تازہ ترین
’کورونا وائرس کی قہر سامانیاں،عالمی ادارہ صحت کا ہنگامی اجلاس‘
جموں وکشمیر میں علیحدہ وارڈ قائم،خصوصی طبی ٹیمیں تشکیل
چین میں مرنے والوں کی تعداد170ہوگئی،ہندوستان،پاکستان تاحال محفوظ
سرینگر: چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا ’کورو نا وائرس‘ چین کے دوسرے شہروں کے علاوہ فضائی سفر کرنے والوں کی بدولت دنیا بھر میں پھیل چکا ہے،جس نے پوری دنیا کو اضطراب اور تشویش میں مبتلاء کیا۔جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے ’کورو نا وائر س‘ کے پھیلتے خطرات کے پیش نظر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے جموں اور کشمیر کے3 بڑے اسپتالوں میں علیحدہ وارڈ قائم کئے جبکہ اس ضمن میں خصوصی طبی ٹیمیں بھی تشکیل دی۔
اس دوران چین میں مرنے والوں کی تعداد170ہوگئی۔اس دوران عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ناول کورونا وائرس کی وبا کے صحت عامہ کی عالمی ہنگامی صورتحال کے تعین کے لیے ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق ’کورو نا وائرس‘ نے جہاں پوری دنیا کو فکر وتشویش میں مبتلاء کیا ہے،وہیں لیفٹیننٹ گور نر گریش چندر مرمو کی سربراہی والی جموں وکشمیر انتظامیہ بھی کافی فکر مند نظر آرہی ہے۔چین،نیپال اور دیگر ممالک سے آنے والے مسافروں کی طبی معائینہ کے بعد انتظامیہ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جموں اور کشمیر میں کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر علیحدہ وارڈ قائم کرنے کیساتھ ساتھ خصوصی طبی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں۔
حکام کے مطابق کسی بھی طبی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے احتیاطی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ کورو نا وائر س کی روکتھام کیلئے طبی منصوبہ ترتیب دیا گیا۔جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے ایک آرڈر جاری کیا ہے،جس کے تحت مشکوک مریضوں کیلئے ’اسٹیٹ سر ولنس آفس‘ میں کنٹرول قائم کرنے کی ہدایت دی گئی۔علاوہ ازیں سبھی اضلاع کیلئے ایڈوائزی جاری کی گئی جبکہ ریلوے اسٹیشنز اور ائرپورٹس پر اعلان کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ کورو نا وائر کے خطرات کے پیش نظر جموں وکشمیر اور سرینگر کے گور نمنٹ میڈیکل کالجوں واسپتالوں اور شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنس (سکمز) صورہ میں اور دیگر اضلاع میں علیحدہ وارڈ قائم کئے گئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے طبی اور نیم طبی عملے کی خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں۔ حکام نے بتایا کہ مشکوک طبی کیسوں میں فوری طور پر خون کے نمونے حاصل کئے جائیں گے اور طبی جانچ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ’نیشنل انسٹی چیوٹ آف بائیو لاجیکلز‘ پونے بھیج دیا جائیگا۔یاد رہے کہ چین کے صوبہ حبئی میں 32کشمیری طلبہ ہیں،جنکی واپسی کیلئے وزیر اعظم،وزیر خارجہ اور دیگر مرکزی حکام کو آگاہ کیا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی تشویش:عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ناول کورونا وائرس کی وبا کے صحت عامہ کی عالمی ہنگامی صورتحال کے تعین کے لیے ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس آڈھانوم غیبریسوس نے جینیوا سے آن لائن نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’چین میں اور عالمی سطح پر اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ڈبلیو ایچ او کی اولین ترجیح ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ہر دن کے ہر لمحے کی صورتحال کی نگرانی کررہے ہیں‘۔ایمرجنسی کمیٹی اس بحران سے نمٹنے کے طریقوں پر سفارشات بھی پیش کرے گی۔گزشتہ ہفتے عالمی اداری صحت کی کمیٹی نے2 روز جاری رہنے والی ملاقات میں فیصلہ کیا تھا کہ چونکہ وائرس چین میں ایک شدید تشویش کا باعث ہے لہٰذا یہ اب تک عالمی ایمرجنسی نہیں تھا۔