تازہ ترین
پھر ایک بار مودی سرکار
مشتاق شمیم 
23 ۔مئی 2019ءکو ہندوستان کی تاریخ میں ایک ایسا نیا باب رقم ہوگیا جو اپنے آپ میں کسی تاریخی واقع سے کم ترنہیں ہے۔جی ہاں دوستو ۔سترہ ویں لوک سبھا منتخب کرانے کی غرض سے ہندوستان کی 29 ۔ریاستوں اور سات مرکزی زیر قیادت والے علاقوں میں جو لوک سبھا انتخابات لگ بھگ دو ماہ تک جاری رہنے کے بعد مکمل ہوگئے اُن کے نتائج 23 ۔مئی کو سامنے آگئے۔ا ن پارلیمانی انتخابات میںامید کے برعکس این ڈی اے خاص طور سے بی جے پی نے 2014ءمیں منعقدہوئے عام چناﺅ کی طرح دھوم مچادی۔ کانگریس کو بھاجپا نے اب کی بار ایک بار پھر ایسا سبق سکھلادیاکہ اس پارٹی کا دوبارہ سنبھلنا اب مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آرہا ہے۔کل 542۔ نشستوں میں سے ایک اکیلی بی جے پی نے اس بار 303۔ حلقوں پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گارڈ دئے۔ساٹھ سال تک ہندوستان پر راج تاج کرنے والی کانگریس پارٹی ساٹھ کا نشانہ بھی پار نہ کرسکی ۔یہ پارٹی بڑی مشکل سے52 ۔نشستیں ہی اپنے کھاتے میں جمع کرنے میں کامیاب ہوسکی ۔نہ صرف کانگریس بلکہ ملک کی دوسری بڑی بڑی قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں جن میں ایس پی ،بی ایس پی،ترنمول کانگریس ،راشٹریہ جنتا دل،ڈی ایم کے،انا ڈی ایم کے ، نیشلسٹ کانگریس ،عام آدمی پارٹی اور بائیں بازو کی دونوں کمیونسٹ پارٹیاں شامل ہیں کو بھی بھاجپا نے اب کی بار دھول چٹانے پر مجبور کردیا۔کانگریس سمیت بعض دوسری پارٹیوں سے وابسطہ کئی قد آور سیاسی رہنماءاپنے سیاسی کیرئیرمیں ایک لمبی سیاسی باری کھیلنے کے باوجود مودی منتر کے سامنے اُسی طرح سے ٹک نہیں پائے جس طرح سے شبنم کے قطرے سورج کی کرنوںکے سامنے ٹک نہیں پاتے ہیں ۔ اس جمہوری جنگ میں کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی بھی اپنی وراثتی نشست( امیٹھی )ایک خاتون امیدوار سمرتی ایرانی کے مقابلے میں ہار بیٹھے۔حالانکہ کانگریس نے الیکشن ھٰذا میںبھاجپاکو مودی سرکارکی ناکامیوں اور کمزوریوں کا مزہ چکھانے کیلئے آنجہانی اندراگاندھی کی پوتی اور ہمشکل پرینکا واڈرا کو بھی میدان کارزار میںبڑی امید کے ساتھ اُتار دیا تھالیکن مودی نامی سونامی کو آگے بڑھنے سے روکنے میں پرینکا ہی نہیںبلکہ مہا گٹھ بندھن میں شامل بڑے بڑے سیاسی چہرے بھی ناکام رہے۔آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ 2014ءکے عام انتخابات میں بی جے پی نے 282۔ سیٹیں جبکہ کانگریس نے کل ۴۴ ۔نشستیں حاصل کی تھیں۔ اب کی بارمختلف ریاستوں سے ۷۲۔ مسلمان امیدوار بھی اپنی جیت کو ممکن بنانے میں کامیاب ہوگئے جن میں اسد الدین اویسی کا نام قابل ذکر ہے۔ ۰۳ مئی کونریندر بھائی مودی کی سربراہی میں نئی این ڈے اے سرکار حلف لینے والی ہے۔بھاجپا صدر امت شاہ جنہوں نے بی جے پی کی شاندار کامیابی کو یقینی بنانے میں سب سے اہم رول ادا کیا مودی کے نئے منتری منڈل میں وزیر داخلہ کا قلم دان سنبھال رہے ہیں۔
