیاسی ماہرین بھاجپا کو ہندی بولنے والے علاقوں کی جماعت کی تصور کررہے ہیں۔
انہوں نے بھاجپا کارکنوں کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں بھاجپا کی ووٹوں کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ہماری حکومت آسام میں ہے لداخ میں ہم منتخب ہوتے ہیں اور تب بھی سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ ہماری جماعت ہندی بولنے والے علاقوں کی پارٹی ہے ۔یہ غلط فہمی ہے جو پیداکی گئی ہے ۔اس بات کااعتراف کرتے ہوئے کہ سیاست شعوراورادراک سے تعلق رکھتی ہے ،مودی نے افسوس کیا کہ ان کی پارٹی سے متعلق جھوٹ اورغلط تاویلات سے ایک غلط تاثر پیداکیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس غلط فہمی کی وجہ سے لوگ ہمارے ساتھ کھڑاپونے کو پسند نہیں کرتے ،لیکن جنہوں نے یہ غلط تاثر پیداکیاہے انہیں شفافیت اور سخت محنت سے شکست دی جاسکتی ہے ۔
یہی حکمت عملی ہونی چاہیے ۔انہوں نے سیاسی تشددسے بھاجپا کیلئے خطرات پر بھی بات کی ۔انہوں نے کہا کشمیر،کیرالہ،بنگال یا تری پورہ کا معاملہ لیجئے یہ میڈیامیں نہیں آئے گا۔سینکڑوں کارکنوں کو سیاسی خیالات کی وجہ سے ہلاک کیا گیا ۔تری پورہ میں ورکروں کو پھانسی دی گئی ۔بنگال میں ابھی بھی قتل ہورہے ہیں ،کیرالہ میں بھی ۔شاید بھارت میں ایک ہی سیاسی پارٹی نے ایسی ہلاکتوں کاسامنا کیا ہے ۔تشددکو جوازدیا گیا ہے ۔یہ ہمارے لئے خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا ’’بابا رائو بھیم رائو امبید کر اور مہاتما گاندھی نے چھوٹ چھات کو ترک کیا،تاہم بدقسمتی سے سیاسی چھوت چھات میں اضافہ ہو رہا ہے،اور بھاجپا وکروں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔
مود ی نے کہا اس کے بیچ بی جے پی کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس دیا،تاہم انکی جماعت ووٹ بنک سیاست کے دبائو میں نہیں آئی،جس نے جمہوریت کو ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان مخالفین کا بھی شکر گزار ہے،جو انکے خلاف لڑے۔ جمہوریت میں مخالفت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم ہندنے کہا’’جب دوسرے لوگ اقتدار میں آتے ہیں،اس وقت مخالف کی کوئی بھی علامت نہیں ہوتی۔‘‘
انہوں نے تری پورہ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا،جہاں دہائیوں تک دائیں بازوں کے اقتدار کی کوئی بھی اپوزیشن نہیں تھی،تاہم’’وہاں ہم حکومت میں ہیں اور وہاں جاندار اور شاندار اپوزیشن ہے،اور یہی جمہوریت کی روح ہے۔ مودی نے کہا کہ سرکار پالیسیاں مرتب کرتی ہے،اور جماعتیں حکمت عملی،جبکہ پالیسیوں اور حکمت عملی،جماعت اور سرکار کا آئینہ ہوتی ہیں،اور اس سے ملک کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
