تازہ ترین
ورلڈ کپ میں 500 کا ٹوٹل کون بنائے گا؟
خبراردو: دیگر کھیلوں کی طرح کرکٹ کا کھیل بھی آہستہ آہستہ پیسے کے گرد گھومنے والی صنعت میں بدل چکا ہے۔ ٹی20 فارمیٹ نے عالمی سطح پر کھیل کے طویل ورژن کے وجود کو ایک عرصے سے خطرے سے دوچار کیا ہوا ہے۔ تاہم جیسے ہی ورلڈ کپ کا ذکر ہوتا ہے تو یہ سارے خطرات کہیں کھو جاتے ہیں۔
30 مئی سے آئی سی سی ورلڈ کپ کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور اگلے 6 ہفتوں تک انگلینڈ اور ویلز کے میدانوں میں 38 میچز کھیلے جائیں گے جس میں جیتنے والی ٹیم کے لیے سب سے بڑی انعامی رقم کا اعلان کیا گیا ہے اور جب تک ٹورنامنٹ جاری رہے گا ہمیں جوش و خروش اور ولولہ خیزی کا رنگ ہر سوں بکھرا ملے گا۔
14 جولائی کو لارڈز کے میدان میں کھیلے جانے والے فائنل میں فاتح ٹیم کو ایک کروڑ کی مجموعی انعامی رقم میں سے 40 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم بطور انعام دی جائے گی۔ اس کے علاوہ تقریباً ڈیڑھ ارب کرکٹ مداح اپنی پسندیدہ ٹیموں اور اسٹارز کو دور جدید کے گیجٹس کے علاوہ ٹی وی پر دیکھ سکیں گے۔
جنوری 1971ء میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر جب ایشز ٹیسٹ میں جان باقی نہ رہی تھی اور ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا حادثاتی جنم ہوا، جس کے دو سال بعد آئی سی سی نے ورلڈ کپ کا تصور دنیا کے سامنے پیش کیا۔ 1970ء کی دہائی کی ابتدا میں عالمی سطح پر مینز کرکٹ میں محدود اوورز کا کہیں کوئی مقابلہ نہیں ہوا تھا، درحقیقت 1973ء میں خواتین نے انگلینڈ میں منعقدہ اپنے افتتاحی ورلڈ کپ کے موقعے پر اس رجحان کو متعارف کروایا۔ بعدازاں کھیل کی گورننگ باڈی نے 1975 کی گرمیوں میں دن کے اوقات میں روایتی سفید کٹ اور سرخ گیند کے ساتھ 60 ( فی اوور 6 گیند) اوورز پر مشتمل 15 میچوں کے ساتھ ایٹ (8) ٹیم ٹورنامنٹ کا منصوبہ بنایا۔
ماضی میں جانکھیں تو یہ تصور کرنا آسان ہے کہ کرکٹ میں ٹی 10 سمیت نئے فارمیٹس کی صورت میں آگے بڑھنے کی اس رفتار کے باوجود کس طرح مقبولیت سمیٹ سکی ہے۔ مگر 21ویں صدی کے ایسے بلے باز کا تصور بھی اب محال ہوچکا ہے جو میدان پر 60 اوور کی اننگز پر قابض رہے اور 174 گیندوں پر صرف 36 رنز جوڑے! ٹھیک یہی کارنامہ ٹیسٹ کرکٹ کے ممتاز اوپنگ بلے باز سنیل گواسکر نے افتتاحی ورلڈ کپ کے موقعے پر کیا، جبکہ اس سے پہلے انگلینڈ کی ٹیم لارڈز میں اپنی دھواں دار بیٹنگ دکھا کر شائقین کرکٹ سے خوب داد وصول کرچکی تھی۔ 335 کے تعاقب میں انڈیا نے سلیپ موڈ کا انتخاب کیا اور 3 وکٹوں کے نقصان پر 132 رنز جوڑ سکی، یوں اپنی مخالف ٹیم کو 202 رنز کے فرق کے ساتھ جتوا دیا۔
