تازہ ترین
کورونا وائرس: رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے؟
کورونا وائرس کے باعث جہاں ملک بھر میں لاک ڈاؤن اور پابندیاں لگائی گئی ہیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود کیا گیا ہے وہیں کچھ ایسے شعبے بھی ہیں جس سے وابستہ لوگ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
انہی شعبوں میں ایک شعبہ ذرائع ابلاغ کا بھی ہیں جہاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات فرائض کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں، کچھ صحافی رپورٹنگ کے ذریعے معلومات فراہم کر رہے ہیں تو بہت سے ایسے صحافی بھی ہیں جو گھروں سے کام کے ذریعے عوام تک بروقت معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
انہیں صحافیوں خاص طور پر رپورٹنگ کے فرائض انجام دینے والوں کو اس عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے، اس سلسلے میں سینٹر فار ایکسی لینس ان جرنلزم (سی ای اے) کی جانب سے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے تعاون سے کچھ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ان ہدایات کو کچھ اقسام میں تبدیل کیا گیا ہے، جس میں ایک اپنا خیال رکھیں، کورونا سے متعلق آگہی، مصدقہ رپورٹنگ، مثبت رویوں کے فروغ کیلئے رپورٹنگ، طبی عملے اور زیر علاج افراد کے احترام کا لحاظ شامل ہے۔
کورونا وائرس کی اس عالمی وبا کے دوران رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے ہدایات دی گئی کہ وہ باہر نکلتے وقت یا لوگوں سے ملتے وقت ماسک ضرور پہنیں، اس کے علاوہ جتنا ممکن ہوسکے ہاتھ دھوتے رہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی ہدایت دی گئی کہ لوگوں سے ملتے وقت کم سے کم بھی ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں اور اپنے موبائل فون میں کورونا ہیلپ لائن نمبر، محکمہ صحت کے مختص ترجمان کا نمبر، معالج کا نمبر اور اس قریبی شخص کا نمبر رکھیں جس سے ہنگامی صورتحال میں رابطہ کیا جاسکے۔
ساتھ ہی اپنا خیال رکھیں کٹیگری میں جن باتوں کو گریز کرنے سے کہا گیا ہے آنکھ اور ناک یا چہرے کے دوسرے کسی حصے کو چھونے سے گریز کریں، اجتماعات اور مجمع میں لوگوں کے قریب نہ جائیں اور ان نمبرز کو محفوظ رکھنا نہ بھولیں۔
کورونا سے متعلق جن آگہی کے بارے میں ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے ان میں کورونا وائرس کی صورت میں پھیلنے والی نئی بیماری سے متعلق لوگوں تک معلومات پہنچانا شامل ہے۔
اس کے علاوہ ان لوگوں کو موضوع بحث بنائیں جو کورونا سے متاثر ہوئے ہیں، اس کے ساتھ انہیں بھی اسی طرح موضوع بحث بنائیں جو ممکنہ طور پر وائرس یا وبا سے متعلق مفروضات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
مذکورہ ہدایات میں کہا گیا کہ ان لوگوں کے حوالے سے بات کریں جو کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں یا پھر جانبر ہوئے ہیں۔
سی ای جے نے اپنی ہدایات میں کورونا وائرس کی نسب کسی قوم یا خاص مقام کی طرف کرنے سے گریز کرنے کا کہا ہے، ساتھ ہی بتایا گیا کہ اس بیماری کو کووڈ 19 کا نام اس لیے دیا گیا تاکہ اسے کسی قوم، قبیلے یا مقام سے نہ جوڑا جائے۔
ساتھ ہی اس وائرس کے کوڈ کووڈ 19 کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں co سے مراد کورونا، vi سے مراد وائرس، d سے مراد ڈیزیس (بیماری) ہے جبکہ 19 کا ہندسہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بیماری 2019 میں سامنے آئی۔