بہر حال یہاں پر یہ دیکھنے کی خواہش سب دیش واسی محسوس کر رہے ہوں گے کہ آیا آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ ہندوستان کی غالب آبادی نے دوسری مرتبہ بھی کانگریس کے بجائے بھاجپا اور راہل کے بجائے مودی پر اپنا اعتماد اوربھروسہ ظاہر کرنے میں اپنی دلچسپی کااظہار کیا۔حالانکہ جب سابقہ مودی سرکارکا باریک بینی سے جائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو راقم کو یہ بتانے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ ظاہری صورت میں یہ سرکار عوام کی امیدوں پر کھرا اُترنے میں بالکل ناکام ہوکے رہ گئی تھی۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سابقہ مودی سرکارکے دوران اشیاءضروریہ خاص طور سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھوگئیں۔نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے اطلاق نے یہاں عام و خاص کی کمر توڑ کے رکھ دی ۔بے روزگاری اور بےکاری کے گراف میں سرکار ھٰذا کے دوران ملک میںلگ بھگ تیس فیصد اضافہ ریکارڈ درج کیا گیا۔اس دوران یہاں پربُلیٹ ٹرین چلی نہ ہی یہاں پر میک ان انڈیا اور جن دھن جیسی بڑی بڑی اسکیمیں غریب عوام کو خط افلاس سے اوپر لا سکیں۔ کسانوں اور مزدورپیشہ افراد کا کوئی بھلا ہوپایا نہ پبلک و پرائیویٹ سیکٹر اداروں میںکام کرنے والے ملازم حضرات کو کوئی فائدہ ملا۔ایودھیا میں رام مندر تعمیر ہوا نہ ہی ریاست جموں کشمیر کودفعات 370 اور 35 ۔اے کے تحت حاصل شدہ خصوصی اختیارات کا خاتمہ کیا جاسکا۔جھگی جھونپڑیوں میں بسیرا کرنے والوں کو چھت ملا نہ ہی بھوکے پیاسے ہندوستانیوں کیلئے روٹی روزی کا انتظام ہوسکا۔ زمینداروں کا قرضہ معاف ہوسکا نہ ہی قرضے کی وجہ سے خود کشی کرنے کے واقعات میں کوئی کمی آئی۔ غیر ملکی بینکوں میں چھپایا گیا کالا دھن واپس لایاجاسکا نہ ہی ملک کے بینکوں کو اربوں کھربوں روپیوںکا چونا لگانے والوں کو قانون کے شکنجے میں لایا جاسکا۔رشوت خوری کا دھندہ بند ہوسکا نہ چھوٹے بڑے گٹا لوں پر قدگن لگائی جاسکی۔ ملک کی اقتصادی حالت میں سدھار ہوا نہ ہی تعمیر وترقی کے میدان میں کوئی قابل دید انقلاب آیا۔ دو کروڑ بے روزگاروں کو روزگار دیا گیا نہ غریب عوام کے بینک کھاتوں میںدو دو لاکھ روپئے جمع کئے گئے۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس زمینی سطح پر کہیں نظر آیا نہ ہی اچھے د ن لانے کا خواب مودی پانچ سال میںپورا کرسکا۔ ا لٹا مودی سرکار کے دوران ملک کے کونے کونے میں فرقہ ورانہ فسادات رونما ءہوتے رہے ۔مذہبی سطور پر ملک کوتقسیم کرنے کی کوششیں بام عروج پر پہنچ گئیں۔اقلیتی فرقہ جات سے وابسطہ مسلمانوں سکھوں عیسائیوں اور دلتوں کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں قتل کیا جاتا رہا۔مذہبی عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا۔ اسلامی ناموں سے منسوب بعض تاریخی شہروں شاہراﺅں بازاروں ریلوے اسٹیشنوں ہوائی اڈوں یہاں تک کہ عالمی شہرت یافتہ عمارات کے نام بدل دینے کی کامیاب مہم چھیڑدی گئی۔ کشمیر تنازعے کا کوئی حل نکالا گیا نہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کئے گئے۔ اس دوران ہندوستان کے امبانی جیسے امیر لوگ امیر ترین بنتے گئے اور غریب لوگ افلاس کے دلدل میں اور زیادہ نیچے دستے رہے۔
