تازہ ترین
امریکا اور اسپین میں مزید ہلاکتیں، دنیا بھر کورونا سے ایک لاکھ 10ہزار اموات
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک وائرس سے کم از کم ایک لاکھ 10ہزار افراد ہلاک اور تقریباً 18لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں.
کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک تقریباً 18لاکھ افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 10ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
اسپین میں مرنے والوں کی تعداد میں پھر اضافہ
اسپین میںکورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی تھی لیکن اب ایک مرتبہ پھر اس میں اضافہ ہوا ہے اور مزید 619اموات کے بعد ملک میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 16ہزار 972تک پہنچ چکی ہے۔
گزشتہ روز اسپین میں 510اموات ہوئی تھیں جو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مرنے والوں کی سب سے کم تعداد تھی۔
اسپین میں گزشتہ 24گھنٹوں میں کم از کم 5ہزار افراد وائرس کا شکار ہوئے جس کے ساتھ ہی ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک
امریکا دنیا بھر میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے اور جان ہوپکنز یورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں 20ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
امریکا میں نہ صرف سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں بلکہ وائرس سے سب سے زیادہ 5لاکھ 30ہزار افراد بھی امریکا میں ہی متاثر ہوئے ہیں۔
وائرس سے امریکی ریاست نیویارک سب سے زیادہ متاثرہ ہوئی ہے جہاں 24گھنٹوں میں مزید 783اموات ہو چکی ہیں جبکہ اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 80ہزار افراد زد میں آ چکے ہیں۔
بورس جانسن وائرس سے صحتیاب، ہسپتال سے ڈسچارج
کورونا وائرس کا شکار ہونے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن صحتیاب ہو گئے ہیں اور انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا کہ طبی ٹیم کی ہدایت پر وزیراعظم فوری طور پر کام پر واپس نہیں لوٹیں گے لیکن وہ سینٹ تھامس ہسپتال میں شان دار انداز میں خیال رکھنے پر ہر کسی کے شکر گزار ہیں۔
برطانیہ میں 24گھنٹے میں مزید 917افراد ہلاک ہوئے جس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 9ہزار 875 ہوگئی ہے۔
نیدرلینڈز سمیت یورپ میں اموات
اٹلی اور فرانس میں مرنے والوں کی تعداد میں نسبتاً کمی آئی ہے جبکہ آئی سی یو میں موجود مریضوں کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔
اٹلی میں اب تک 19ہزار 468افراد وائرس کی وجہ سے موت کے موت میں جا چکے ہیں جبکہ فرانس میں 13ہزار 832افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
نیدرلینڈز میں بھی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 25ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
ملک میں ایک دن میں مزید 94افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جس کے ساتھ ہی وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 2ہزار 737 ہو گئی ہے۔
نیدرلینڈز کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 188 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 25ہزار 587 ہو گئی ہے۔
ایسٹر کا تہوار متاثر، چرچ ویران
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ لاک ڈاؤن کے باعث مسیحی، ایسٹر کی تقریبات کے لیے چرچز نہ جا سکے جب کہ پوپ فرانسس سمیت دنیا کے متعدد ممالک کے پادریوں نے ایسٹر کی عبادات میں آن لائن شرکت کی۔
مسیحیوں کے لیے ایسٹر انتہائی مقدس اور اہم دن ہوتا ہے اس دن کو کرسمس کے بعد سب سے اہم دن مانا جاتا ہے، مسیحی برادری کے عقیدے کے مطابق اس دن کو موسم بہار میں یسوع مسیح کے زندہ ہونے کی یاد میں منایا جاتا ہے اور اس دن کو جی اٹھنے کا دن بھی کہا جاتا ہے۔
ایسٹر کے موقع پر ہر سال مسیحی چرچز میں جاکر عبادات کرتے ہیں جب کہ مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس بھی اس دن خصوصی خطاب کرتے ہیں۔
گزشتہ سال پوپ فرانسس کی جانب سے ویٹی کن سٹی کے سینٹ پیٹر اسکوائر پر کیے گئے ایسٹر کے خطاب میں تقریبا 70 ہزار افراد نے شرکت کی تھی اور اس بار کورونا وائرس کی وجہ سے انہوں نے خالی میدان میں خطاب کیا۔
اس بار دنیا بھر کے ایک ارب 30 کروڑ مسیحی پیروکار لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایسٹر کی تقریبات میں شرکت کے لیے چرچز جانے سے قاصر ہیں اور پادریوں نے آن لائن عبادات کا اہتمام کر رکھا ہے۔
جہاں دنیا بھر کے عوام اس موقع پر احتیاط سے کام لے رہے ہیں ہانک کانگ کے عوام لاک ڈاؤن اور پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ساحل سمندر اور سڑکوں پر گھومتے نظر آئے۔