کورونا وائرس سے متعلق یہ جن باتوں میں احتیاط برتنے کو کہا گیا ہے وہ شبہ کی بنیاد پر کسی کیس کو موضوع بحث بنانا ہے، ساتھ ہی کہا گیا کہ اس بیماری کو کسی جرم یا غیر انسانی اقدام کے طور پر پیش کرنے سے گریز کریں۔
رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بیماری کے علاج کی دریافت کو مرکزی موضوع نہ بنائیں، اس طرح متاثرہ افراد مایوس ہوسکتے ہیں۔
سی ای اے جے مصدقہ رپورٹنگ سے متعلق یہ ہدایات جاری کیں کہ لوگوں کو سائنسی اعداد و شمار اور حکام کی طرف سے آنے والی تجاویز کی روشنی میں کورونا کی سنگینی کے بارے میں بتائیں، اس کے علاوہ کسی بھی تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے وقت احتیاط برتیں اور اس بات کو دیکھ لیں کہ یہ رپورٹ معتبر علمی اور تحقیقی اداروں کی توثیق سے شائع ہوئی یا نہیں۔
مزید برآں حکام یا صحت کی سہولیات سے متعلق مصدقہ اطلاعات آگے پہنچانے کی ہدایت کی گئی۔
تاہم جن چیزوں سے احتیاط کرنے کو کہا گیا ہے اس میں غیرمصدقہ اطلاعات کو دہرانے اور پھیلانے سے گریز کرنے، غیر معتبر اداروں اور افواہ ساز حلقوں کی جاری کردہ معلومات کو بطور حوالہ پیش کرنا شامل ہے۔
علاوہ ازیں محکمہ صحت کے ذمہ داران اور تشخیصی سہولت کے حوالے سے غیرذمہ دارانہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مذکورہ ہدایات میں کہا گیا کہ کورونا سے متعلق بات کرتے وقت مثبت انداز کو اختیار کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے ہدایات کتنی ضروری ہیں جبکہ ایسی تصاویر کا بھی استعمال کیا جائے جو کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کو آسانی سے بیان کرسکتی ہوں۔
تاہم منفی طرز عمل اختیار کرنے کسی کو دھمکی دینے سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے ساتھ ہی صحافیوں کو دوا اور ویکسین کے حصول کے لیے زور دینے سے گریز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
مزید یہ کہ رپورٹنگ پر موجود افراد کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی تصاویر شیئر نہ کریں جو غلط رہنمائی یا غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہوں۔
سی ای جے کی جانب سے صحافیوں کو کہا ہے کہ وہ طبی عملے اور زیر علاج افراد کا احترام کرتے ہوئے مریض اور اس کے تیمار داروں کی راز داری کا خیال کریں۔
اس کے علاوہ اپنے رویے اور روابط کے ذریعے لوگوں میں یہ احساس اجاگر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس سے طبی عملی کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
ساتھ ہی رپورٹرز کو اطلاعات و معلومات کے لیے ہسپتال یا محکمہ صحت کی طرف سے متعین کردہ ذمہ دار سے رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے۔
صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مریض اور ان کے تیمار داروں کی رضا مندی کے بغیر کوئی خبر نشر کرنے سے اجتناب کریں اور طبی عملے کی اہم سرگرمیوں کو بے بنیاد خبروں سے متاثر نہ کریں۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں ہزاروں اموات کا باعث بننے والا مہلک کورونا وائرس پاکستان میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک ماہ کے دوران یہاں کیسز کی تعداد 1100 سے تجاوز کرگئی۔
26 فروری 2020 کو پاکستان میں وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور آج ایک ماہ مکمل ہونے تک ملک میں کورونا وائرس کے مزید 40 نئے کیسز سامنے آنے سے تعداد 1118 ہوگئی ہے۔
اس عالمی وبا نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی ہے اور 21 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 4 لاکھ 74 ہزار سے زائد متاثر ہوچکے ہیں۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
