تازہ ترین
،1965اور1971میں پاکستان چلے جانے والوں کی ’غیرمنقولہ جائیداد‘کونیلام کرنے کاسلسلہ شروع
مرکزی حکومت کو کم از کم ایک لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی متوقع
سری نگر:۳۱،فروری:مرکزی حکومت کی 1947،1965اور1971میں ملک چھوڑ کرچلے جانے والوں کی بھارت میں موجود ’غیرمنقولہ جائیداد‘کونیلام کرنے کے ایک منصوبے پرعمل درآمدشروع کردیاہے۔خیال رہے بھارت سرکار نے برصغیر کی تقسیم نیز1965اور1971میں ہوئی جنگوں کے دوران پاکستان چلے جانے والے افراد کی غیر ملکی املاک یعنی زمینوں اورمکانات کوپہلے ہی ’دشمن کی املاک‘کے بطوراپنی تحویل میں لے لیاہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مرکزی حکومت نے ملک میں موجود اُن کئی زمینوں اور مکانات کی نیلامی کا پہلا راؤنڈ شروع کر دیا ہے جن کو دہائیاں قبل ’دشمنوں کی املاک‘ قراردیاگیاہے۔میڈیارپورٹ میں مرکزی وزارتِ داخلہ کے ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ غیر متنازع املاک کی فہرست سب سے پہلے مغربی بنگال میں تیار کر کے اُنھیں نیلام کیا جائے گا۔3 سال قبل پارلیمان میں ایک قانونی ترمیم کے ذریعے ان ’دشمن املاک پر وراثت کے حقوق‘ بھی گھٹا دئیے گئے تھے۔بی بی سی اُردوسروس کی ایک نیوزرپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے مزیدجانکاری دی گئی ہے کہ اگر یہ ’آزمائشی منصوبہ‘ کامیاب ہوتا ہے تو یہی مرحلہ دیگر ریاستوں میں بھی دہرایا جائے گا۔ وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست اتر پردیش میں ملک بھر میں ایسے افرادکی سب سے زیادہ املاک ہیں،جو1947،1965اور1971میں ملک چھوڑ کرپاکستان چلے گئے اورپھروہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔اُترپردیش کے بعد سب سے زیادہ ’دشمن املاک‘ مغربی بنگال میں ہیں جن کی تعداد 2735بتائی جاتی ہے۔بتایاجاتاہے کہ تقسیم ملک اور2جنگوں کے دوران پاکستان جانے والے کنبوں کی غیرمنقولہ جائیدادیعنی املاک کی نیلامی سے مرکزی حکومت کو کم از کم ایک لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے۔اُدھردشمن املاک پر پارلیمانی بحث کے دوران مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے لوک سبھا کے رکن سواگت رائے نے کہا ’پورے ملک میں سب سے زیادہ دشمن املاک محمودآباد کے راجہ کی تھیں‘۔اور’جب ان کے بیٹے پاکستان سے واپس آکر بھارتی شہریت لی اور اپنی ان املاک کے حصول کے لئے سپریم کورٹ گئے تو حکومت کے لئے خطرہ تھا‘۔انہوں نے کہاکہ ’اور اگر انھیں ہزاروں کروڑ روپے کی املاک واپس مل جاتیں اور اگر لکھنؤ کے مرکزی تجارتی علاقے حضرت گنج میں واقع تمام دکانوں کے کرائے داروں کو نکالا جاتا تو خانہ جنگی ہوجاتی‘۔اسی صورتحال سے بچنے کیلئے نریندر مودی کی حکومت نے کئی سال قبل دشمن املاک کے قوانین کو تبدیل کر دیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق نئے قوانین کے مطابق اگر حکومت کسی دشمن ملکیت کو تحویل میں لے لے تو اس کے دعویداروں کے پاس اپیل کرنے کیلئے صرف2 ماہ ہوں گے اور اسے براہِ راست ہائی کورٹ میں دائر کیا جائے گا۔مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے گذشتہ ماہ ملک بھر میں موجود کئی ہزار ایسی املاک کی نیلامی کے لئے ایک پینل بھی تشکیل دیا تھا اور اس منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے مغربی بنگال کو چنا گیا ہے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے لیفٹیننٹ گورنر نے سانکو ضلع کے قیام کا اعلان کیا