ہانک کانگ میں ہزاروں لوگ سڑکوں اور ساحل سمندر پر
ہانک کانگ میں چار سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود ہجوم کی شکل میں عوام سڑکوں اور ساحل سمندر پر ساحل پر گھومتے ہوئے نظر آئے۔
ہانک کانگ کے عوام کا یہ رویہ انتہائی حیران کن ہے کیونکہ 74لاکھ آبادی کے حامل شہر کے عوام نے نظم و ضبط اور وائرس پہننے کے حوالے سے حکومتی پابندیوں پر مکمل عمل کیا تھا۔
ایک 24سالہ مقامی شخص نے کہا کہ ہم مستقل گھروں می قید ہیں جو بہت بورنگ ہے، ہم سماجی جانور ہیں، ہم تفریح کے لیے باہر نکلنا چاہتے ہیں، ہم نے اپنے اور دوسروں کے لیے تمام حفاظتہ تدابیر اپنائیں اور اب گھر سے نکلنے میں کوئےی مسئلہ نہیں۔
ہانک کانگ میں اب تک ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور 4افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر پرتگال کے کھلاڑیوں نے وائرس کے سبب کھیلوں کی سرگرمیاں بند ہونے اور معاشی بھران کے سبب اپنی 40فیصد تنخواہ کٹوانے کا اعلان کیا ہے۔
ایران ہلاکتوں کا سلسلہ جاری
دوسری جانب ایران میں بھی مستقل ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور مزید 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 4ہزار 474 ہو گئی ہے۔
اسلامئ جمہوریہ ایران کے وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور اب تک ملک میں 74ہزار 686 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ مزید 117 امواتے کے ساتھ کرنے والوں کی تعداد 4ہزار 474 ہو گئی ہے۔
انڈونیشیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ 399 کیسز کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 4ہزار 241ہو گئی ہے۔
ملئیشیا میں بھی مزید 153نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد وائرس کے متاثرین کی تعداد 4ہزار 683 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں مزید تین اموات کے بعد ملک میں رنے والوں کی تعداد 76ہو گئی ہے۔
فلپائن میں مرنے والے کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور ایک دن میں 50افراد لقمہ اجل بن گئے۔
فلپائن میں اب تک کورونا وائرس سے 297 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ وزارت صحت کے مطابق ملک میں 220نئے کیسز کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4ہزار 648 ہو گئی ہے۔
چین کے شہر ہاربن میں غیرملکیوں 28دن قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ
چین کے شمال مشرقی شہر ہاربن میں بیرون ملک سے آئے کیسز تیزی سے رپورٹ ہونے کے بعد ‘ہاربن شہر’ میں بیرون ملک سے آںے والوں کو 28دن کیلئے قرنطینہ کرنے کا فیصلہ گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ روس کی سرحد سے متصل شہر میں ابتدائی طور پر بیرون ملک سے آنے والوں کو 14دن قرنطینہ میں رکھا جائے گا جس کے بعد ان لوگوں کو مزید 14دن گھروں میں رہنا ہوگا۔
ادھر چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک عرصے کے بعد سینئر اسکول کو کھول دیا جائے گا۔
سینئر ہائی اسکول کے طلبا 27اپریل سے اسکول جائیں گے جبکہ مڈل اسکول کے سینئر طلبہ 11مئی سے جا سکیں گے۔
بھارت کا لاک ڈاؤن میں اضافے کا فیصلہ
بھارت نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر گزشتہ ماہ لگائے گئے لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارت نے گزشتہ ماہ ملک بھر میں 15اپریل تک 21روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا اور اب اس میں مزید توسیع کیا جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت منعقدہ ویڈیو کانفرنس میں تمام ریاستوں کے وزرا نے شرکت کی اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا مطالبہ کیا۔
دارالحکومت نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجروال نے کہا کہ مودی نے لاک ڈاؤن میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں کہ لاک ڈاؤن میں کب تک توسیع کی جائے گی۔
بھارت میں ابتدائی طور پر کورونا وائرس کے انتہائی کم کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن لاک ڈاؤن کے باوجود خصوصاً گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد حکومت لاک ڈاؤن میں اضافے پر مجبور ہو گئی۔
اتوار کو بھارت میں مزید 909کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 8ہزار 356افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
بھارت میں اتوار کو مزید 34افراد کی موت ہوئی جس کے بعد ملک میں مرنے والوں کی تعداد 325 ہو گئی ہے۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
