تازہ ترین
محدود عازمین کے ساتھ مناسک حج کا آغاز
طواف قدوم کے بعد عازمین کے قافلے منی روانہ، حاجیوں نے اپنا ئے احتیاطی تدابیر
خبراردو:-
سرینگر:کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سعودی عرب میں حاجیوں کی محدود تعداد کے ساتھ مناسک حج کا آغاز ہوگیا ہے اور ایک ہزار کے قریب عازمین نے مکہ مکرمہ کے باہر وادی منیٰ کا رخ کرنا شروع کردیا۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق یومِ ترویہ کے ساتھ ہی مناسک حج کا آغاز ہوگیا اور حجاج کرام جمعرات (30 جولائی) کے طلوع آفتاب تک اپنا وقت عبادت میں صرف کریں گے۔خیال رہے کہ منیٰ، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے شمال مشرق سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور عام طور پر دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی ہے جہاں 25 لاکھ حاجیوں کی رہائش کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔
تاہم عالمی وبا کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے رواں برس حاجیوں کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے اور صرف سعودی شہری یا سعودی عرب میں موجود تارکین وطن ہی شرکت کررہے ہیں۔تقریباً ایک ہزار عازمینِ حج، آج (29 جولائی کو) حج کے آغاز کے لیے مکہ مکرمہ کے باہر واقع وادی منیٰ کا رخ کررہے ہیں۔
رواں برس حج کے لیے منتخب ہونے والے افراد کے مکہ مکرمہ پہنچنے پر درجہ حرارت چیک کیا گیا تھا اور مکہ مکرمہ میں آمد پر انہیں قرنطینہ کیا گیا تھا جبکہ ہیلتھ ورکرز نے ان کے سامان کو سینیٹائز کیا تھا۔علاوہ ازیں صحت و تحفظ کے عملے نے مسجدالحرام میں مطاف کے حصے کو جراثیم سے پاک کیا جبکہ رواں برس حج حکام کی جانب سے کورونا وائرس کے خدشات کے باعث خانہ کعبہ کے گرد رکاوٹیں لگائیں گئی ہیں اور حاجیوں کو خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں دی گئی۔علاوہ ازیں حکام نے عازمینِ حج کی دیکھ بھال کے لیے طبی مراکز، موبائل کلینکس اور ایمبولینسز بھی قائم کی ہیں جبکہ حاجیوں کے لیے ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ اختیار کرنا لازم ہے۔
خیال رہے کہ مکہ مکرمہ میں آمد سے قبل تمام عازمین کے لیے کورونا وائرس کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا تھا اور فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد انہیں قرنطینہ کیا جائے گا۔سعودی عرب کے ڈائریکٹر پبلک سیکیورٹی خالد بن قرار الحربی نے کہا کہ اس حج میں سیکیورٹی سے متعلق خدشات نہیں ہیں لیکن عازمینِ حج کی تعداد میں کمی انہیں عالمی وبا کے خطرے سے بچانے کے لیے ہیں۔جمعرات کے روز حجاج کرام، خطبہ حج سننے کے لیے میدان عرفات کا رخ کریں گے، اس کے بعد وہ مزدلفہ جائیں گے اور جمرات کے لیے منیٰ واپسی سے قبل وہاں رات بھر قیام کریں گے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ریاستی میڈیا نے ہیلتھ ورکرز کا سامان سینیٹائز کرتے ہوئے اور کچھ حاجیوں کو الیکٹرانک رسٹ بینڈز دیتے ہوئے دکھایا تاکہ حکام ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کرسکیں۔علاوہ ازیں سعودی حکومت کی جانب سے مکہ مکرمہ تک رسائی سخت کیے جانے کے باعث رواں برس غیر ملکی پریس کو حج کی کوریج سے روک دیا گیا ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق یوم ترویہ (پانی بھرنے کے دن) ماضی میں مشاعر میں مٹی کے برتنوں میں آب زمزم رکھا جاتا تھا اور حجاج کرام ترویہ کے روز اپنی پیاس وہاں سے بجھاتے تھے تاہم اب 8 ذی الحج کو یوم ترویہ کا طریقہ کار تبدیل ہوچکا ہے۔