تازہ ترین
کورونا وائرس: رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے؟
کورونا وائرس کے باعث جہاں ملک بھر میں لاک ڈاؤن اور پابندیاں لگائی گئی ہیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود کیا گیا ہے وہیں کچھ ایسے شعبے بھی ہیں جس سے وابستہ لوگ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
انہی شعبوں میں ایک شعبہ ذرائع ابلاغ کا بھی ہیں جہاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات فرائض کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں، کچھ صحافی رپورٹنگ کے ذریعے معلومات فراہم کر رہے ہیں تو بہت سے ایسے صحافی بھی ہیں جو گھروں سے کام کے ذریعے عوام تک بروقت معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
انہیں صحافیوں خاص طور پر رپورٹنگ کے فرائض انجام دینے والوں کو اس عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے، اس سلسلے میں سینٹر فار ایکسی لینس ان جرنلزم (سی ای اے) کی جانب سے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے تعاون سے کچھ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ان ہدایات کو کچھ اقسام میں تبدیل کیا گیا ہے، جس میں ایک اپنا خیال رکھیں، کورونا سے متعلق آگہی، مصدقہ رپورٹنگ، مثبت رویوں کے فروغ کیلئے رپورٹنگ، طبی عملے اور زیر علاج افراد کے احترام کا لحاظ شامل ہے۔
کورونا وائرس کی اس عالمی وبا کے دوران رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے ہدایات دی گئی کہ وہ باہر نکلتے وقت یا لوگوں سے ملتے وقت ماسک ضرور پہنیں، اس کے علاوہ جتنا ممکن ہوسکے ہاتھ دھوتے رہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی ہدایت دی گئی کہ لوگوں سے ملتے وقت کم سے کم بھی ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں اور اپنے موبائل فون میں کورونا ہیلپ لائن نمبر، محکمہ صحت کے مختص ترجمان کا نمبر، معالج کا نمبر اور اس قریبی شخص کا نمبر رکھیں جس سے ہنگامی صورتحال میں رابطہ کیا جاسکے۔
ساتھ ہی اپنا خیال رکھیں کٹیگری میں جن باتوں کو گریز کرنے سے کہا گیا ہے آنکھ اور ناک یا چہرے کے دوسرے کسی حصے کو چھونے سے گریز کریں، اجتماعات اور مجمع میں لوگوں کے قریب نہ جائیں اور ان نمبرز کو محفوظ رکھنا نہ بھولیں۔
کورونا سے متعلق جن آگہی کے بارے میں ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے ان میں کورونا وائرس کی صورت میں پھیلنے والی نئی بیماری سے متعلق لوگوں تک معلومات پہنچانا شامل ہے۔
اس کے علاوہ ان لوگوں کو موضوع بحث بنائیں جو کورونا سے متاثر ہوئے ہیں، اس کے ساتھ انہیں بھی اسی طرح موضوع بحث بنائیں جو ممکنہ طور پر وائرس یا وبا سے متعلق مفروضات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
مذکورہ ہدایات میں کہا گیا کہ ان لوگوں کے حوالے سے بات کریں جو کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں یا پھر جانبر ہوئے ہیں۔
سی ای جے نے اپنی ہدایات میں کورونا وائرس کی نسب کسی قوم یا خاص مقام کی طرف کرنے سے گریز کرنے کا کہا ہے، ساتھ ہی بتایا گیا کہ اس بیماری کو کووڈ 19 کا نام اس لیے دیا گیا تاکہ اسے کسی قوم، قبیلے یا مقام سے نہ جوڑا جائے۔
ساتھ ہی اس وائرس کے کوڈ کووڈ 19 کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں co سے مراد کورونا، vi سے مراد وائرس، d سے مراد ڈیزیس (بیماری) ہے جبکہ 19 کا ہندسہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بیماری 2019 میں سامنے آئی۔