خیر یہاں لیجنڈ گواسکر کو ایسی آفت برپا کرنے پر بخشا جاسکتا ہے کیونکہ اس وقت محدود اوورز کی کرکٹ کو متعارف ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا اور اس ٹورنامنٹ سے قبل صرف 18 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے گئے تھے، اس ورلڈ کپ کا منظر نامہ 2019ء کے ورلڈ کپ کے منظرنامے سے یکسر مختلف تھا کیونکہ جب یہ ورلڈ کپ شروع ہوگا تب تک 4 ہزار ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے جاچکے ہوں گے۔
ماضی کے اُس ورلڈ کپ کی تاریخ کو تھوڑا اور کُریدتے ہوئے آپ کو بتاتے چلیں کہ 21 جون یعنی سال کے سب سے بڑے دن کو رات 8 بج کر 42 منٹ پر اختتام پذیر ہونے والے سنسنی خیز فائنل میں فاتح ٹیم ویسٹ انڈیز نے کلائیو لائڈ کی متاثرکن قیادت میں آسٹریلیا کو 17 رنز کے تھوڑے فرق کے ساتھ دھول چٹائی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان نے زبردست قائدانہ کردار نبھاتے ہوئے 102 رنز جوڑے تھے۔
سر ویو رچرڈز ان عظیم ترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں 60 اوور کے اس کھیل نے پیدا کیا، رچرڈز نے اس ٹورنامنٹ میں اپنے بلے سے زیادہ کمال فیلڈنگ کے شعبے میں دکھایا جس کی بدولت آسٹریلیا کے کپتان ایئن چیپل، ان کے بھائی گریگ چیپل اور ٹورنامنٹ میچوں میں ایلن ٹرنر کو رنگ رن آؤٹ ہوئے تھے۔ وہ 1979ء کے فائنل میں سب کی نظروں کا محور بنے رہے، جبکہ ورلڈ کپ کے میزبان انگلینڈ کی ٹیم ایک لاچار پنچنگ بیگ کی مانند مار کھاتی رہی۔ اس عظیم کھلاڑی نے مائیک ہینڈرک کی گیند پر اسکوئر لیگ پر چھکا مار کر اپنے بلے سے 138 رنز جوڑے اور ویسٹ انڈیز کی اننگز مکمل ہونے تک ناٹ آؤٹ رہے۔
پھر ہوا یہ کہ لائڈ کی زیر قیادت ٹیم نے 92 رنز سے عالمی اعزاز اپنے پاس ہی رکھا۔
ابتدائی 2 ورلڈ کپ ایڈیشنز کی طرح تیسرے ورلڈ کپ کا انعقاد بھی اسی طریقہ کار یعنی 60 اوور اور سفید کٹ کے ساتھ انگلینڈ میں ہوا، لیکن جب عالمی مقابلہ 1978ء میں پاکستان اور انڈیا کی زیرمیزبانی برصغیر میں منعقد ہوا تب اسے 50 اوور فارمولے کے ساتھ بدل دیا گیا اور میدان پر 30 گز کے دائرے کو لازمی قرار دیا۔ رنگین کٹ کی ابتدا 1992ء کے ورلڈ کپ سے ہوئی جس کی میزبانی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے مل کر کی تھی۔
چلیے اب آج کی بات کرتے ہیں، کچھ دنوں میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ ان تمام اجزا سے بھرپور ہے جو اس عالمی مقابلے کو ایک ریکارڈ توڑ ٹورنامنٹ بنانے کے لیے کافی ہیں۔ عنقریب 300 سے 320 کے آس پاس مجموعی اسکور ایک عام روایت سی بن جائے گی، جبکہ ان دنوں رنز کے اتنے مجموعے کا تعاقب زیادہ مشکل بھی نظر نہیں آتا بشرطیکہ پچ دوسری باری میں اچانک سے اپنا رنگ ڈھنگ نہ بدلنے لگے۔ اور اگر پچ کے حالات ویسے ہی رہتے ہیں، جو ایک حد تک انگلینڈ پاکستان کی سیریز میں ہمیں دیکھنے کو ملے، تو پھر باؤلرز کو سپاٹ پچوں اور انتہائی فاسٹ آؤٹ فیلڈز پر مشکلات کا سامنا ہوگا۔
