تازہ ترین
سال2019: جس نے جمو ں کشمیر کے نقشے سے لے کر بہت کچھ بدل دیا
خبراردو ڈیسک:
سال ۲۰۱۹ جس کو الوداع ہونے میں اب کچھ ہی گھنٹے بچےں ہیں ۔ یہ سال جموں کشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ کےلئے یاد رکھا جائے گا ۔ جموں کشمیر کے حوالے سے مستقبل میں جب بھی بات ہو گی ، اس سال کے متعلق بھی لازماََ بات ہو گی ۔
۲۰۱۹ میں جموں کشمیر میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو شائد یہاں کی عوام کے دل و دماغ ابھی تک ماننے کےلئے راضی نہ ہوں ۔
۲۰۱۹ کا سال میں جنوری سے ہی عسکریت پسندوں کے خلاف کارڈن اینڈ سرچ آپریشن دیکھے گئے جن میں رواں سال کئی نامور ملی ٹنٹ کمانڈر مارے گئے ۔ جن میں 8 سے زائد سرکردہ کمانڈر شامل ہیں ۔
عسکریت پسند کے خلاف آپریشن جاری ہی تھے کہ ۱۴ فروری کا دن آیا ۔ اور اس دن صبح ساڑھے نو بجے کے آس پاس خبر آئی کہ ہائی وے پر پلوامہ کے لیتہ پورہ علاقے میں جموں سے سرینگر کی جانب آ رہے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے قافلے پر حملہ ہوا ہے ۔ اور اسکے کچھ منٹوں بعد ہی جائے واردات پر میڈیا کے پہنچنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کانوائے پر خود کش کیا گیا ہے جس میں چالیس سے زائد فورس اہلکار ہلا ک ہوئے وہیں درجنوں زخمی ہوئے ہیں ۔ اسکے بعد بڑی خبر یہ آئی کہ خود کش بمبار مقامی نوجوان عادل احمد تھا ۔
اس حملے نے دو پڑوسی ممالک بھارت اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پرلے کھڑا کر دیا تھا ۔
اس حملے کے کچھ روز بعد ۲۶ فرور ی کو انڈین ائر فورس کے جیٹ طیاروں نے پاک صوبہ خیبر پختونخواہ کے بالاکوٹ علاقے میں گھس کر وہاں جنگجووں کے ٹھکانوں پر بم گر ا کر انہیں تباہ کرنے کا دعوی کیا ۔
اس خبر کو وائرل کرنے والے پاکستان فوج کے ترجمان آصف غفور تھے ،انہوں نے بھارت کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ایف کے طیاروں نے اپنے بم درختوں پر گرا دئے ہیں ۔ایسا۱۹۷۱ کے بعد پہلی بار ہواتھاکہ بھارتی ائر فورس کے طیارے پاکستان کی حدود کے اندر داخل ہوئے تھے ۔
اسکے اگلے روز ہی پاکستانکی جانب سے جوابی وار میں پاکستانی جنگی طیارے جموں کے ایک علاقے میں گھس آئے، جس کا بھارتی فصائیہ کی جانب سے فوراََ جواب دیا گیا اور دونوں ممالک کے جنگی طیاروں کے درمیاں ڈاگ فائٹ شروع ہو گئی اور اس دوران بھارتی طیارے کو چلانے والے پائلٹ کو کشمیر زیر نتظام علاقے میں گرایا گیا ۔
اس دورا ن انہوں نے پیرا شوٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی جان پچانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔اور اسے پاک فوج نے گرفتار کر لیا ۔
امریکہ ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے خراب حالات کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک بات چیت کی گئی اور پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے بعد عمر ان خان نے نیشنل اسمبلی میں پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا ۔
۱۹۹۹ کے بعد پہلی بار پھر سے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے ۔
اسکے اگلے ماہ میں ملی ٹنسی مخالف آپریشنوں ، سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسمبلی انتخاب کی مانگ اور سیاسی لیڈرا ن او ر آخری گورنر ستیہ پال ملک کے بین لفظی جنگ کے بیچ ۲ اگست ۲۰۱۹ کا وہ دن آیا جس دن اچانک سے سابقہ ریاست کی حکومت کی جانب سے امرناتھ یاترا کےلئے درشن پر آئے یاتریوں کو کچھ گھنٹوں میں کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا گیا ۔ اور وجہ یہ بتائی گئی کہ خفیہ یجنسیوں کی جانب سے یاترا پر حملے کی اطلاع ملی ہے ۔ اسکے بعد کیا تھا وادی میں موجود یاتری ، سیاح ، این آئی ٹی کے طلاب ، غیر مقامی کاریگر و مزدور ۴ اگست سے پہلے ہی کشمیر کو چھوڑ گئے تھے ۔
