تازہ ترین
لاک ڈاؤن میں عیدالاضحی کی تیاری کس طرح کریں؟
عیدالفطر کی بہ نسبت عیدالاضحی کے موقع پر گھریلو خواتین کو زیادہ وقت کچن میں گزارنا پڑتا ہے۔ مگر اس مرتبہ کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن پر عمل کرنا اور جسمانی دوری کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے ساری احتیاطی تدابیر کے ساتھ سادگی سے بقرعید منائی جائے
عید کا ذکر سنتے ہی خواتین کے ذہن میں تیاری آتی ہے۔ عیدالفطر کی بہ نسبت عیدالاضحی کے موقع پر گھریلو خواتین کو زیادہ وقت کچن میں گزارنا پڑتا ہے۔ اس مرتبہ سوشل ڈسٹنسنگ کی وجہ سے دعوتوں کا دور محدود رہنے کا امکان ہے۔ قربانی کے جانور خریدنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس کے علاوہ لاک ڈاؤن کے سبب بیشتر لوگوں کے معاشی حالات بہتر نہ ہونے کے سبب اس مرتبہ ہمیشہ کی طرح جوش و خروش نظر نہیں آرہا ہے۔ ان باتوں سے ہرگز مایوس نہ ہوں بلکہ سادگی سے عید منانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ صاحبِ حیثیت ہیں اور قربانی کر رہے ہیں تو اس میں غریب پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو ضرور شامل کریں۔ ان پریشانیوں کے باوجود آپ کوشش کریں تو بہتر انداز میں بقر عید منا سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ پہلے کی طرح ڈھیر سارے پکوانوں کی تیاری نہ ہو مگر چند لذیذ پکوان تو تیار ہی کئے جاسکتے ہیں۔ گھر کی صاف صفائی پر بھی خصوصی توجہ بھی دی جاسکتی ہے۔
اس لئے اگر پیشگی کچھ تیاریاں کر لی جائیں تو عید پر تھکن سے بچا جا سکتا ہے۔ ملبوسات کے علاوہ بقر عید کے پکوان کی بھی چھوٹی موٹی تیاریاں عید سے پہلے کر کے رکھی جا سکتی ہیں۔ جیسے گھر کے تمام افراد کے عید کے دن زیب تن کئے جانے والے ملبوسات پہلے سے استری کر کے رکھ لیں۔ اس طرح عید کے دن یا اس سے قبل استری کے کام سے بچ جائیں گی۔ اسی طرح سب افراد کے جوتے، سینڈل، چپل وغیرہ بھی عید سے ایک دن قبل نکال لیں۔ اپنی اور بچیوں کی چوڑیاں، زیورات، کلپ وغیرہ بھی ایک جگہ نکال لیں، تاکہ عید کے دن تیاری میں زیادہ وقت نہ لگے۔
ہوسکتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح کپڑوں کی خریداری نہیں ہوئی ہوگی مگر اداس نہ ہوں، اپنے سے کمتر کی جانب دیکھیں اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ انہوں نے ہمیں کئی نعمتوں سے نوازا ہے۔ آپ چاہے پچھلے سال کا عید کا جوڑا نکال کر اس کو دھو کر استری کرکے پہن سکتے ہیں۔ ایک عید ایسی بھی منائیں کہ یادگار بن جائے اور یقین مانیں کہ ایسا کرنا خوشی کا ہی باعث ہوگا۔
بقرعید کے موقع پر قربانی کے حوالے سے بھی خواتین کی خاصی مصروفیات رہتی ہیں۔ گوشت کے خصوصی پکوانوں کی تیاری سے پہلے ایک اہم مرحلہ قربانی کے گوشت کی تقسیم کا ہوتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ عین عید کے روز اس حوالے سے خاصی ہاپا دھاپی رہتی ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ گوشت کی تقسیم کے لئے سب رشتے داروں کے ناموں کی ایک فہرست بنالیں، تھیلیاں، ناموں کی پرچیاں، مارکر، ربر بینڈ، اسٹیپلر وغیرہ کا بندوبست کر لیں۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر خواتین کا بیشتر وقت باورچی خانے کی نذر ہو جاتا ہے اور اس دوران ظاہر ہے نئے کپڑے پہننے سے عموماً گریز کیا جاتا ہے۔ کپڑے خراب ہونے سے بچانے کے لئے اس موقعے پر ایپرن کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گوشت کو جلد گلانے کے لئے کچے پپیتے کا استعمال خاصا کارگر رہتا ہے۔ اس لئے اسے دھو کر کاٹ لیں اور چھلکے سمیت پیس کر رکھ لیں۔ اضافی مقدار ہوا بند ڈبے میں رکھ کر فریز کر لیں۔ ادرک، لہسن بھی پیس کر فریز کرلیں۔ برف کے چھوٹے ٹکڑے جمانے کی ٹرے میں بھی ادرک لہسن جما سکتی ہیں۔ جب یہ جم جائے تو اسے ایک تھیلی میں نکال کر بھی فریج میں رکھا جا سکتا ہے، پھر سہولت سے ایک یا دو ٹکڑے سالن میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ تو ہر خاتون خانہ جانتی ہی ہے کہ اگر پیاز لال کی ہوئی ہو تو ہنڈیا پکانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اس لئے بقرعید کے لئے بھی خصوصی طور پر زیادہ مقدار میں پیاز لال کر کے رکھ لیں۔ اس کے ساتھ بقرعید پر دہی کا استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے لئے آپ گھر میں دہی جما کر پلاسٹک کی تھیلیوں میں پیکٹ بنا کر فریج میں رکھ لیں، پھر جب بھی ضرورت پڑے توکچھ دیر پہلے نکال کر پانی میں بھگو دیں، تو دہی قابل استعمال ہو جائے گی۔
کھانوں میں تیار مسالوں کے بڑھتے ہوئے رواج کے باوجود آج بھی بہت سی خواتین تمام مسالے اپنے ہاتھ سے تیار کرتی ہیں۔ اس سے ایک طرف وہ من چاہا ذائقہ حاصل کر لیتی ہیں، تو دوسری طرف مہنگائی کے دور میں خاصی کفایت بھی ہو جاتی ہے۔
بقرعید کیلئے ایسے تمام مسالے بھی پہلے سے تیار کر کے رکھے جاسکتے ہیں تاکہ باربار مسالے نہ بنانے پڑیں۔ تندوری مسالا بھی آپ پہلے سے تیار کر کے رکھ سکتی ہیں۔ اس کے لئے نمک (دو چھوٹے چمچے)، پسی ہوئی لال مرچ (چار چھوٹے چمچے)، زردے کا رنگ (آدھا چھوٹا چمچہ سے کم)، پسا ہوا دھنیا (دو چھوٹے چمچے)، پسا ہوا گرم مسالا (دو چھوٹے چمچے) اور ہلدی (آدھا چھوٹے چمچے) ملا کر رکھ لیں۔
یہ مقدار ایک کلو گوشت کے لئے کافی ہے۔ اگر گوشت کی مقدار زیادہ ہو تو پھر اسی اعتبار سے اجزاء کی مقدار بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔ تیاری کے وقت گوشت میں یہ مسالا کچا پپیتا، ادرک، لہسن، دہی اور لیموں کا رس ملا کر رکھ دیں۔ چند گھنٹوں بعد ہلکی آنچ پر پکائیں۔ یہ فرنچ فرائز، رائتے کے ساتھ بہت مزہ دیتا ہے(انقلاب)
دنیا
ریاض ہوائی اڈے پر دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی
ریاض، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو دو الگ الگ حملوں میں تین سعودی شہریوں کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف ممالک کے متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے یہ اطلاع دی۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
سعودی فضائی نقل و حمل اتھارٹی کے مطابق، پہلا حملہ ہوائی اڈے کے احاطے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ دوسرا حملہ سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے پر ہوا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی، تاہم فضائی ٹریفک کو جلد معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
