تازہ ترین
کرونا وائرس: بھارت میں حکومتی و عوامی ترجیحات تبدیل
بھارت بھی اس وقت دیگر ممالک کی طرح مختلف سطح پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مصروف ہے۔ ملک بھر میں ہنگامی حالات ہیں جب کہ اکثر ریاستوں اور شہروں میں لاک ڈاون کر دیا گیا ہے۔ کئی ریاستوں میں کرفیو بھی نافذ ہے۔
کرونا وائرس نے سیاسی، سماجی، تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی تمام قسم کی سرگرمیوں کا محور تبدیل کر دیا ہے جب کہ ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔
اس وبا کی بھارت آمد سے قبل مختلف معاملات میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان رسہ کشی جاری تھی۔ خاص طور پر اقتصادی محاذ پر حکومت بہت زیادہ مصروف تھی۔ اقتصادی شرح نمو میں گرواٹ سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے تھے۔
حزب اختلاف کی جانب سے حکومت پر مسلسل تنقید کی جا رہی تھی۔ دہلی میں حال ہی میں ہونے والے فسادات کی وجہ سے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت ہدف تنقید تھی۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کسی نہ کسی معاملے پر نوک جھونک بھی چل رہی تھی۔
حکومت کی جانب سے آبادی کے رجسٹر نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) پر یکم اپریل سے کام شروع ہونے والا تھا۔ حکومت نے اس سلسلے میں جو طریقہ کار وضع کیا ہے اس پر حزب اختلاف شدید نکتہ چینی کر رہی تھی جب کہ سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے اعلان کیا جا رہا تھا کہ وہ این پی آر کا بائیکاٹ کریں گی۔
سی طرح شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے معاملے پر حکومت پر نکتہ چینی کی جا رہی تھی۔ سی اے اے کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں نکالی جا رہی تھیں اور مظاہرے ہو رہے تھے۔
جنوبی دہلی کے شاہین باغ میں 15 دسمبر سے سی اے اے کے خلاف خواتین کا دھرنا جاری تھا۔ شاہین باغ کا دھرنا سی اے اے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گیا تھا۔
کرونا وائرس کے طوفان سے کیسے نمٹا جائے
کرونا وائرس کا طوفان کیا آیا کہ سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ اب نہ صرف حکومت بلکہ حزب اختلاف کی جماعتوں اور عوام کی بھی بس ایک ہی ترجیح ہے اور وہ یہ ہے کہ کرونا وائرس کے طوفان سے کیسے نمٹا جائے اور جو تباہی سروں پر منڈلا رہی ہے اس سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔
تجزیہ کار پرتاپ سوم ونشی وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کے عذاب سے قبل بھی بھارت میں اقتصادی بدحالی تھی لیکن اس وبا کے ساتھ اس بدحالی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ان کے بقول پوری دنیا کا بازار مندی کا شکار ہے۔ اسی لیے بھارت پر بھی اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔ یہاں حکومت کو کرونا وائرس کے ساتھ ساتھ اقتصادی بدحالی سے بھی نمٹنا ہے۔
معاشی پیکج کا اعلان متوقع
پرتاپ سوم ونشی نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی تاریخ 30 جون تک بڑھا دی ہے۔ اس کے علاوہ تمام تجارتی و مالیاتی لین دین پر بینک چارجز کم کر دیے گئے ہیں۔ اے ٹی ایم سے تین ماہ تک بغیر کوئی چارج دیے پیسے نکالے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اقتصادی حالات کو سنبھالنے کے لیے جلد معاشی پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔
حکومت کی تیاری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومت وبائی مرض سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسی لیے اس نے خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں پازیٹیو کیسیز پائے گئے ہیں، لاک ڈاون کر دیا ہے۔
‘عوام میں ابھی بھی شعور پیدا نہیں ہوا’
حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کے مجموعی رویے کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ عوام میں ابھی وہ شعور پیدا نہیں ہوا ہے جس کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ حکومت کے اقدامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ایک روز قبل 900 افراد کے خلاف کاررروائی کی گئی ہے۔
ایک اور سینئر تجزیہ کار انجم نعیم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کرونا وائرس نے حکومتی و عوامی سطح پر ترجیحات بدل دی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خود حکومت نے اپنے بہت سے کام موخر کر دیے ہیں۔
‘سی اے اے اور این پی آر معطل کر دیے جائیں گے’
وہ خاص طور پر سی اے اے اور این پی آر کا نام لے کر کہتے ہیں کہ ابھی ان کو موخر کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا لیکن حکومت جس طرح سے کرونا وائرس سے مقابلے کے لیے جتن کر رہی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مذکورہ سرگرمیاں معطل کر دے گی۔
سینئر تجزیہ کار انجم نعیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی تبدیلیاں آئی ہیں اور عوام کے ایک بڑے طبقے کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں کی جو مخالفت کی جا رہی تھے اسے فی الحال روک دیا گیا ہے اور سب مل کر اس تباہی کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ملک میں تقریباً 200 مقامات پر سی اے اے کے خلاف خواتین دھرنے پر بیٹھی ہوئی تھیں لیکن اب زیادہ تر اٹھ گئی ہیں یا پولیس کی جانب سے اٹھا دی گئی ہیں۔ خود شاہین باغ کا مظاہرہ جو کہ ایسے مظاہروں کی ایک علامت بن گیا تھا، آج پولیس کی جانب سے جبراً ہٹا دیا گیا ہے۔
‘خواتین نے کرونا وائرس کی وجہ سے شاہین باغ جانا چھوڑ دیا تھا’
دھرنے کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ مختلف طبقات سمیت سیاسی، سماجی، مذہبی اور فلمی شخصیات کی جانب سے وہاں بیٹھے لوگوں کی صحت کے پیش نظر شاہین باغ کے دھرنے کو ختم کرنے کی اپیل کی جا رہی تھی۔ خود شاہین باغ کے مظاہرین کی تعداد گھٹ گئی تھی۔ خواتین نے کرونا وائرس کی وجہ سے وہاں جانا چھوڑ دیا تھا۔
انجم نعیم کے خیال میں اب ان دھرنوں کو ہٹایا جا رہا ہے تو حکومت کو اپنے اوپر کی جا رہی نکتہ چینی سے عارضی طور پر نجات مل گئی ہے۔
ان کا یہ بھی خیال ہے کہ حکومت ان مظاہروں سے بہت زیادہ پریشان تھی لیکن اب اس کو اس محاذ پر راحت کا موقع نصیب ہوا ہے۔
باجماعت نماز ادا کرنے سے گریز کیا جائے: جماعت اسلامی ہند
دوسری جانب جماعت اسلامی ہند کی شرعیہ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنے سے گریز کیا جائے۔ گھر ہی پر نماز ادا کی جائے۔ مسجد میں اذان تو ہو مگر دو تین لوگ ہی جماعت کا اہتمام کریں۔
ملک کی مختلف مساجد کی جانب سے بھی یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ لوگ مسجدوں میں کم آئیں۔ جو آئیں بھی وہ وضو گھر سے کرکے سنت ادا کرکے صرف فرض نماز کی ادائیگی کے لیے آئیں۔ جمعے کی نماز میں بھی اس طرح کا اہتمام کیا جائے۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
