تازہ ترین
کورونا وائر س کی قہر سامانیاں جاری
دنیا میں کورونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری رہنے کے جمعرات کو وادی کشمیر میں کورونا وائرس میں مبتلاء سرینگر کے مریض کی موت ہوگئی جبکہ معصوم بہن،بھائی کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔مریض کی موت ہونے کیساتھ ہی جے وی سی اسپتال بمنہ سرینگر میں 14نیم طبی عملے کو آئسو لیشن میں رکھا گیا۔ادھر رعناواری اسپتال کے نیم طبی عملے نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اُنہیں کووڈ۔
19مہلک وبا سے نمٹنے کیلئے ضروری میڈیکل کٹس فراہم نہیں کئے جاتے ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کشمیر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں پہلی موت ہوئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ 65سالہ مہلوک شخص،ڈلگیٹ سرینگر میں واقع امراض چھاتی اسپتال (سی ڈی اسپتال) میں زیر علاج تھا۔سیول لائنز کے حیدر پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والا مہلوک شخص تبلیغی جماعت کے ساتھ وابستہ تھا اور انہوں نے انڈونیشیا اور ملائشیا میں ہونے والے تبلییغی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق وہاں سے مہلوک شخص واپسی پر نئی دہلی، اترپردیش اور جموں میں ٹھہرا تھا۔یاد رہے کہ شمالی ضلع بانڈی پورہ میں جن 4 افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ بدھ کے روز مثبت آئے تھے، ان کے مہلوک شخص کے ساتھ قریبی روابطے تھے اور پانچوں نے ایک ساتھ مذہبی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق ’کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی موت جمعرات کی صبح واقع ہوئی، ان کو دل کا دورہ پڑا اور ہماری سخت کوششوں کے باوجود وہ دم توڑ گئے، وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کا بھی شکار تھا‘۔
ادھرجموں وکشمیر انتظامیہ کے ترجمان روہت کنسل نے وادی میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔انہوں نے سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹوئیٹر پراپنے ایک ٹویٹ میں کہا’بری خبر! کورونا وائرس سے پہلی موت، حیدر پورہ سرینگر سے تعلق رکھنے والا65 سالہ شہری چل بسا۔ اس کے رابطے میں آنے والے 4 لوگوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ بدھ کے روز مثبت پائے گئے‘۔ جموں وکشمیر میں اب کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد 10 ہے جن میں سے تین کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ صحتیاب ہو چکے ہیں۔سرینگر سے اُس وقت ایک افسوسناک خبر سامنے آگئی جب 7سالہ اور8 ماہ عمر کے معصوم بھائی،بہن کے جان لیوا ء کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آگئے۔معلوم ہوا ہے کہ نٹی پورہ سے تعلق رکھنے والے شہری کے قریبی رشتہ دار ہیں،کو کورونا پازیٹیو ہیں۔مذکورہ شہری حال میں سعودی عرب سے کشمیر آئے تھے۔سرکاری ترجمان نے روہت کنسل نے اس حوالے سے جانکاری دیتے ہوئے سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا ’سرینگر میں مزید دو ٹیسٹ مثبت آئے،7سالہ اور8ماہ کے بھائی بہن کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے اور دونوں کا تعلق سرینگر سے ہیں۔
یہ اُس شہری کے پوتا،پوتی ہیں،جس کا کورونا ٹیسٹ24مارچ کو مثبت آیا تھا۔اس طرح جموں وکشمیر میں 11ایکٹیوپازیٹیو کیسز ہیں۔دونوں معصوم مریض اس وقت رعناواری اسپتال میں زیر علاج ہیں۔مذکورہ شہری عمر ہ کرنے کے بعد16مارچ کو کشمیر وارد ہوئے تھے۔ادھر مذکورہ مریض کی موت ہونے کیساتھ ہی جے وی سی اسپتال بمنہ سرینگر میں 14نیم طبی عملے کو آئسو لیشن میں رکھا گیا۔پرنسپل جے وی سی کا کہنا ہے کہ احتیاطی اقدامات کے تحت مذکورہ 14پیرا میڈیکل اسٹاف ممبران کو آئسو لیشن میں رکھا گیا،کیونکہ جس مریض کی آج صبح موت ہوئی، دوران علاج ان کا اسکے ساتھ براہ راست رابطہ ہوا تھا۔اس دوران رعناواری اسپتال سرینگر میں تعینات نیم طبی عملے نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اُنہیں معقول اور مناسب میڈیکل کٹس فراہم نہیں کئے جاتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ وہ عالمی وبا جو نہ صرف خطرناک ہے بلکہ جان لیوا بھی ہے،سے فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں،ایسے میں اُنہیں معقول اور منا سب میڈیکل کٹس فراہم کئے جانے چاہئے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