سعودی حکومت کی جانب سے مناسک حج کے تمام مقامات پر زمزم فراہم کرنے کے لیے پانی کے کولر نصب کیے گئے ہیں مگر اس بار کورونا وائرس کے باعث ان کولرز کو ہٹا دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے وزارت صحت کے وضع کردہ ایس اوپیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے حج کے دوران علیحدہ سے آب زمزم کولرز یا ٹینکیوں میں رکھنے کے بجائے حجاج کرام کو پیک کی گئی بوتلوں میں دیا جائے گا اور ایک فرد کے لیے ایک بوتل ہوگی جسے ایک وقت میں پیا جاسکتا ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ ملک میں موجود ایک ہزار حاجیوں کو حج کی اجازت دی جائے گی لیکن مقامی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ10 ہزار افراد کو فریضہ حج کی ادائیگی کی اجازت دی جائے گی۔سعودی وزارت حج کی دستاویز کے مطابق عازمینِ حج کو سہولت کٹس بھی فراہم کی گئی ہیں جس میں جمرات کے لیے سینیٹائزڈ کنکریاں، ڈِس انفیکٹنٹس، ماسک، جائے نماز اور احرام شامل ہیں۔
علاوہ ازیں سعودی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں امارتی حاجی عبداللہ الکھتیری نے کہا کہ میں نے توقع نہیں کی تھی کہ لاکھوں مسلمانوں میں سے مجھے منظوری سے نوازا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل بیان احساس ہے خاص طور پر اس لیے کہ یہ میرا پہلا حج ہے۔اس حوالے سے وزارت حج کا کہنا ہے کہ سعودی شہریوں کے علاوہ 160 ممالک کے شہریوں نے آن لائن سیلیکشن میں حصہ لیا تھا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے افراد نے آن لائن درخواست دی تھی۔
دوسری جانب کچھ مایوس کن درخواست گزاروں نے شکایت کی ہے کہ حکومتی قرعہ اندازی کا واضح خاکہ نہیں تھا اور ان کی درخواست مسترد ہونے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔سعودی وزارت حج کو مسترد کیے گئے درخواست گزاروں کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شکایات کا سامنا ہے لیکن سعودی وزیر برائے حج و عمرہ امور محمد صالح بن طاہر بنتن نے اصرار کیا ہے کہ انتخاب کا عمل شفاف تھا۔انہوں نے العربیہ ٹیلی ویڑن کو بتایا کہ صحت کا تعین کرنے والے افراد نے حج کے لیے لوگوں کے انتخاب کی بنیاد تشکیل دی تھی۔
عالمی وبا کے باوجود کئی عازمین حج رواں برس ہجوم کے بڑے حج میں شرکت کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ عام طور پر حج کے دوران کچھ حاجی بیمار ہوجاتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بننے کے خدشے کے باعث حج کو محدود کیا لیکن یہ اقدام سعودی عرب کے معاشی بحران کو بڑھادے گا۔مختلف ممالک میں ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤنز کے باعث عالمی سطح پر طلب میں کمی سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کی وجہ سے سعودی عرب مشکلات کا شکار ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے مکہ میں حج سے متعلق کاروبار متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کی ملازمتوں پر بھی اثر پڑا ہے۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب نے رواں برس حج کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام کی تعداد کو محدود کردیا اور اس حوالے سے متعدد قواعد و ضوابط جاری کیے گئے جن کے مطابق نماز اور طواف کے دوران خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حج کے درمیان منتظمین کے لیے طواف کے دوران ہجوم میں کمی کے لیے عازمین حج کو تقسیم کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہر شخص کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہوگا۔
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
