تازہ ترین
امریکا اور اسپین میں مزید ہلاکتیں، دنیا بھر کورونا سے ایک لاکھ 10ہزار اموات
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک وائرس سے کم از کم ایک لاکھ 10ہزار افراد ہلاک اور تقریباً 18لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں.
کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک تقریباً 18لاکھ افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 10ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
اسپین میں مرنے والوں کی تعداد میں پھر اضافہ
اسپین میںکورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی تھی لیکن اب ایک مرتبہ پھر اس میں اضافہ ہوا ہے اور مزید 619اموات کے بعد ملک میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 16ہزار 972تک پہنچ چکی ہے۔
گزشتہ روز اسپین میں 510اموات ہوئی تھیں جو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مرنے والوں کی سب سے کم تعداد تھی۔
اسپین میں گزشتہ 24گھنٹوں میں کم از کم 5ہزار افراد وائرس کا شکار ہوئے جس کے ساتھ ہی ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک
امریکا دنیا بھر میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے اور جان ہوپکنز یورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں 20ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
امریکا میں نہ صرف سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں بلکہ وائرس سے سب سے زیادہ 5لاکھ 30ہزار افراد بھی امریکا میں ہی متاثر ہوئے ہیں۔
وائرس سے امریکی ریاست نیویارک سب سے زیادہ متاثرہ ہوئی ہے جہاں 24گھنٹوں میں مزید 783اموات ہو چکی ہیں جبکہ اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 80ہزار افراد زد میں آ چکے ہیں۔
بورس جانسن وائرس سے صحتیاب، ہسپتال سے ڈسچارج
کورونا وائرس کا شکار ہونے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن صحتیاب ہو گئے ہیں اور انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا کہ طبی ٹیم کی ہدایت پر وزیراعظم فوری طور پر کام پر واپس نہیں لوٹیں گے لیکن وہ سینٹ تھامس ہسپتال میں شان دار انداز میں خیال رکھنے پر ہر کسی کے شکر گزار ہیں۔
برطانیہ میں 24گھنٹے میں مزید 917افراد ہلاک ہوئے جس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 9ہزار 875 ہوگئی ہے۔
نیدرلینڈز سمیت یورپ میں اموات
اٹلی اور فرانس میں مرنے والوں کی تعداد میں نسبتاً کمی آئی ہے جبکہ آئی سی یو میں موجود مریضوں کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔
اٹلی میں اب تک 19ہزار 468افراد وائرس کی وجہ سے موت کے موت میں جا چکے ہیں جبکہ فرانس میں 13ہزار 832افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
نیدرلینڈز میں بھی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 25ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
ملک میں ایک دن میں مزید 94افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جس کے ساتھ ہی وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 2ہزار 737 ہو گئی ہے۔
نیدرلینڈز کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 188 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 25ہزار 587 ہو گئی ہے۔
ایسٹر کا تہوار متاثر، چرچ ویران
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ لاک ڈاؤن کے باعث مسیحی، ایسٹر کی تقریبات کے لیے چرچز نہ جا سکے جب کہ پوپ فرانسس سمیت دنیا کے متعدد ممالک کے پادریوں نے ایسٹر کی عبادات میں آن لائن شرکت کی۔
مسیحیوں کے لیے ایسٹر انتہائی مقدس اور اہم دن ہوتا ہے اس دن کو کرسمس کے بعد سب سے اہم دن مانا جاتا ہے، مسیحی برادری کے عقیدے کے مطابق اس دن کو موسم بہار میں یسوع مسیح کے زندہ ہونے کی یاد میں منایا جاتا ہے اور اس دن کو جی اٹھنے کا دن بھی کہا جاتا ہے۔
ایسٹر کے موقع پر ہر سال مسیحی چرچز میں جاکر عبادات کرتے ہیں جب کہ مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس بھی اس دن خصوصی خطاب کرتے ہیں۔
گزشتہ سال پوپ فرانسس کی جانب سے ویٹی کن سٹی کے سینٹ پیٹر اسکوائر پر کیے گئے ایسٹر کے خطاب میں تقریبا 70 ہزار افراد نے شرکت کی تھی اور اس بار کورونا وائرس کی وجہ سے انہوں نے خالی میدان میں خطاب کیا۔
اس بار دنیا بھر کے ایک ارب 30 کروڑ مسیحی پیروکار لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایسٹر کی تقریبات میں شرکت کے لیے چرچز جانے سے قاصر ہیں اور پادریوں نے آن لائن عبادات کا اہتمام کر رکھا ہے۔
جہاں دنیا بھر کے عوام اس موقع پر احتیاط سے کام لے رہے ہیں ہانک کانگ کے عوام لاک ڈاؤن اور پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ساحل سمندر اور سڑکوں پر گھومتے نظر آئے۔
ہانک کانگ میں ہزاروں لوگ سڑکوں اور ساحل سمندر پر
ہانک کانگ میں چار سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود ہجوم کی شکل میں عوام سڑکوں اور ساحل سمندر پر ساحل پر گھومتے ہوئے نظر آئے۔
ہانک کانگ کے عوام کا یہ رویہ انتہائی حیران کن ہے کیونکہ 74لاکھ آبادی کے حامل شہر کے عوام نے نظم و ضبط اور وائرس پہننے کے حوالے سے حکومتی پابندیوں پر مکمل عمل کیا تھا۔
ایک 24سالہ مقامی شخص نے کہا کہ ہم مستقل گھروں می قید ہیں جو بہت بورنگ ہے، ہم سماجی جانور ہیں، ہم تفریح کے لیے باہر نکلنا چاہتے ہیں، ہم نے اپنے اور دوسروں کے لیے تمام حفاظتہ تدابیر اپنائیں اور اب گھر سے نکلنے میں کوئےی مسئلہ نہیں۔
ہانک کانگ میں اب تک ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور 4افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر پرتگال کے کھلاڑیوں نے وائرس کے سبب کھیلوں کی سرگرمیاں بند ہونے اور معاشی بھران کے سبب اپنی 40فیصد تنخواہ کٹوانے کا اعلان کیا ہے۔
ایران ہلاکتوں کا سلسلہ جاری
دوسری جانب ایران میں بھی مستقل ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور مزید 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 4ہزار 474 ہو گئی ہے۔
اسلامئ جمہوریہ ایران کے وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور اب تک ملک میں 74ہزار 686 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ مزید 117 امواتے کے ساتھ کرنے والوں کی تعداد 4ہزار 474 ہو گئی ہے۔
انڈونیشیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ 399 کیسز کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 4ہزار 241ہو گئی ہے۔
ملئیشیا میں بھی مزید 153نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد وائرس کے متاثرین کی تعداد 4ہزار 683 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں مزید تین اموات کے بعد ملک میں رنے والوں کی تعداد 76ہو گئی ہے۔
فلپائن میں مرنے والے کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور ایک دن میں 50افراد لقمہ اجل بن گئے۔
فلپائن میں اب تک کورونا وائرس سے 297 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ وزارت صحت کے مطابق ملک میں 220نئے کیسز کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4ہزار 648 ہو گئی ہے۔
چین کے شہر ہاربن میں غیرملکیوں 28دن قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ
چین کے شمال مشرقی شہر ہاربن میں بیرون ملک سے آئے کیسز تیزی سے رپورٹ ہونے کے بعد ‘ہاربن شہر’ میں بیرون ملک سے آںے والوں کو 28دن کیلئے قرنطینہ کرنے کا فیصلہ گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ روس کی سرحد سے متصل شہر میں ابتدائی طور پر بیرون ملک سے آنے والوں کو 14دن قرنطینہ میں رکھا جائے گا جس کے بعد ان لوگوں کو مزید 14دن گھروں میں رہنا ہوگا۔
ادھر چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک عرصے کے بعد سینئر اسکول کو کھول دیا جائے گا۔
سینئر ہائی اسکول کے طلبا 27اپریل سے اسکول جائیں گے جبکہ مڈل اسکول کے سینئر طلبہ 11مئی سے جا سکیں گے۔
بھارت کا لاک ڈاؤن میں اضافے کا فیصلہ
بھارت نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر گزشتہ ماہ لگائے گئے لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارت نے گزشتہ ماہ ملک بھر میں 15اپریل تک 21روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا اور اب اس میں مزید توسیع کیا جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت منعقدہ ویڈیو کانفرنس میں تمام ریاستوں کے وزرا نے شرکت کی اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا مطالبہ کیا۔
دارالحکومت نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجروال نے کہا کہ مودی نے لاک ڈاؤن میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں کہ لاک ڈاؤن میں کب تک توسیع کی جائے گی۔
بھارت میں ابتدائی طور پر کورونا وائرس کے انتہائی کم کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن لاک ڈاؤن کے باوجود خصوصاً گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد حکومت لاک ڈاؤن میں اضافے پر مجبور ہو گئی۔
اتوار کو بھارت میں مزید 909کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 8ہزار 356افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
بھارت میں اتوار کو مزید 34افراد کی موت ہوئی جس کے بعد ملک میں مرنے والوں کی تعداد 325 ہو گئی ہے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
