پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
یمن تنازع سعودی عرب تک پھیلا تو مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو جائے گا: خواجہ آصف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جاری تنازع اگر سعودی عرب کی سرزمین تک پھیلتا ہے تو سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ پاکستان کا سہ فریقی مکہ دفاعی اتحاد فعال ہو سکتا ہے۔
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یمن کے حوثی باغیوں نے منگل کے روز سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے، جن میں 73 افراد زخمی ہوئے۔
7 اگست کو طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
حوثیوں کے حملوں کے بعد یہ پوچھے جانے پر کہ آیا دفاعی معاہدہ فعال کیا جا سکتا ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ معاہدے کی شرائط میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے۔ یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی بلااشتعال جارحیت یا سعودی عرب تک کسی بھی قسم کی توسیع کی صورت میں یقیناً یہ معاہدہ فعال ہو جائے گا، اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اس معاہدے کی شرائط و ضوابط کے پابند ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہم ان کی پاسداری کریں گے۔‘‘
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کوئی رابطہ ہوا ہے، وزیر دفاع نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کسی رابطے سے واقف نہیں ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان ردعمل دے گا کیونکہ معاہدے کے تحت جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاع اور اجتماعی معاونت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ’’جارحانہ نوعیت کا نہیں‘‘ ہے۔ ان کے بقول، ’’اگر کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو تینوں رکن ممالک مل کر اس کا جواب دیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ سہ فریقی معاہدہ ہے، لیکن اگر یہ دو طرفہ بھی ہوتا تب بھی ہم جواب دیتے۔‘‘
تاہم، خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ صورتحال بالآخر ’’قابو میں آ جائے گی اور ختم ہو جائے گی۔‘‘
انہوں نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے داخلی تنازع کو سعودی عرب تک پھیلانے کے نتائج پر غور کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’انہیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے حوثیوں کو ’’غیر ریاستی عناصر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کی حکومت نے ان کے حملوں کا جواب دیا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا، ’’مسلم دنیا میں ایران کے لیے ہمدردی موجود ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن غیر ریاستی عناصر کی جانب سے دو طرفہ تنازع سے فائدہ اٹھانا، میرے خیال میں، وہ اپنے لیے خطرہ مول لے رہے ہیں۔‘‘
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک مؤثر بازدار قوت کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تینوں ممالک کے لیے ضروری نہیں کہ وہ جارحیت کا جواب لازماً جارحیت سے دیں، تاہم تینوں ممالک نے اپنی مشترکہ طاقت کا مظاہرہ ضرور کیا ہے۔
خواجہ آصف نے یاد دلایا کہ یمن میں جنگ 2014 سے جاری ہے اور وہ اسی سال وزیر دفاع کی حیثیت سے یمن کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اس وقت بھی ہم نے سعودی عرب کی مدد کی تھی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اور سعودی سرزمین کی ’’حرمت‘‘ کے پیش نظر اسلام آباد مشکل وقت میں مملکت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے خیال میں سفارتی ذرائع ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں یہ امید نہیں چھوڑوں گا کہ عمل ختم ہو گیا ہے یا تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ تعطل ضرور ہے، لیکن میں کہوں گا کہ صورتحال اس سے بہتر ہے۔‘‘
انہوں نے جسے ’’بالواسطہ رابطہ‘‘ قرار دیا، اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد جنگ کے دونوں فریقوں کے ساتھ اپنے ’’برادرانہ تعلقات‘‘ کے باعث ایک نازک توازن برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔
حوثیوں نے منگل کے روز دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کے چار شہروں کو نشانہ بنایا، جس میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور تیل کی تنصیبات میں آگ لگ گئی۔
گروپ نے کہا کہ اس نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے، جن میں ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کنگ خالد ایئر بیس اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بعد ازاں ریاض نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تعز اور مأرب صوبوں کے بعض علاقوں اور صنعا کے مشرق میں واقع جوبہ ضلع پر فضائی حملے کیے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ’’تمام ضروری اقدامات‘‘ کرے گی۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے لیے پاکستان کی ’’غیر متزلزل یکجہتی‘‘ کا یقین دلایا۔
انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’اس طرح کے بزدلانہ حملے بے گناہ لوگوں کی جانوں کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ ہم مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی ثابت قدم حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘‘
پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’قابل مذمت‘‘ قرار دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا: یونیسیف
اسلام آباد، پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک شکل کا سامنا کرنا پڑا، جس سے تقریباً 15 لاکھ بچے متاثر ہوئے۔ یہ بات یونیسیف کی حمایت سے تیار کی گئی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
یہ نتائج اسلام آباد میں ’’ڈس رپٹنگ ہارم اِن پاکستان: ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے شواہد‘‘ کے عنوان سے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر جاری کیے گئے۔ یہ مطالعہ یونیسیف آفس آف اسٹریٹیجی اینڈ ایویڈنس – انوسینٹی، ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل اور انٹرپول نے سیف آن لائن کی مالی معاونت سے کیا۔
تحقیق میں ملک بھر کے نمائندہ سروے کے ذریعے بچوں اور ان کے والدین و نگہداشت کرنے والوں سے معلومات حاصل کی گئیں، فرنٹ لائن اور انصاف کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے انٹرویوز کیے گئے، جبکہ پاکستان کے قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ بھی لیا گیا تاکہ ملک میں ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کی نوعیت اور پیمانے کا اندازہ لگایا جاسکے۔
رپورٹ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی بدسلوکی کی متعدد اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں ناپسندیدہ جنسی تصاویر یا گفتگو، نجی تصاویر طلب کرنا، بچوں کی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر شیئر کرنا، جنسی بلیک میلنگ اور دھمکیاں، جبکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ جعلی جنسی تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ بدسلوکی کی روک تھام اور مجرموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جواب دہ بنانے کے لیے مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں بچوں سے صرف خطرات سے بچنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے ایسے مضبوط نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو بدسلوکی کو روکیں اور مجرموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جواب دہ بنائیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے واقعات اکثر پوشیدہ رہتے ہیں۔ ایسے واقعات کا سامنا کرنے والے نصف سے زیادہ بچوں نے کسی کو اس بارے میں نہیں بتایا، جبکہ سروے میں شامل کسی بھی بچے نے ہیلپ لائن، سماجی کارکن یا پولیس جیسے باضابطہ ذرائع سے واقعے کی اطلاع نہیں دی۔
محققین نے اس خاموشی کی بعض وجوہات میں معاشرتی بدنامی، متاثرہ فرد کو ہی قصوروار ٹھہرانے کے رجحان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کی کمی کو قرار دیا۔ رپورٹ میں ایسے محفوظ، خفیہ اور آسانی سے قابل رسائی نظام قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے جن کے ذریعے بچے مدد اور تحفظ حاصل کرسکیں۔
ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل کے پروگرام برائے انصاف و بچوں کے حقوق کے سربراہ اینڈریا وریلا نے کہا کہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں لڑکیوں اور لڑکوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال اور بدسلوکی کا سامنا تقریباً یکساں شرح سے ہوتا ہے، تاہم ان کے تجربات نمایاں طور پر مختلف ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’لڑکوں کے معاملے میں معاشرتی بدنامی اور مردانگی سے متعلق توقعات کے باعث انہیں متاثرین کے طور پر نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور جو کچھ ان کے ساتھ ہوا، اس کے بارے میں بات کرنے سے ان کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ لڑکوں کے منفرد تجربات کو تسلیم کرنا اور ان کے مطابق اقدامات کرنا مؤثر تحفظِ اطفال کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
رپورٹ کی ایک اہم دریافت اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کا بنیادی خطرہ صرف ’’اجنبی افراد‘‘ سے ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بچوں کی جانب سے بیان کیے گئے 85 فیصد واقعات میں مبینہ مرتکب شخص وہ تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا۔ اس سے آن لائن بدسلوکی کو بنیادی طور پر ’’اجنبی سے خطرے‘‘ کا مسئلہ سمجھنے کے تصور کو چیلنج ملتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر6 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر6 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
ہندوستان1 week agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoنمبر پلیٹ ماسکنگ کے خلاف کشمیر پولیس کی کارروائی، 10 دن میں 150 سے زائد گاڑیاں ضبط
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
دنیا1 week agoپوتن اور مودی نے ہندوستان کو ایس-400 فضائی دفاعی میزائل نظام کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا
