تازہ ترین
ناقص ٹریفک نظام سے لوگوں کا جینا دو بھر: سورج غروب ہونے کے بعد گاڑیاں ہو جاتی ہے غائب
سرینگر/13فروری /جے کے این ایس ناقص ٹریفک نظام کے باعث و ادی کے لوگوں کو شدید مصائب ومشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے جبکہ مسافروں کا الزام ہے کہ حکام کی نوٹس میں بار بار ٹریفک جام، ناقص ٹریفک نظام کے بارے میں آگاہ کیا گیا تاہم انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔اس دوران پوری وادی میں ٹریفک جام، لوگوں کے چلنے پھرنے میں مشکلات پید اہو گئے ہیں جبکہ کسی بھی قصبے یا بڑے شہرؤں میں چھوٹی مسافر بردار گاڑیوں کیلئے سٹینڈ دستیاب نہ ہونے کے باعث مسافروں کو شدید عذاب سے گزرنا پڑ رہا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ کی بنیادیں اس قدر کھوکھلی ہو چکی ہیں کہ یہ کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتا ہے اور اس محکمہ کی کارکردگی میں نکھار لانے کیلئے نئی روح نہیں پھونکی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وادی کے مسافروں کو شدید عذاب سے گزرناپڑرہا ہے۔ مسافروں کا الزام ہے کہ ناقص ٹریفک نظام کے باعث نہ صرف وادی کے مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے بلکہ چھوٹی مسافر بردار گاڑیوں کے مالکان کا یہ ماننا ہے کہ انہیں وادی کشمیر کے کسی بھی قصبے یا شہرؤں میں سٹینڈ دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا نام آوارہ رکھا ہے اور آوارگی کے حالت میں سڑکوں پر گھوم رہے ہیں جس کے نتیجے میں مسافروں کو بے حد تکلیفوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ ان مسافروں کا کہنا ہے”شہر سرینگر میں اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پانتھ چوک کے نزدیک ایک بس اسٹینڈ قائم کیا گیا ہے اور بتہ مالو میں ایک جبکہ 407، ٹاٹا گاڑیوں، مزدا، ٹاٹا سومو، آٹو رکشاؤں اور دوسری چھوٹی مسافر بردار گاڑیوں کیلئے کسی بھی جگہ سٹینڈ دستیاب نہیں ہیں“۔ان کا کہنا ہے کہ آئے دن چھوٹی مسافر بردار گاڑیوں کیلئے بے تحاشہ پرمٹ اجرا کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک دباو میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور ٹریفک جام ہونے کے باعث راہ چلتے لوگوں کا چلنا پھرنا مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ حاد ثات بھی رونما ہو تے ہیں۔مسافروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے میں اگر چہ حکومت نے بار بار یقین دلایا کہ کشمیر میں مضبوط مستحکم ٹرانسپورٹ پالیسی اختیار کی جائے گی تاکہ وادی کے مسافروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے،تاہم 6برس گزر گئے ٹرانسپورٹ محکمہ اب بھی نہیں جاگ رہا ہے بلکہ آئے دن غیر قانونی حرکات رونما ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کے لئے عذاب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ ٹریفک قوانین کی بھی دھجیاں اڑائی جار ہی ہیں۔ کسی بھی قصبے یا شہر میں سٹینڈوں کے قیام کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے جار ہے ہیں بلکہ مسافر بردار گاڑیوں کو اپنے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں ہر طرف سے بہتر حالات کے وعدئے اور دعوئے کئے جار ہے ہیں بہتر حالات کا موازنہ اس سے اور کیا ہو سکتا ہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی وادی کی سڑکوں سے مسافر بردار گاڑیاں گدھے کے سر کے سینگ کی طرح غائب ہو جاتی ہیں اور دور دراز علاقے کے مسافروں کو شدیدمشکلات سے دوچار ہوناپڑتا ہے۔ کشمیر وادی میں بہتر ٹرانسپورٹ پالیسی کیلئے کب اقدامات اٹھائے جائینگے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے اور یہ بات یقینی لگ رہی ہے کہ ٹرانسپورٹ محکمہ کی بنیادیں پوری طرح سے کھوکھلی ہو چکی ہیں رشوت خوری، بد عنوانیوں، لاپروائیوں، بے ضابطگیوں کی وجہ سے اس محکمہ کی کارکردگی کو زنگ لگ گیا ہے جس کا خمیازہ یہاں کے لوگوں کو بھگتنے پر مجبور ہوناپڑرہا ہے۔
بجلی صارفین کو ایمنسٹی دینے کا مطالبہ
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
تہران، صدرِایران مسعود پزیشکیان نے اپنے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات کا سرکاری ٹیلی ویژن پر جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں کی گئی بات چیت میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ‘معاہدہ شدہ نقشے کی بنیاد پر’ دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا، ‘موجودہ مذاکراتی عمل میں ہرمز کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس روڈ میپ کو ایران کے رہنما آیت اللہ مُجتَبٰی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قوتیں اور مذاکراتی ٹیم میں شامل ہمارے بھائیوں نے بھی اسے منظور کیا۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘اگر یہ راہداری اسی دائرہ کار کے تحت کھولا جائے تو امریکہ کو بھی اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو بحری محاصرے اور پابندیوں کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا اور اسرائیل پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان میں اپنے اقدامات روک دے۔
پزیشکیان نے کہا، ‘آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل اسلام آباد مفاہمت نامہ میں بیان کردہ اور مخالف فریقین کے قبول کردہ دائرہ کار کے مطابق ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔’
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا، ‘ہمیں اپنے محبوب اور شہید سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات کی بنیاد پر سفارتکاری کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہیے، اگرچہ ان تعلقات میں ہم آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘ایران کے زیادہ تر ہمسائے اسلامی ممالک ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ایک مشترکہ زبان تلاش کرنی چاہیے، اور خطے کی سلامتی کو مل کر یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بات چیت اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔ ہم پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے زمین تیار ہے، ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