جہاں تک میری سوچ کا تعلق ہے مجھے لگ رہا ہے کہ عوام نے اب کی بار مودی کی کارکردگی کو نہیں بلکہ اُن کی مہان شخصیت کو ووٹ دیا ہے۔اندرونی سطح پر بھلے ہی مودی جی اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں عوام کی بھلائی اور بہتری کیلئے کچھ خاص کر پائے لیکن خارجی سطح پر عالمی طاقتوں کے سامنے آپ ہمیشہ ہندوستان کو ایک مہا ن دیش کی صورت میں پیش کرنے میں ضرور کامیاب رہے۔آپ نے بھارت کو اقوام متحدہ میں چھٹے ویٹو پاور کی صورت میں کھڑا کرنے کی داویداری کی کوششوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔آپ اپنے دور میں امریکہ روس برطانیہ فرانس اور چین جیسے سپر پا ور ملکوںکے سربراہوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت دکھاتے رہے۔ آپ پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کو بڑے بڑے عالمی فورموں اور گروپوںمیںایک اعلیٰ مقام دلانے میں کامیاب رہے۔ آپ نے مولانامسعود اظہرمحمد حافظ سعید اور سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دلانے میں کامیابی حاصل کی۔ مودی کے دور میں ہندوستان زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل کو گرانے کی شکتی رکھنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ۔ عوام کا یہ بھی ماننا ہے کہ نریندر مودی پاکستان کی طرف سے پھینکی گئی ایک ایک اینٹ کا جواب ہر بار پتھر سے دیتے رہے ۔مودی کے دور میں ہی بھارت کی فوج نے پاکستان کے خلاف سرجیکل اور ائیر اسٹرائیک کرنے کا حوصلہ دکھادیا۔اگر ہم بھی اسی تناظر میں مودی جی کو پرکھنے کی کوشش کرتے چلیں تو اس بات میں بالکل بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ مودی جیسا ہمت والااور جرائت مند سیاسی لیڈر فی الوقت ہندوستان کی کسی بھی دوسری سیاسی جماعت میں دُور دُور تک نظر نہیں آرہا ہے۔میری نظر میںراہول گاندھی مودی کے سامنے ایک ایسا ناتجربہ کار اور نا اہل سیاسی لیڈر ہے جس کو ابھی اپنی پارٹی سنبھالنے میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔آج کے الیکشن میں عوام نے شاید دوسری لائن پر کھڑے امیدواروں کے بجائے نریندر مودی اور راہول گاندھی کی ذات پر اپنا پورا فوکس کر رکھا ہوا تھا۔بھاجپا امیدواروں کوجتانے کا مطلب مودی کے مضبوط ہاتھوں میں ملک کا مستقبل محفوظ بنا دینا اور کانگریسی امیدواروں کو کامیاب بنانے کا مطلب راہول گاندھی کے کمزور ہاتھوں میں ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دینا۔ میرے خیال میں بھی بی جے پی ہندوستان کی فی الوقت واحد سیاسی پارٹی ہے جس میں نہ صرف قابل تجربہ کار اور باصلاحیت رہنماءموجود ہیں بلکہ اس پارٹی میں ربط و ضبط تنظیم سازی اور اتحادو اتفاق کی طاقت بدرجہ اُتم پائی جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی عوام نے مذہبی علاقائی اور سیاسی وابسطہ گیوںسے اوپر اُٹھ کر ایک بار پھر اپنے ملک کی باگ ڈورایک مضبوط قیادت کے ہاتھوں میں تھمانے کا ارادہ کرلیا تھا جو انہوں نے بلآخر پورا کر ہی دیا۔ صرف چند ماہ قبل راجستھان اور مدھیہ پردیش کے لوگوں نے ریاستی سطح کی حکومتیںقائم کرنے کیلئے کانگریس کو ووٹ دیا اور جب وزیر اعظم منتخب کرانے کی باری آئی تو بی جے پی کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے میں فخر محسوس کیا۔اس طرح کا طرز عمل اس بات کاغمازی ہے کہ ہندوستان کا عوام اب سیاسی اعتبار سے کافی زیادہ سنجیدہ ہوچکا ہے۔ کب کس کے حق میں ووٹ کرنا بہتر رہے گالوگ بہت اچھی طرح سے جانتے بھی ہیںاور سمجھتے بھی ۔ہاں مگر اس طرز عمل کے بیچ میں ایک منفی رجحان بھی پروان چڑھنے لگ چکا ہے جو ہندوستان کے اسکیولرکردار کیلئے زرر رساں ثابت ہوسکتا ہے وہ یہ کہ مودی کے چکر میں سادھوی پرگیا ٹھاکر جیسی مذہبی دہشت گرد کے علاوہ بعض دوسرے جرائم پیشہ افراد کو قانون ساز ایوانوں اور فیصلہ ساز اداروں میں اپنے ناپاک قدم جمانے کا بھر پور موقع مل رہا ہے جبکہ سماج سدھار ماہرین تعلیم یہاں تک کہ اعلیٰ قانونی ماہر امیدواروں کو شکست پاش ہونا پڑرہا ہے ۔
علاوہ ازیں اس امر میں بھی شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے کہ نریندر مودی کو ایک مضبوط وزیراعظم کی صورت میں کھڑاکرانے کے پیچھے جہاں اندرونی سطح پر آر ایس ایس جیسے طاقت ور سنگٹھن کا آشراودکار فرما رہاہے وہیں خارجی سطح پر امریکہ اسرائیل روس پاکستان اور بعض یورپی ریاستوں کا عمل دخل بھی اس میں بہ نفس نفیس شامل حال رہا۔ بتایا جارہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے تناظر میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان در پردہ طریقے سے گزشتہ ایک سال کے دوران بہت حد تک پیش رفتہ ہوچکی ہے اسلئے مودی کا دوبارہ اقتدار میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ لوٹ آنالازم بن چکا تھا تاکہ مذاکراتی عمل کو کسی منطقی انجام تک لیجانا ممکن بن سکے۔نیز چین کے ساتھ برسوں سے چلے آ رہے سرحدی تنازعے کو بھی بغیرکسی جنگ و جدل کے نپٹایا جاسکے۔
اب جو بھی وجہ رہی ہوگی نریندر مودی کی بھاری اکثریت سے جیت درج کرنے کے پیچھے لیکن یہ بات طے ہے کہ آپ ایک طاقت ور شکتی شالی وزیر اعظم کی صورت میں ابھر گئے ہیں۔اب انھیں اس شاندار کامیابی اور بھر پور طاقت سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرلینی چاہئے۔مودی جی کو اس بھاری عوامی منڈیٹ کوکسی بھی صورت میں بے کار میں جانے نہیں دینا چاہئے نہ ہی انھیں اپنی شکتی کو ملک کے اندر صدیوں سے آباد اقلیتوں کے خلاف استعمال میں لانا چاہئے اُسی میں ہندوستان کی بھلائی اور بہتری کا راز مضمر ہے ۔
رابطہ: mushtaqshameem47@gmail.com
9797966365
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
