تازہ ترین
کرونا وائرس: بھارت میں حکومتی و عوامی ترجیحات تبدیل
بھارت بھی اس وقت دیگر ممالک کی طرح مختلف سطح پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مصروف ہے۔ ملک بھر میں ہنگامی حالات ہیں جب کہ اکثر ریاستوں اور شہروں میں لاک ڈاون کر دیا گیا ہے۔ کئی ریاستوں میں کرفیو بھی نافذ ہے۔
کرونا وائرس نے سیاسی، سماجی، تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی تمام قسم کی سرگرمیوں کا محور تبدیل کر دیا ہے جب کہ ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔
اس وبا کی بھارت آمد سے قبل مختلف معاملات میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان رسہ کشی جاری تھی۔ خاص طور پر اقتصادی محاذ پر حکومت بہت زیادہ مصروف تھی۔ اقتصادی شرح نمو میں گرواٹ سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے تھے۔
حزب اختلاف کی جانب سے حکومت پر مسلسل تنقید کی جا رہی تھی۔ دہلی میں حال ہی میں ہونے والے فسادات کی وجہ سے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت ہدف تنقید تھی۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کسی نہ کسی معاملے پر نوک جھونک بھی چل رہی تھی۔
حکومت کی جانب سے آبادی کے رجسٹر نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) پر یکم اپریل سے کام شروع ہونے والا تھا۔ حکومت نے اس سلسلے میں جو طریقہ کار وضع کیا ہے اس پر حزب اختلاف شدید نکتہ چینی کر رہی تھی جب کہ سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے اعلان کیا جا رہا تھا کہ وہ این پی آر کا بائیکاٹ کریں گی۔
سی طرح شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے معاملے پر حکومت پر نکتہ چینی کی جا رہی تھی۔ سی اے اے کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں نکالی جا رہی تھیں اور مظاہرے ہو رہے تھے۔
جنوبی دہلی کے شاہین باغ میں 15 دسمبر سے سی اے اے کے خلاف خواتین کا دھرنا جاری تھا۔ شاہین باغ کا دھرنا سی اے اے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گیا تھا۔
کرونا وائرس کے طوفان سے کیسے نمٹا جائے
کرونا وائرس کا طوفان کیا آیا کہ سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ اب نہ صرف حکومت بلکہ حزب اختلاف کی جماعتوں اور عوام کی بھی بس ایک ہی ترجیح ہے اور وہ یہ ہے کہ کرونا وائرس کے طوفان سے کیسے نمٹا جائے اور جو تباہی سروں پر منڈلا رہی ہے اس سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔
تجزیہ کار پرتاپ سوم ونشی وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کے عذاب سے قبل بھی بھارت میں اقتصادی بدحالی تھی لیکن اس وبا کے ساتھ اس بدحالی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ان کے بقول پوری دنیا کا بازار مندی کا شکار ہے۔ اسی لیے بھارت پر بھی اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔ یہاں حکومت کو کرونا وائرس کے ساتھ ساتھ اقتصادی بدحالی سے بھی نمٹنا ہے۔
معاشی پیکج کا اعلان متوقع
پرتاپ سوم ونشی نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی تاریخ 30 جون تک بڑھا دی ہے۔ اس کے علاوہ تمام تجارتی و مالیاتی لین دین پر بینک چارجز کم کر دیے گئے ہیں۔ اے ٹی ایم سے تین ماہ تک بغیر کوئی چارج دیے پیسے نکالے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اقتصادی حالات کو سنبھالنے کے لیے جلد معاشی پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔
حکومت کی تیاری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومت وبائی مرض سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسی لیے اس نے خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں پازیٹیو کیسیز پائے گئے ہیں، لاک ڈاون کر دیا ہے۔
‘عوام میں ابھی بھی شعور پیدا نہیں ہوا’
حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کے مجموعی رویے کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ عوام میں ابھی وہ شعور پیدا نہیں ہوا ہے جس کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ حکومت کے اقدامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ایک روز قبل 900 افراد کے خلاف کاررروائی کی گئی ہے۔
ایک اور سینئر تجزیہ کار انجم نعیم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کرونا وائرس نے حکومتی و عوامی سطح پر ترجیحات بدل دی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خود حکومت نے اپنے بہت سے کام موخر کر دیے ہیں۔
‘سی اے اے اور این پی آر معطل کر دیے جائیں گے’
وہ خاص طور پر سی اے اے اور این پی آر کا نام لے کر کہتے ہیں کہ ابھی ان کو موخر کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا لیکن حکومت جس طرح سے کرونا وائرس سے مقابلے کے لیے جتن کر رہی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مذکورہ سرگرمیاں معطل کر دے گی۔
سینئر تجزیہ کار انجم نعیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی تبدیلیاں آئی ہیں اور عوام کے ایک بڑے طبقے کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں کی جو مخالفت کی جا رہی تھے اسے فی الحال روک دیا گیا ہے اور سب مل کر اس تباہی کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ملک میں تقریباً 200 مقامات پر سی اے اے کے خلاف خواتین دھرنے پر بیٹھی ہوئی تھیں لیکن اب زیادہ تر اٹھ گئی ہیں یا پولیس کی جانب سے اٹھا دی گئی ہیں۔ خود شاہین باغ کا مظاہرہ جو کہ ایسے مظاہروں کی ایک علامت بن گیا تھا، آج پولیس کی جانب سے جبراً ہٹا دیا گیا ہے۔
‘خواتین نے کرونا وائرس کی وجہ سے شاہین باغ جانا چھوڑ دیا تھا’
دھرنے کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ مختلف طبقات سمیت سیاسی، سماجی، مذہبی اور فلمی شخصیات کی جانب سے وہاں بیٹھے لوگوں کی صحت کے پیش نظر شاہین باغ کے دھرنے کو ختم کرنے کی اپیل کی جا رہی تھی۔ خود شاہین باغ کے مظاہرین کی تعداد گھٹ گئی تھی۔ خواتین نے کرونا وائرس کی وجہ سے وہاں جانا چھوڑ دیا تھا۔
انجم نعیم کے خیال میں اب ان دھرنوں کو ہٹایا جا رہا ہے تو حکومت کو اپنے اوپر کی جا رہی نکتہ چینی سے عارضی طور پر نجات مل گئی ہے۔
ان کا یہ بھی خیال ہے کہ حکومت ان مظاہروں سے بہت زیادہ پریشان تھی لیکن اب اس کو اس محاذ پر راحت کا موقع نصیب ہوا ہے۔
باجماعت نماز ادا کرنے سے گریز کیا جائے: جماعت اسلامی ہند
دوسری جانب جماعت اسلامی ہند کی شرعیہ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنے سے گریز کیا جائے۔ گھر ہی پر نماز ادا کی جائے۔ مسجد میں اذان تو ہو مگر دو تین لوگ ہی جماعت کا اہتمام کریں۔
ملک کی مختلف مساجد کی جانب سے بھی یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ لوگ مسجدوں میں کم آئیں۔ جو آئیں بھی وہ وضو گھر سے کرکے سنت ادا کرکے صرف فرض نماز کی ادائیگی کے لیے آئیں۔ جمعے کی نماز میں بھی اس طرح کا اہتمام کیا جائے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان4 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