کورونا وائرس سے متعلق یہ جن باتوں میں احتیاط برتنے کو کہا گیا ہے وہ شبہ کی بنیاد پر کسی کیس کو موضوع بحث بنانا ہے، ساتھ ہی کہا گیا کہ اس بیماری کو کسی جرم یا غیر انسانی اقدام کے طور پر پیش کرنے سے گریز کریں۔
رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بیماری کے علاج کی دریافت کو مرکزی موضوع نہ بنائیں، اس طرح متاثرہ افراد مایوس ہوسکتے ہیں۔
سی ای اے جے مصدقہ رپورٹنگ سے متعلق یہ ہدایات جاری کیں کہ لوگوں کو سائنسی اعداد و شمار اور حکام کی طرف سے آنے والی تجاویز کی روشنی میں کورونا کی سنگینی کے بارے میں بتائیں، اس کے علاوہ کسی بھی تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے وقت احتیاط برتیں اور اس بات کو دیکھ لیں کہ یہ رپورٹ معتبر علمی اور تحقیقی اداروں کی توثیق سے شائع ہوئی یا نہیں۔
مزید برآں حکام یا صحت کی سہولیات سے متعلق مصدقہ اطلاعات آگے پہنچانے کی ہدایت کی گئی۔
تاہم جن چیزوں سے احتیاط کرنے کو کہا گیا ہے اس میں غیرمصدقہ اطلاعات کو دہرانے اور پھیلانے سے گریز کرنے، غیر معتبر اداروں اور افواہ ساز حلقوں کی جاری کردہ معلومات کو بطور حوالہ پیش کرنا شامل ہے۔
علاوہ ازیں محکمہ صحت کے ذمہ داران اور تشخیصی سہولت کے حوالے سے غیرذمہ دارانہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مذکورہ ہدایات میں کہا گیا کہ کورونا سے متعلق بات کرتے وقت مثبت انداز کو اختیار کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے ہدایات کتنی ضروری ہیں جبکہ ایسی تصاویر کا بھی استعمال کیا جائے جو کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کو آسانی سے بیان کرسکتی ہوں۔
تاہم منفی طرز عمل اختیار کرنے کسی کو دھمکی دینے سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے ساتھ ہی صحافیوں کو دوا اور ویکسین کے حصول کے لیے زور دینے سے گریز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
مزید یہ کہ رپورٹنگ پر موجود افراد کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی تصاویر شیئر نہ کریں جو غلط رہنمائی یا غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہوں۔
سی ای جے کی جانب سے صحافیوں کو کہا ہے کہ وہ طبی عملے اور زیر علاج افراد کا احترام کرتے ہوئے مریض اور اس کے تیمار داروں کی راز داری کا خیال کریں۔
اس کے علاوہ اپنے رویے اور روابط کے ذریعے لوگوں میں یہ احساس اجاگر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس سے طبی عملی کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
ساتھ ہی رپورٹرز کو اطلاعات و معلومات کے لیے ہسپتال یا محکمہ صحت کی طرف سے متعین کردہ ذمہ دار سے رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے۔
صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مریض اور ان کے تیمار داروں کی رضا مندی کے بغیر کوئی خبر نشر کرنے سے اجتناب کریں اور طبی عملے کی اہم سرگرمیوں کو بے بنیاد خبروں سے متاثر نہ کریں۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں ہزاروں اموات کا باعث بننے والا مہلک کورونا وائرس پاکستان میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک ماہ کے دوران یہاں کیسز کی تعداد 1100 سے تجاوز کرگئی۔
26 فروری 2020 کو پاکستان میں وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور آج ایک ماہ مکمل ہونے تک ملک میں کورونا وائرس کے مزید 40 نئے کیسز سامنے آنے سے تعداد 1118 ہوگئی ہے۔
اس عالمی وبا نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی ہے اور 21 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 4 لاکھ 74 ہزار سے زائد متاثر ہوچکے ہیں۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