جو کھیل ٹیموں پر مشتمل ہوتے ہیں ان میں سے چیمپئنز کا چناؤ کرنا خاصا رسک بھرا کام ہوتا ہے۔ اگر بات روایتی ٹیسٹ میچوں سے ہٹ کر دوسرے فارمیٹس کی ہو رہی ہو تو کرکٹ میں یہ کام اور بھی مشکل ثابت ہوتا ہے۔
اب تک سب سے زیادہ بار عالمی اعزاز اپنے نام کرنے والی ٹیم آسٹرلیا ہے۔ آسٹریلوی ٹیم کُل 5 مرتبہ،1987، 1999، 2003، 2007 اور 2015 کے عالمی مقابلوں میں کامیابی حاصل کرچکی ہے جبکہ اسٹیو اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر کی واپسی کے ساتھ اس بار بھی اعزاز ان کے پاس رہنے کی امیدیں کافی حد تک روشن ہوئی ہیں۔ دوسرے نمبر پر ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ کامیابیاں ویسٹ انڈیز (1975 اور 1979) اور بھارت (1983 اور 2011) نے حاصل کیں، جبکہ پاکستان (1992) اور سری لنکا (1996) کی ٹیمیں بھی ماضی میں عالمی اعزاز اپنے نام کرچکی ہیں۔
مگر ورلڈ کپ 2019 میں سب پر غالب ٹیم کون سی ہوگی؟ ٹاپ رینکنگ میں شمار ہونے والی ٹیموں میں سے انگلینڈ (1979، 1987 اور 1992) اور نیوزی لینڈ (2015) ماضی میں ورلڈ کپ فائنل تک رسائی حاصل کرچکی ہیں، دوسری طرف جنوبی افریقہ کے لیے ورلڈ کپ کا خواب ادھورا ہی رہا ہے کیونکہ یہ ٹیم اب تک ایک بار بھی فائنل تک نہیں پہنچ پائی ہے، البتہ یہ ٹیم 1992، 1999، 2007 اور 2015 میں سیمی فائنل تک ضرور پہنچی ہے۔
ایک روزہ کرکٹ فارمیٹ کی بات کی جائے تو 2015 کے ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی ٹیم سب سے خطرناک ٹیم بن کر ابھری ہے، ان کے کھیل کو دیکھ کر واضح اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بطور میزبان ملک 4 بدترین مہمات کے بعد اس ٹیم نے کھیل کو نہایت سنجیدگی سے لینا شروع کردیا ہے۔ ان کے لیے 350 رنز جوڑنا اب روٹین کی بات بن چکی ہے اور مائیکل کلارک کی جانب سے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر 29 مارچ کی رات کو فاتحانہ انداز میں ورلڈ کپ ٹرافی تھامے جانے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 50 بار 350 رنز تک کے مجموعے جوڑے گئے ہیں، اس میں سے 15 بار یہ مجموعہ انگلینڈ کی ٹیم نے جوڑا۔
گزشتہ ٹورنامنٹس میں انگلینڈ کو دوڑ میں شامل ایک عام سی ٹیم کی حیثیت دی جاتی رہی ہے۔ مگر اب انگلینڈ آئی سی سی کی ٹاپ رینکنگ میں شامل ٹیموں جیسا کھیل پیش کر رہی ہے۔ انفرادی حیثیت سے دیکھیں تو ان کی ٹیم کا کوئی کھلاڑی ٹیم انڈیا کے ویرات کوہلی اور جسپریت بھمرا کی طرح بلے باز یا گیند باز کی اولین نمبر پر بھلے نہ ہوں مگر مجموعی طور پر بطور ایک ٹیم دیکھا جائے تو ٹیم انگلینڈ سب کو پیچھے چھوڑتی نظر آتی ہے۔