۴ اگست کی رات کو ہی خصوصی پوزیشن کی منسوخی کی افواہوں کے بیچ تمام مین سٹریم لیڈران کو گرفتار و گھر وں میں نظر بند رکھنا شروع ہو گیا ۔ جن میں تین سابق وزرائے اعلی بھی شامل ہیں ۔
اور اسکے بعد رات کے ایک بجے تک موبائل فون کالنگ ، انٹرنیٹ ، براڈبینڈ ، لیز لائن اور لینڈ لائن سروس کو بند کیا گیا ۔
۵ اگست کی صبح ہوتے ہی پورے کشمیر میں ہو کا عالم تھا ۔ اور ۱۱ بجے کے قریب کابینہ میٹنگ میں جموں کشمیر کے حوالے سے خصوصی پوزیشن کو منسوخ کرنے کےلئے لوک سبھا میں جموں کشمیر تنظیم نو قانون کی بل کو پیش کیا گیا ۔
ٓتنظیم نو قانون بننے کے بعد جمون کشمیر کا نقشہ بھی بدل دیا گیا ۔ وہیں جموں کشمیر کا درجہ ریاست سے کم کر کے یو ٹی میں تبدیل کیا گیا ۔مزید اس کا رقبہ بھی کم کر کے لداخ کو الگ یو ٹی کا درجہ دیا گیا ۔
کشمیر میں اس روز تمام کیبل اور ڈش ٹی وی سروس بھی بند کی گئی اور عوام نے یہ خبر صرف اپنے ریڈیوز کے زریعے سنی۔
اس دوران گرفتاریوں کا عمل شروع کیاگیا اور اخبارا ت میں شائع خبروں کے مطابق ۶ ہزار سے زائد افراد گرفتار کئے گئے ۔ جن میں سے ۳ سو سے زائد پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دوسری ریاستوں کی جیلوں میں بھیجے گئے۔ اور اب وادی میں ۱۰۰ سے زائد سرکردہ مین سٹریم لیڈران ہی نظر بند یا ایم ایل ہوسٹل میں مقید ہیں ۔
اسی دوران ایک اور غیر معمولی فیصلے کے تحت سابق مرکزی وزیر کئی بار کے اور موجود ہ ممبر پارلیما ن ، تین بار کے ریاستی وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ۔دسمبر کے دوسرے ہفتے میں ہی ان کی گرفتاری میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی ۔ گپکار سڑک پر واقع ان کے گھر کو ہی جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے ۔
یہ جموں کشمیر کی تاریخ میں دوسری بار ہوا جب ریاست کے سابق وزراءکو گرفتار یا نظر بند رکھا گیا ۔
اس سے پہلے ۱۹۵۳ میں ڈاکٹر فاروق کے والد شیخ عبداللہ کو جموں کشمیر میں بھارت کے خلاف مبینہ سازش رچانے کے الزام میں ۱۱ سال جیل میں کاٹے پڑے تھے ۔
۱۹۷۸ میں شیخ عبداللہ کی سرکار میں ہی پبلک سیفٹی ایکٹ کا قانون لکڑی کی اسمگلنگ کے خلاف لاگوکیا گیا تھا۔
وہیں کشمیر مسئلہ پہلی بار بین الاقوامی سطح پر بھی بڑی حد تک گونجا ۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ۱۵ اگست کو چین کی مانگ کے بعد بند کمرے میں کشمیر کی صورتحال پر بات کی گئی ۔دسمبر میں بھی چین کی جانب سے ایسی ہی مانگ کی گئی تھی لیکن فرانس نے اسکو ویٹو کر لیا ۔
اسی طرح سے وادی میں تما م طرح کے تعلیمی ادارے ۴ ماہ تک بند رہے اور اسکے بعد امتحانات اور پھر سرما کی چھٹیوں کا اعلان کیا گیا ۔مواصلاتی نظام کی بات کی جائے تو ۵ اگست کے کچھ ہفتوں بعد ہی وادی میں لینڈ لائن سروس بحال کی گئی ۔ اور اسکے بعد ۱۴ اکتوبر کو پوسٹ پیڈ سروس بھی شروع کی گئی تھی ۔
لیکن وہیں ایس ایم ایس سروس ، پری پیڈ ، براڈبینڈ، انٹرنیٹ سروس ہنوز بند ہے ۔ جبکہ جموں میں اگرچہ براڈبینڈ چل رہا ہے تاہم وہاں بھی ابھی تک انٹرنیٹ سروس بحال نہیں کی گئی۔
۱۳ اکتوبر کو جمون کشمیر کے نئے اور پہلے لیفٹننٹ گورنر گریش چندر مرمو اور لداخ کے پہلے ایل جی آر کے ماتھر نے حلف لیا ۔اسکے ساتھ جموں کشمیرکا اپنا ترنگا اور آئین ختم کیا گیا اور اب جموں کشمیر پر بھی ۱۵۰ بھارتی آئین کے قوانین لاگو کئے گئے ۔
کشمیر میں اس بار ایک چیز جو مرکزی سرکار کی توقع کے بر عکس رہی وہ رہا خاموش احتجاج ۔ ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۶ میں جہاں ۳۰۰ زائد افراد احتجاجی مظاہروں کے دوران مارے گئے ۔وہیں اس مرتبہ ایک نہ ہی حریت کانفرنس کی جانب سے کوئی کال دی گئی اور لوگوں نے بھی چار ماہ غیر اعلانیہ ہڑتال کی ۔تاہم اس دوران کشمیر کی تجارت کو ۱۸۰۰۰کروڑ کا نقصان ہوا ۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