اس وقت مذکورہ معاملے پر ووٹ تقریباً تقسیم تھا اور آج ہونے والے اجلاس میں یہ تعین کیا جائے گا کہ وائرس اب ایمرجنسی ہے یا نہیں۔عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی ڈیزیز یونٹ کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ وان کیرکہو نے تمام اقوام کو خوف و ہراس سے بچنے اور بیماری پر قابو پانے پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا۔چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 170 ہوگئی:چین میں پھیلنے والے نئے وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد170 ہوگئی جبکہ عالمی صحت حکام نے وائرس کے چین سے باہر منتقل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خطے سے نکالے گئے غیر ملکیوں کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 38 ہوگئی جبکہ 1ہزار737 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد کل کیسز کی تعداد 7 ہزار711 ہوگئی۔ان نئی ہلاکتوں میں سے 37 وائرس کے پھیلنے کے مقام، صوبہ ہوبے میں ہوئیں جبکہ جنوب مغربی صوبے سی چوان میں ایک شخص ہلاک ہوا۔دنیا میں ہلچل:ہوبے کے 1 کروڑ 10لاکھ کی آبادی والے شہر ووہان سے195 امریکیوں کو واپس بلالیا گئے، جہاں اس وائرس کا جنم ہوا۔نکالے گئے تمام امریکیوں کو کیلیفورنیا کے جنوبی حصے میں قائم فوجی اڈے میں 3 روز تک نگرانی کیلئے رکھا گیا ہے تاکہ دیکھا جاسکے کہ کہیں وہ وائرس سے متاثر تو نہیں ہوئے۔جاپانی وزارت خارجہ کے مطابق ووہان سے 210 جاپانیوں کا ایک گروہ ٹوکیو کے ہانیڈا ایئرپورٹ پر حکومت کے چارٹرڈ طیارے میں اترا۔رپورٹس کے مطابق ان میں سے 9 میں زکام اور بخار کی علامات سامنے آئیں۔فرانس، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، سنگاپور اور دیگر ممالک بھی اپنے شہریوں کو نکالنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ہندوستان اور پاکستان تاحال اس وائر س سے محفوظ ہے،ایسا حکام یا سرکاری اداروں کا دعویٰ ہے۔
چین کیا اقدامات کیا کررہا ہے:چینی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ’متاثرہ علاقوں میں غذا اور روز مرہ کی ضروریات کی قلت کو پورا کرنے کے لیے حکام اقدامات تیز کر رہے ہیں تاکہ سامان کی مسلسل فراہمی اور قیمتیں مستحکم رکھی جاسکیں‘۔انہوں نے کہا ’وزارت کامرس کے ڈیٹا میں بتایا گیا کہ ووہان میں موجودہ ذخائر15 روز تک باحفاظت چاول اور تیل کی فراہمی کو یقینی بناسکتے ہیں جبکہ پورک اور انڈے10 روز اور سبزیاں 5 روز تک فراہم کی جاسکتی ہیں‘۔حکومت نے کوئی تخمینہ ظاہر نہیں کیا کہ کب وہ اس وبا کو روک سکیں گے، تاہم چند ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ وائرس 2 ہفتوں میں عروج پر پہنچ جائے گی۔
کورونا وائرس ہے کیا؟:کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز (وہ جاندار جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے۔عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے جبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے۔سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔کورونا وائرس کی زیادہ تر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا دوا دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔مگر سال 2020 کے اوائل میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے چین میں اس وائرس کی ایک نئی مہلک قسم دریافت کی جسے نوول کورونا وائرس یا این کوو کا نام دیا گیا۔
عام طور پر یہ وائرس اس سے متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ چین کو اس وقت دوہری پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ ووہان اور ہوبے گنجان ترین آبادی والے علاقے ہیں اور اتنی بڑی تعداد کو کسی اور جگہ منتقل کرنا ممکن نہیں بلکہ اس سے مرض اور پھیل جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔(کے این ایس)
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