ٹیم میں بلے بازی کا پاور ہاؤس جیسن رائے، جونی بیرسٹو، جو روٹ کپتان ایئون مورگن، بین اسٹروکس اور جوش وخروش سے بھرپور پرخطر لائن اپ میں پیچھے گھات لگائے بیٹھے جوس بٹلر جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، ایسے میں اگر انگلینڈ ورلڈ کپ کے دوران 500 کا پہاڑ کھڑا کردیتی ہے تو یہ زیادہ حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔
گزشتہ ورلڈ کپ کے بعد بین الاقوامی ایک روزہ میچز میں 20 بار 400 یا اس سے زائد کا مجموعی اسکور بنایا جاچکا ہے، انگلینڈ نے اتنا بڑا مجموعہ 4 موقعوں پر بنایا جبکہ جنوبی افریقہ اور انڈیا نے 5، 5 بار یہ سنگ میل عبور کیا۔
بین الاقوامی ایک روزہ میچ میں 2 ٹاپ ٹوٹل اسکور بھی اسی اثنا میں دیکھنے کو ملے اور دونوں بار یہ ٹوٹل ایک ہی ٹیم نے ایک ہی جگہ پر بنائے۔ انگلینڈ نے 2016 کے اگست میں پاکستان کے خلاف 3 وکٹوں کے نقصان پر 444 رنز کی لوٹ مار مچائی اور پھر جب 2018 کے جون میں آسٹریلیا ناٹنگھم آئی تو مجموعے میں 37 رنز کا مزید اضافہ کیا اور یوں تباہ کن بلے بازوں نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 481 ٹوٹل کا پہاڑ کھڑا کیا۔
ان دنوں سرفراز احمد کی زیرقیادت ٹیم پاکستان کے حوالے سے چند واضح وجوہات کی بنا پر ویسا تذکرہ سننے کو نہیں مل رہا جیسا انگلینڈ، انڈیا، آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے لیے سننے کو ملتا ہے۔
مگر 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی فاتح پاکستان ٹیم میں کسی خاص موقعے پر کسی کو بھی حیرت زدہ کرنے کی بلاشبہ خوب صلاحیت موجود ہے۔ فٹنس مسائل (شاداب خان اور محمد عامر) اور ذاتی صدمے (آصف علی)، کے علاوہ گزشتہ 15 ایک روزہ میچز میں 12 میچز میں شکست خوردگی کا بوجھ اٹھائے یہ ٹیم ورلڈ کپ کی دوڑ میں شامل ہونے جا رہی ہے۔
بدترین فیلڈنگ اور باؤلنگ کی اس قدر پست حالت نظر آتی ہے کہ معقول ورلڈ کپ ٹریک ریکارڈ (12 میچوں میں 24 وکٹیں) کی بنا پر وہاب ریاض کو 15 کھلاڑیوں کے اسکواڈ میں شامل کردیا گیا، مگر اس سب کے باوجود پاکستان کو ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ورلڈ کپ میں ہر ٹیم کا مقابلہ دیگر 9 ٹیموں کے ساتھ ہوگا، اس قسم کے فارمیٹ میں اہم موقعوں پر حالات میں غیرمتوقع تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ 1992 کا ورلڈ کپ بھی کچھ اسی طریقہ کار کے تحت کھیلا گیا تھا کہ جس میں عمران خان نے 25 مارچ کے دن میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر واٹرفورڈ کرسٹل ٹرافی کو لہرایا تھا۔
بشکریہ ڈان
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
