تازہ ترین
جموں وکشمیر میں عالمگیر وبا کورونا وائرس کی رفتار تیز
جموں وکشمیر میں متوفین کی تعداد بڑھ کر31ہوگئی ،کشمیر میں یہ تعداد26تک پہنچ گئی
سرینگر;241;جموں وکشمیر میں جاری لاک ڈاءون کے باوجود کورونا وائرس انفیکشن کی رفتارتیز رہنے کے بیچ کورونا وائر س میں مبتلاء جنوبی ضلع شوپیان کا 45سالہ شہری،پلوامہ کا70سالہ شہری اور ڈوڈہ ضلع کا72سالہ شہری کی سوموار کو موت ہوگئی ۔
ان دونوں اموات کیساتھ جموں وکشمیر میں مرنے والے والے افراد کی تعداد بڑھ کر31ہوگئی ،جن میں 27اموات کشمیر میں ہوئیں ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق پوری دنیا کورونا کے قہر سے پریشان ہے اور ہندوستان بھی لگاتار کورونا انفیکشن کے نئے معاملوں کی وجہ سے بے حال ہوا جا رہا ہے ۔
اس وبا کو کم کرنے کے لیے ہندوستان میں لاک ڈاوَن بھی نافذ کیا گیا تھا اور جموں وکشمیر میں اس لاک ڈاوَن کے71دن گزر جانے کے بعد بھی اس کی رفتار کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ جب کہ جموں وکشمیر میں اموات کا خطر ناک سلسلہ بھی جاری ہے ۔ سوموار کو کشمیر اور جموں میں 2انسانی جانوں کا اتلاف ہوا ۔ اس سلسلے میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق شوپیان ضلع کے رامنگری علاقے کے ایک باشندے کوسکمز میں کئی امراض کے علاج کیلئے31مئی کو اسپتال کے شعبہ ایمر جنسی رات 9بجے داخل کیا گیا تھا ۔
میڈیکل سپر انٹنڈنٹ پروفیسر فاروق جان نے کے این ایس کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے پر مریض کی حالت سدھر گئی تھی جس کے بعد کورونا میں مبتلاء ہونے کے شبہ کے پیش نظر اْسے وارڈ2 میں داخل کیا گیا، جہاں اْس کے نمونے حاصل کئے گئے ۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ شب کے دوران مذکورہ مریض کی موت واقع ہوگئی جس کے بعد آج اْس کی ٹیسٹ رپورٹ سوموار دوپہر2بجے مثبت آگئی ۔ ڈاکٹر جان کے مطابق اس دوران جاں بحق شہری کی میت کو لاش گھر کے اندر رکھا گیا تھا ۔
اسی طرح صوبہ جموں کے ضلع ڈوڈہ ، کا ایک شہری جو جی ایم سی جموں میں زیر علاج تھا، بھی کورونا میں مبتلاء ہوکر دم توڑ بیٹھا ۔ جی ایم سی جموں کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ، ڈاکٹر دارا سنگھ نے مقامی انگریزی خبررساں ادارے جی این ایس کو بتایا کہ ڈوڈہ کے شہری کا کورونا ٹیسٹ گذشتہ روز مثبت آیا تھا اور وہ آج انتقال کرگیا ۔ ان کا کہناتھا کہ مریض مختلف امراض میں مبتلاء تھا ۔ شوپیان،پلوامہ اور ڈوڈہ اضلاع کے3شہریوں کے انتقال سے کورونا سے مرنے والوں کی تعداد31ہوگئی ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ایک70سالہ شہری کی موت ہوگئی ۔ ضلع اسپتال پلوامہ کے ڈپٹی میڈیکل اسپر انٹنڈنٹ ،ڈاکٹر میر مشتاق احمد نے بتایا کہ سوموار کی صبح 70ایک شہری کو مردہ حالت میں اسپتال پہنچایا ۔ کووڈ ۔ 19پروٹول کے تحت اسکے نمونے ٹیسٹ کےلئے لئے گئے ،جسکی رپورٹ مثبت آئی ۔
نعش کو لاش خانہ میں رکھا گیا اور کووڈ ۔ 19پروٹوکول کے تحت لواحقین کے سپرد کی گئی ۔ صوبہ کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 27اور صوبہ جموں میں ہلاکتوں کی تعداد 4تک پہنچ گئی ۔ متوفین میں 7کا تعلق سرینگر سے،5کا تعلق بارہمولہ،5کا تعلق اننت ناگ،4کا تعلق کولگام،2کا تعلق شوپیان ،2کا تعلق بڈگام اور ایک کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے جبکہ پلوامہ میں پہلی ہلاکت ہوئی ۔
باقی ماندہ4 مہلوکین کا تعلق صوبہ جموں سے تھا،جن میں سے ایک کا تعلق ادھمپور سے ہے ۔ یاد اتوار شام تک پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے105نئے مثبت معاملات سامنے آئے تھے جن میں سے90کا تعلق کشمیر صوبے سے اور15 کا تعلق جموں صوبے سے تھا اور اس طرح مثبت معاملات کی کل تعداد2446تک پہنچ گئی تھی ۔ ادھر سہ پہر 3نجے تک وادی کشمیر میں مزید41مثبت کیس سامنے آئے تھے ۔
ذراءع کے مطابق 33افراد کے کورونا ٹیسٹ سی ڈی اسپتال سے مثبت آئے جبکہ8میڈیکل انسٹی چیوٹ صورہ سے آئے تھے ۔ تین بجے تک کولگام سے7،اننت ناگ سے 8،بارہمولہ سے4،سرینگر سے ایک ،شوپیان سے3،پلوامہ سے3اور گاندربل سے2مریضوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ۔ اسی طرح سکمز سے جن مریضوں کے 8ٹیسٹ مثبت آئے ،ان کا تعلق بارہمولہ ،سرینگر سے ہے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
